تازہ ترین

جہیزاور بارات کا تصور،نقصانات اور حل

اصلاحِ معاشرہ

تاریخ    15 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


شفیق احمد آئمی
بھاری بھرکم بارات کا بوجھ  : آج کل شادیوں میں کئی کئی سو افراد کی بارات لیکر جانا عام بات ہے جس کا رہنے اور کھانے کا پورا انتظام لڑکی والوں کو کرنا ہوتا ہے۔بھاری بھرکم بارات کا تصور لڑکی والوں کے لیے خواہ مخواہ کا وہ ناروا بوجھ ہے جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ معاشرے کا وہ ناجائز رواج ہے جو لڑکی والوں کے لیے ایسا تصور ہے جس نے زمانہ جاہلیت کی طرح لڑکی کی پیدائش کو غم و اندوہ اور ماتم و شیون والی چیز بنادیا ہے جس کو اسلام نے آکر مٹایا تھا اور لڑکی کی پیدائش کو بھی اللہ کی نعمت قرار دیا تھا۔ بارات کے ناروا بوجھ اور دیگر رسم ورواج کے اغلال و سلاسل نے ایک اسلامی معاشرے کو دوبارہ قبل از اسلام کے جاہلی معاشرے میں تبدیل کر دیا ہے۔ اور قرآن کریم نے(سورہ النحل میں) اسلام کی نعمت سے محروم جاہلی معاشرے کی جو یہ کیفیت بیان کی ہے ۔ ترجمہ:’’جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وغم و غصے سے بھرا ہوتا ہے۔‘‘
غیر ضروری رسموں کی بیڑیاں  :یہی کیفیت ہمارے پاک و ہند کے مسلمان معاشروں کی ہوگئی ہے۔ اور اس کی وجہ صرف وہی رسوم ورواج ہیں جو شادیوں کا جزو لاینفک بن گئے ہیں۔ جن میں بارات، جہیز، بری اور زیورات وغیرہ کی وہ غیرضروری رسمیں ہیں جن کی بیڑیاں خود ہم نے اپنے پیروں میں ڈالی ہوئی ہیں اور جن کو اتار پھینکنے کے لیے کوئی تیار ہیں۔ نیز اس میں دونوں خاندان برابر کے ملوث ہیں لڑکے والے بھی اور لڑکی والے بھی اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ کہ اس سے نہ کوئی دین دار خاندان مستشنی ہے اور غیر دین دار خاندان۔مسلمان معاشروں سے اس جاہلی کیفیت کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک شادی بیاہوں کے ان تکلفات کی بیڑیوں کو کاٹ کر نہیں پھینک دیا جائے گا جن میں ایک بھاری جرم بارات کا کروفر کے ساتھ آنا اور پھر شاہان انداز میں اس کی ضیافت کرنا شامل ہے۔
مروجہ جہیز کی قسمیں  :شادی کی رسومات میں ایک رسم جہیز بھی ہے۔ یہ رسم ایسی ہے کہ اس کی اصل حیثیت میں اختلاف ہے کہ یہ واقعی دیگر غیر ضروری رسومات کی طرح ایک رسم محض ہے یا کسی لحاظ سے اس کا شرعی جواز  بھی ہے؟ اس رسم کے دو پہلو یا دو صورتیں ہیں۔ایک صورت میں اس کا جواز ہے اور دوسری صورتوں میں ناجائز۔ اس کو سمجھنے کے لیے ان صورتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے جن کے پیش نظر جہیز کا اہتمام کیا جاتاہے۔ یہ حسب ذیل ہیں:
شان وشوکت یا امارت کا اظہار۔نمود و نمائش، شہرت اور تفاخر کا اظہار۔اسراف و تبذیر کی حد تک اس کا اہتمام۔وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ۔محض ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی رسم کے طور پر۔عدم استطاعت کے باوجو قرض لے کر اس کا اہتمام کرنا۔تعاون، ہدیہ اورصلح رحمی کے طور پر ۔
مشرکوں کی رسم کی نقل  : اول الذکر ساری چھ کی چھ صورتوں میں یہ ایک محض رسم ہے اس لیے ناجائز ہے۔ اور اس ناجائز صورت میں اکثر و بیشتر مذکورہ ساری خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ جہیز کی رسم تمام مذکورہ و خرابیوں کا مجموعہ ہے۔ اسے کس طرح جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟اس میں شان وشوکت کا اظہار بھی ہوتا ہے نمودونمائش کا جذبہ بھی۔ اسراف و تبذیر کی حد تک اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہر چیز دینے کی کوشش کی جاتی ہے چاہے ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو اور لڑکے والوں کے پاس اتنا غیرضروری سامان رکھنے کی جگہ بھی ہو یا نہ ہو۔جس کے پاس استطاعت نہیں ہوتی، وہ قرض لے کر حتیٰ کہ قرض حسنہ نہ ملے تو سود پر قرض لے کر یہ رسم پوری کرتا ہے۔ بھر پور جہیز دینے میں وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ بھی کارفرما ہوتا ہے۔ بالخصوص اصحاب حیثیت اس نیت سے لاکھوں روپے جہیز کی نذر کر دیتے ہیں اور پھر واقعی ان کے بیٹے اپنے صاحب جائیداد باپ کی وفات کی بعد اپنی بہنوں کو وراثت سے ان کا شرعی حق نہیں دیتے اور یہی کہتے اور سمجھتے ہیں کہ باپ نے جہیز کی صورت میں اپنی بیٹیوں کو جو دینا تھا دے دیا۔اب یہ ساری جائیداد صرف بیٹوں کی ہے۔ اس طرح یہ رسم ہندووں کی نقل ہے۔ ہندو مذہب میں وراثت میں لڑکیوں کا حصہ نہیں ہے اس لیے وہ شادی کے موقعے پر لڑکی کو ’’دان‘‘ دے دیتے ہیں۔ یہی ’’دان‘‘ کا تصور ( وراثت سے محروی کا بدل) مسلمانوں میں جہیز کے نام سے اختیار کرلیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ خالص ہندوانہ رسم ہے۔ اگر جہیز میں مذکورہ تصورات کارفرما ہوں تو جہیز کی یہ رسم سراسر ناجائز ہے۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے اس کے خلاف بھی جہاد ضروری ہے کیونکہ جہیز دینے والے بالعموم ایسے ہی تصوارت کے تحت جہیز دیتے ہیں اور اس رسم کو بھی پورا کرنا ناگزیر سمجھتے ہیں۔
جہیز نہیں صلہ رحمی  :لوگوں کے مظابق جہیز کی ایک جائز صورت بھی ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے اور وہ ہے تعاون، صلہ رحمی اور ہدیے( تحفے، عطیے ) کے طور پر اپنی لڑکی کو شادی کے موقعے پر کچھ دینا۔اسلام میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی بڑی فضیلت ہے۔اس طرح ایک دوسرے کو ہدیہ، تحفہ دینے کی بھی ترغیب ہے۔ اور اگر تعاون یا ہدیے کا معاملہ اپنے قریبی رشتے داروں کے ساتھ کیا جائے تو اس کو صلہ رحمی بھی کہا جاتا ہے اور اس کی بھی بڑی تاکید ہے اور اس کو دگنے اجر کا باعث بتلایا گیا ہے۔اس اعتبار سے اپنی بچی کو۔ اگر وہ واقعی ضرورت مند ہے بطور تحفہ کچھ دینا۔ بالکل جائز، بلکہ مستحن اور پسندیدہ ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنی طاقت کے مطابق اس کی ضروریات پوری کریں۔ اس کے لیے قرض لے کر زیر بار نہ ہوں۔نمائش اور رسم کے طور پر ایسا نہ کریں۔ضروریات زندگی کی اس فراہمی میں شادی کے موقع پر ضروریات کا جائزہ لیے بغیر تعاون کرنا جائز نہیں ہوگا۔ بلکہ شادی کے بعد دیکھا جائے کہ اس گھر میں کن چیزوں کی ضرورت ہے اور لڑکے والے ان کو مہیا کرنے سے واقعی قاصر ہیں۔ تو ان کو وہ اشیاء مہیا کرنے میں حسب استطاعت ان سے تعاون کیا جائے۔لیکن حسب ذیل شرائط کے ساتھ :
اس تعاون کو برداشت کا بدل سمجھ کر اسے وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ نہ ہو۔بیک وقت تعاون کی استطاعت نہ ہو تو مختلف اوقات میں تعاون کردیا جائے۔
اگر بچی کو گھریلو اشیائے ضرورت کی ضرورت نہ ہو اور والدین صاحب استطاعت ہوں اور وہ بچی کو تحفہ دینا چاہتے ہوں تو داماد کی مالی پوزیشن کے مطابق اس کو ایسا تحفہ دیں جس سے اس کا مستقبل بہتر ہو سکے۔ مثلا: اس کے پاس سرمائے کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ کاروباری مشکلات کا شکار ہے، اس کو نقد رقم کی صورت میں ہدیہ دے دیا جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار بہتر کر سکے یا اس کو زمین خرید کر دیا جائے تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنا مکان بناسکے۔ اگر اس کے پاس مکان نہیں ہے یا وہ مشترکہ خاندان میں رہائش پذیر ہے اور وہاں جگہ کی تنگی ہے ان دونوں صورتوں میں یہ زمین، یا گھر کی تعمیر، یا کاروبار میں مالی تعاون میاں بیوی (بچی اور داماد) کے لیے ایسا بہترین تحفہ ہے۔ جو صرف انہی کے نہیں بلکہ آئندہ نسل کے بھی کام آئے گا۔نیز تعاون کی ایسی صورت ہے جس میں رسم نمود و نمائش، بلاضرورت زیر بار ہونے کی کارفرمائی نہیں بلکہ خیر خواہی اور تعاون کاصحیح  جذبہ ہے جوعند اللہ نہایت پسندیدہ ہے۔یہاں یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اس صورت کو جہیز نہیں کہنا چاہئے بلکہ یہ تعاون اور صلہ رحمی یا ہدیہ ہے۔
جہیز کا تصور اسلام میں نہیں ہے:احادیث میں اس مروجہ جہیز کا ذکر نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد ازواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی اپنے ساتھ جہیز لے کے نہیں آئی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی چار بیٹیوں میں سے کسی ایک بیٹی کو بھی قبل از نبوت اور بعد از نبوت، جہیز نہیں دیا۔صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بابت مشہور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو چار چیزیں بطور ’’جہیز‘‘ دی تھیں۔لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے اس کا کوئی تعلق مروجہ رسم جہیز سے نہیں ہے۔(ختم شد)
shafeequeaaymi@gmail.com