تازہ ترین

بوسنیا، گبوار ، وجی اور قاضی ناگ

قدرتی حُسن سے ما لا مال گمنام سیاحتی مقامات

تاریخ    15 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


فیاض بخاری
جہاں کشمیر ی نوجوانوں کو مختلف مسائل درپیش ہیں وہی سب سے زیادہ پریشانی بے روزگاری کا بڑتا ہوا رحجان ہے۔تاریخ کشمیر میں قدیم زمانے سے ہی یہاں کے لوگ زیادہ تر مقامی وسائل کو استعمال کرتے تھے ، اور خود کفالت کے علاوہ کشمیری اپنا قیمتی سامان اس دنیا کے دیگر حصوں میںبرآمد کرتے تھے۔ مغل دور میں بادشاہوں اور شہنشاہوں کو کشمیر کی قدرتی خوبصورتی اتنا بھا گئی کہ انہوں نے پوری دنیا کے لوگوں کو کشمیر کی معیشت کو فروغ دینے کیلئے جاذب نظر اوردل کش باغات وپارکس بنائے۔ وادی میں اگر چہ بے شمار سیاحتی مقامات موجود ہیں جہاں پر دنیا بھر سے سیاح آکر لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن ایسے بھی کئی ایک خوبصورت جگہیں ہیں جو ابھی تک لوگوں کی نظروں سے اُوجل ہیں جن کو ترقی دینے کے بعد مقامی نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کیلئے کافی صلاحیت موجود ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے آج تک ان قدرتی نظاروں کو منظر عام پر لانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔ قدرتی حسن سے مالا مال بوسنیا حاجی بل بارہمولہ جو اپنی خوبصورتی کے با عث ایک منفرد مقام رکھتا ہے ،سرکار کی نظروں سے اُجھل ہے ۔کیونکہ آج تک کسی بھی حکومت کو اس خوب صورت جگہ پہ نظر ہی نہیں پڑی ہے ۔اگر چہ شمالی کشمیر کا ضلع بارہمولہ سیاحتی مقامات کے اعتبار سے کافی مشہور ہے تاہم بوسنیا بھی خوبصورتی میںکسی سیاحتی مقام سے کم نہیں ہے، جو بھی سیاح یہاں پہنچتا ہے تو اُسے واپس جانے کا دل ہی نہیں کرتا ہے ۔ اگر چہ ضلع بارہمولہ میں درجن بھر سیاحتی مقامات ایسے ہیں جن کو حکومتی سطح پر کوئی خاص پذیرائی نہ ہونے کے باعث یہ ضلع سیاحو ں کا برسوں سے انتظار کر رہا ہے۔ بارہمولہ ضلع جو کہ پہاڑوں کی خوبصورتی سے ما لا مال ہے اور یہاں سیاحت کی صنعت میں نوجوانوں کو اپنانے اور دنیا کو اصل خوبصورتی کو منظر عام پر لانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے ۔ قصبہ بارہمولہ سے قاضی ناگ تک بے حد خوبصورت مقامات پائے جاتے ہیں جن میں حاجی بل ،  بوسنیا ،گبوار اور وجی شامل ہیں ۔لیکن وادی کے اکثر لوگ ان قدرتی اور روح افزا مقامات سے نا واقف ہیں ۔ ان مقامات کو اگر سیاحتی درجہ دیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف وادی کی خوبصورتی کو اور بڑھا سکتےہیں بلکہ مقامی نوجوانوں کو روز گار بھی فراہم کرسکتے ہیں ۔ بوسنیا جو کہ قصبہ بارہمولہ سے صرف 15 کلو میٹر اور حاجی بل سے 3کلو میٹر کی دور ی پر ہے ۔ حاجی بل کو بوسنیا سے ملانے کیلئے صرف دو کلو میٹر سڑک کی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے یہ سیاحتی مقامات دور دور سے سیاحوں کو اپنے طرف راغب کرسکتے ہیں ۔بوسنیا میں ایک بہت بڑا آلو فارم واقع ہے جو بیماریوں سے پاک بیج پیدا کرنے کیلئے مشہور ہے ۔ یہ آلو فارم 12 سو کنال زرخیز زمین پر مشتمل ہے اور2ہزار 383 میٹر قصبہ بارہمولہ کی سطع سے اُونچائی پر واقع ہے۔اور یہ وادی کا سب سے اونچائی والا آلو فارم ہے۔ بوسنیا کے آگے گبوار آتا ہے جو بڑے بڑے چراگاہوں پر مشتمل ہے ۔ہر ایک کو اپنے قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے مائل کرتا ہے ۔گبوار کے بعد وجی الپائن چراگاہیںہیں جو واقعی میں جنت کا ایک ٹکڑا ہے اور یہاں ہم جولائی اور اگست میں بھی پگلتی ہوئی برف کا 
مزہ لے سکتے ہیں ۔قاضی نا گ مار خوروں کی وجہ سے جانا جاتا ہے جو کہ بہت ہی مشہور اور نایاب جانور ہیں ،یہاں پر پایا جاتا ہے۔ مختصراً مغلوں نے جن باغوں اور پارکوں کو سینکڑوں سال قبل تراشا ہے اور آج بھی اُن کی ترقی و آرائش جاری ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی یہ مقامات بوسنیا، گبوار ، وجی اور قاضی ناگ کی خوبصورتی کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں۔ یہاں یہ بات قبل ذکر ہے کہ حال ہی میں سرکار نے ضلع میں کئی ایک مقامات کو سیاحتی نقشے پرلایا ہے، جس سے لوگوں میں اُمید جاگ گئی ہے کہ ضلع میں میں اب سیاحت کو فروغ ملنے کے نمایاں وجوہات موجود ہیں ۔
) مضمون نگار کشمیر عظمیٰ کے نامہ نگار برائے ضلع بارہمولہ ہیں(
موبائل نمبر۔ 9858900055