تازہ ترین

ڈاکٹرعزیزحاجنی ایک ہمہ جہت شخصیت

خراجِ عقیدت

تاریخ    15 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


بشیر اطہر
ڈاکٹر عزیز حاجنی ادبی مرکز کمراز کے روح رواں ۱۱ ستمبر کی رات اس دار فانی سے ابدی دنیا کی طرف کوچ کرگئے۔ ان کی وفات کشمیری زبان وادب کےلئے ایک دھچکا ہے،ان کے فوت ہونے پر ادبی و عوامی حلقوں نے افسوس کا اظہار توکیا مگر ان کی جگہ کو پُر کرنا محال ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ڈاکٹر عزیز حاجنی دور حاضر کے ایک اعلیٰ پایہ کےشاعر، ادیب اور تنقید نگار تھے۔ آپ نے اپنی تمام تر زندگی کشمیری ادب اور زبان کےلئے صرف کی، آپ بچپن ہی سے ذہین اور ادبی صلاحیت کے مالک تھے ،آپ نے بی اے کرنے کے بعد کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ کشمیری سے ایم اے کشمیری کیا، جہاں ان کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ کئی سال تک محکمہ تعلیم میں بحیثیت استاد کام کیا اور بعد میں پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں پاس ہوکر ہائر سیکنڈری سطح کے لیکچرر تعینات کئے گئے۔ آپ نے اپنے کل فرائض منصبی میں بہت سی جگہوں پر کام کیا، اسی سلسلے میں کرگل میں بھی اپنی ڈیوٹی انجام دیتے رہے۔ آپ نے ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کے علاوہ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن میں بھی بحیثیت اکیڈیمک آفسر کام کیا اور ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن میں کلچرل ایجوکیشن ونگ کے قیام کا سہرا بھی انہیں کے سر جاتا ہے، جہاں سے انہوں نے باضابطہ طور ایجوکیشن کو کلچر سے جوڑنے کی پوری کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ آپ 2015میں ریاستی کلچرل اکیڈمی کے سیکریٹری نامزد ہوئے، جہاں انہوں نے کشمیری زبان وادب کو سجانے سنوارنے میں اہم رول ادا کیا اور اکیڈمی جو پٹری سے نیچے آگئی تھی کو پٹری پر لانے کےلئے اہم رول ادا کیا۔ڈاکٹر حاجنی ایک انجمن ساز نہیں بلکہ آپ خود ایک انجمن اور تاریخ ساز شخصیت تھے، آپ نے کشمیری زبان وادب کےلئے جوکچھ کیا، جس کو اگر گنا جاسکے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔آپ کی زندگی ادبی خدمات سے بھری پڑی ہے،دور حاضر میں آپ کی شاعری کو کافی سراہنا کی جارہی ہے۔ آپ ایک پرخلوص وذ ی عزت شخصیت تھے، آپ کی تخلیقات نے ہمارے اذہان کو جھنجھوڑ کے رکھا ہےاور یہی وجہ ہے کہ آپ کی غزلیں کشمیری لوگوں کو وردِ زبان ہیں۔
آپ نے کشمیری ادب کی بے لوث خدمت کی، اسی لئے آپ کشمیری زبان وادب پر چھائے رہے۔ آپ نے کبھی بھی تنقید کو برائے تنقید نہیں لیا بلکہ تنقید کو برائے تعمیر پیش کیا ۔ادبی صلاحیت سے بھر پور ڈاکٹر حاجنی کشمیریوں کے دلوں میں اپنا جگہ بنانے میں کامیاب نظر آرہے ہیں اور آپ کی کامیابی روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ڈاکٹر حاجنی نے بیس سے زیادہ کتابیں تصنیف کی ہیں اور بہت ساری کتابوں کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے عبد الصمد کی ناول "دو گز زمین" کا کشمیری ترجمہ کیا اور اس ترجمے کی کشمیری ادبی و عوامی حلقوں میں کافی سراہنا کی گئی، اس کے علاوہ "وارث شاہ" کا انگریزی سے کشمیری میں ترجمہ کیا، جس کو ساہتیہ اکیڈمی نے چھاپ کر ایک نئے سنگ میل کو پار کیا۔انہوں نے "پنژہن ؤری ین ہند کأشُر ادب" أنہ خانہ"،"تیوتھ پزر"وتستا کی سیر"جیسی اہم اور نادر کتابیں لکھیں اور 2013میں "أنہ خانہ" اور ٹیوٹھ پزر"کو ساہتیہ اکیڈمی نے اپنے ایوارڈ سے نوازا۔2008میں انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے انہیں "خلعت شیخ العالم" کے ایوارڈ سے نوازا گیا، اس کے علاوہ آپ کو بہت سارے انعامات سے نوازا گیا جن میں "ہرمؤکھ ایوارڈ" اور "شرفِ ثقافت" وغیرہ وغیرہ قابل ذکر ہیں، یہ ایوارڈ ان کو کشمیری زبان وادب کی بے لوث خدمت کرنے کےلیے ملے ہیں۔آپ کے کتابوں کا مطالعہ کرنے سے سوچ کے وسیع سمندر میں اتر کر غوطہ زن ہورہا ہے اور دُرّ شہوار کو پاکر ادب شناسی کی طرف مائل ہورہا ہے۔آپ کی وسیع القلبی اور وسیع النظریہ سے ادب کی دنیا میں ایک نئی جان پیدا ہوگئی تھی۔آپ نونہال شاعروں، ادیبوں اور قلمکاروں کے ساتھ محبت سے پیش آتے تھے اور ان کے سروں پر اپنا دست شفقت رکھ کر انکی تربیت اور رہنمائی کرتے تھے۔آپ شعر وشاعری کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلویژن میں بھی کام کرتے رہے اور کئی سیریل بھی پیش کئے۔آپ ہمیشہ کشمیری زبان وادب کو بلندیوں تک لیجانے کی کوشش میں رہتے تھے۔ڈاکٹر حاجنی کے کلام میں فصاحت و بلاغت پائی جاتی ہے۔ آپ ساہیتہ اکاڈمی کے کشمیری ایڈوائزی بورڈ کے کنونیر بھی تھے۔آپ کشمیر کے سب سے بڑے تہذیب شناس اور ثقافت شناس مانے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر حاجنی کو ان کی کشمیری زبان وادب کی خاطر بے لوث خدمات کےلئے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔
رابطہ۔ خان پورہ کھاگ
فون۔ 7006259067