تازہ ترین

کتاب بینی کی عادت ڈالو

کھندول دانشوروں سے ہوشیار رہو

تاریخ    15 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


محمد ارشد چوہان
کھندل دانشور ایک اصطلاح ہے جو جموں و کشمیر کے دہلی کی جامعات میں زیر تعلیم طلباء کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جموں یونیورسٹی اور غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی، راجوری کے طلباء میں کافی مقبولیت حاصل کر چکی ہے ۔ پانچ سال پہلے غالباً دو ہزار سترہ میں  میں نے اپنے فیس بُک ہینڈل سے جب یہ اصطلاح متعارف کرائی تو مجھے بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کو اتنا زیادہ پسند کیا جائے گا ۔ اب تو خیر پیر پنجال علاقے کے زیادہ تر ریسرچ اسکالرز نیز دیگر طلباء میں یہ لفظ ہر زبان زد عام ہے ۔ کسی کی بات کو رد کرنا ہو یا کسی پر تنقید سادھنا ہو تو ہو تو یہ لفظ بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے ۔ آج سوچا کہ اپنے کشمیر عظمیٰ کے قارئین بھی اس سے لطف اندوز ہوں ۔
کھندول لفظ دراصل کھندولیوں سے مستعار لیا ہے ۔ کھندولی پنجابی، گوجری اور پہاڑی میں بیڈ پر بچھانے والے بچھونے کو کہا جاتا ہے ۔ ایک کپڑا جس میں عموماً روئی بھر دی جاتی ہے ،کھندولی کہلاتی  ہے۔ مقامی زبانوں میں اسکے الگ الگ نام ہیں ۔ اس بچھونے کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اسے کوئی پبلک میں نہیں دکھاتا۔ یہ ایک خالص پرائیویٹ چیز سمجھی جاتی ہے ۔ ہمیشہ اسے بیڈ شیٹ کے نیچے ہی رکھا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر آپ اپنے بیڈ روم میں تشریف فرما ہیں ۔ کوئی گوگل میٹ ہو رہی ہے یا فیسبک پر لائیو ہیں یا کسی کو ویڈیو کال کر رہے ہیں تو اسمیں آپ کی بیڈ شیٹ بھی نظر آئے گی، اوپر اوڑھنے والا کمبل، چادر یا لحاف بھی نظر آئے گا لیکن رضائیاں چھپا کر رہی رکھی جاتی ہیں ۔ جس طرح بیڈ روم میں تالائی یا رضائی تو موجود ہوتی ہے لیکن آپکے مہمان کو وہ نظر نہیں آئے گی اور نہ ہی اسکا کوئی شو آف کرتا ہے، اسی طرح کے کچھ نام نہاد دانشور بھی ہوتے ہیں جن کے آئیڈیاز بھی کھندولی کی طرح ہی ہوتے ہیں، اس لئے انہیں کھندول دانشور کہا جاتا ہے یا اس کو بوریا سے بھی جوڑا جا سکتا ہے ۔ ایک بوریا جس میں بھینس گائے کے لئے بھوسا ڈالا جاتا ہے، کھندول دانشور بھی اس سے کافی مماثلت رکھتے ہیں ۔ ان کے دماغ بھی بھوسے سے بھرے ہوتے ہیں ، بغیر سوچے بات کر دینا انکی عام سی روٹین ہے ۔اس قبیل کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ انکی گفتار اور کردار میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ 
اٹھارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو "دی ہندو" میں سندر سارو کائے کا ایک مضمون شائع ہوا ۔ یہاں پر اس مضمون کا تذکرہ اس لئے ضروری ہے تاکہ قارئین ہماری بات کو صحیح سے سمجھ سکیں ۔ اس مضمون کا عنوان تھا ’’لیبلنگ دی نیو اللیٹریسی آف آور ٹائم‘‘۔ مذکورہ مضمون میں سندر سروکائی نے ویسی ہی باتیں کی ہیں جو میں دو ہزار سولہ سے کرتا آ رہا ہوں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ صاحب مضمون نے ان لوگوں کو کھندول کہنے کے بجائے 'نیو اللیٹریٹ کہا ہے ۔
مذکورہ مضمون نگار لکھتے ہیں کہ 'آجکل ہم ایک نئی قسم کی نیو اللیٹریسی کے خطر ناک دور سے گزر رہے ہیں ۔ اس نیو اللیٹریسی کا تعلق چیزوں کو نہ سمجھنے سے ہے ۔ پڑھنے کا مطلب صرف الفاظ کو دیکھنا نہیں بلکہ اچھی طرح سے سمجھنا بھی ہوتا ہے اور ہر جملے کو اسی پیرائے میں سمجھنا ہوتا ہے جس ضمن میں لکھاری نے لکھا ہے ۔ چیزوں کو سمجھنے کا فقدان ہے ۔ وہ آگے لکھتے ہیں آجکل یہ رجحان چل نکلا ہے، چیزوں کو پڑھنے سے پہلے ہی یا ہلکی نظر ڈال کر یا ٹائٹل دیکھ کر اس پر اپنی طرف سے لیبل لگا دیا جاتا ہے کہ یہ تحریر فلاں چیز کے متعلق ہے اور پھر اس پر بے تکے تبصرے شروع ہو جاتے ہیں ۔ تحریر کے بعض حصوں یا جملوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یہ سمجھے بغیر کہ لکھاری نے کس سمت میں یہ بات کہی ہے '۔
سندر کا یہ آرٹیکل آن لائن بھی دستیاب ہے، قارئین اسکو تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں ۔ ہماری آجکل کی عموماً پڑھی لکھی جنریشن mis-conception کا شکار ہے، جس کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ دو سال پہلے جب جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ہٹایا گیا تو علاقہ کے پڑھے لکھے نوجوان بھی سندر ساروکائے کی نیو اللیٹریسی اور میری اصطلاح کھندول دانشوری کے مریض نظر آئے ۔ مثال کے طور پر مرکزی حکمران جماعت کی طرف سے یہ بیانیہ پھیلایا گیا کہ خصوصی آئینی پوزیشن جموں و کشمیر کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اب تو دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی۔ اسی طرح دوسرا بڑا بیانیہ یہ تھا کہ جے اینڈ کے کی علاقائی پارٹیاں بالخصوص نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے لیڈران چور ہیں، جنہوں نے رشوت خوری کی ہے ۔ ہمارے علاقے کے کچھ بھولے نوجوان اس بیانیے کو پھیلاتے نظر آئے کہ واقعتاً یہ باتیں سچی ہیں ۔
ہم جیسے کچھ سر پھرے ان نوجوانوں کو اُسوقت بھی سمجھا رہے تھے کہ ایسا مت کریں ۔ یہ سب جمہوریت پر شب خون مارنے کے لئے بیانیہ بنایا گیا ہے ۔ وقت نے آج ثابت کر دیا ہے اور ان نوجوانوں کو آج اس چیز کا ادراک بھی ہو رہا ہے کہ ہم لٹ گئے یار، اور سمجھ بھی نہ آئی کہ کیسے ۔ دو سال پہلے جب ہم سمجھاتے تھے کہ ایسا بھی نہیں کہ نیشنل کانفرنس یا پی ڈی پی وغیرہ دودھ کے دُھلے ہیں لیکن اسوقت انکے خلاف بات کرنا ایک مخصوص بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہو گا جو صرف اپنے مذموم سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئیے گڑا گیا ہے ۔ 
یہ سب اس لئے ہوتا ہے کہ پڑھے لکھے لوگ چیزوں کو صحیح سے سمجھتے نہیں ہیں ۔ کسی چیز کو بس ہلکا دیکھا تو فیس بک وغیرہ پر اپنی دانشوری شروع کر دیتے ہیں ۔ ان میں ایک قبیل ایسی بھی ہے جو فیس بک پر عالمی سطح کی سیاست پر اپنی دانشوری جھاڑتے نظر آئیں گے ۔ ہیلری کلٹن یا بایئڈن کو گلوریفائی کریں گے ۔ ٹرمپ کو کوستے نظر آئیں گے لیکن اپنے آس پاس کی نا انصافیوں بابت بات نہیں کریں گے کیونکہ گلی محلے کے چھوٹے موٹے ٹرمپوں پر انگلیاں اٹھانے پر انکے پر جلتے ہیں ۔
ان دانشوروں کا پڑوسی ملک کے متعلق بیانیہ بالکل مختلف ہوتا ہے ۔ پاکستان کی سیاست پر اگر کوئی بات کرئے یا وہاں کسی لیڈر کو فیور دے تو انکے نزدیک یہ گناہ کبیرہ ہے ۔ظاہر ہے جب بندہ کسی بھی ملک کی سیاست پر گفتگو کرتا ہے تو کسی نہ کسی کو فیور ضرور کرتا ہے ۔ جیسا کہ آپ اگر یونائٹید اسٹیٹس آف امریکہ پر گفتکو کر رہے ہوتے ہیں یا دوران الیکشن کرتے تھے تو ایک کو ضرور اچھا سمجھتے تھے ۔میں نے تو بایئڈن اور کلنٹن کی جیت کے لئے گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے بھی لوگ دیکھے ہیں ۔مگر ہمسایہ ملک کی سیاست پر انکا نظریہ بالکل مختلف ہے ۔ میرے ایک دوست پڑوسی ملک کی سیاست پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں ۔ بڑے ہی روشن خیال اور جمہوریت پسند انسان ہیں اور اڑوس پڑوس کے ممالک میں بھی جمہوریت اور سویلین بالادستی کے حامی ہیں ۔ پچھلے دنوں میں وہ نواز شریف کو اس لئے اخلاقی سپورٹ دے رہے تھے کیونکہ وہ پاکستان میں مارشل لاء اور فوج کی سیاست میں عمل دخل کے سخت مخالف تھے ۔ میرے ان دوست کا کہنا تھا کہ خوشحال اور جمہوریت پسند پڑوسی ملک پورے خطے بشمول ہمارے ملک کے لئے بھی بہتر ہے لیکن کھندول دانشور انکو پاکستانی کہنے لگ گئے ۔ جب شاہ فیصل نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے کہا تھا کہ انکے آئیڈیل عمران خان ہیں ۔ شاہ فیصل پر کسی نے تنقید نہیں کی ، اسکی اصل وجہ یہ تھی کہ کھندول دانشور زیادہ اُس ملک کی آرمی کے بیانیے سے متاثر ہوتے ہیں ۔ 
میرا ایک ہر دلعزیز دوست کہتے ہیں کہ انکا ایک دوست جو کھندول دانشور ہے، ایک دن کہنے لگا کہ یار پاکستان کی سیاست پر ڈسکشن نہ کیا کرو ۔ کچھ دیر کے لئے دوست نے اسکو کوئی جواب نہیں دیا۔دو گھنٹے بعد اس نے جب اسکو غور سے دیکھا تو مسٹر کھندول کانوں میں تار لگائے مولانا طارق جمیل کو سن رہا تھا ۔ میرے دوست کہتے ہیں کہ یار یہ کونسا لاجک ہوا کہ اُس ملک کے ڈرامے دیکھو بلکہ ان کے ڈائیلاگ بھی رٹ لو ۔ وہاں کے مختلف مکاتب فکر کے دینی علماء نیز اوریا مقبول تک کو سنو لیکن سیاستدانوں سے نفرت کرو ۔  آخر میں بات کو سمیٹتے ہوئے خلاصہ کلام یہی ہے کہ اپنے اندر کتاب بینی کی عادت ڈالیں، چیزوں کو سیاق سے ہٹا کر پیش کرنا انتہائی مضحکہ خیز بات ہے ۔
ای میل۔ mohdarshid01@gmail.com
(کالم نگار کا تعلق پونچھ سے ہے اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ریسرچ سکالر ہیں) 
�������