تازہ ترین

سماجی خدمات میں بدلتے ہوئے رجحانات | یتیم فائونڈیشن کا کولگام میں تین روزہ پروگرام

تاریخ    14 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر// یتیم فائونڈیشن کی جانب سے کولگام میں تین روزہ صلاحیت سازی پروگرام اختتام کو پہنچ گیا جس دوران مقررین نے فائونڈیشن کے رضاکاروں پر زور دیا کہ وہ سماجی خدمت کے میدان میں جدید طریقوں کو اپنائیں تاکہ فیلڈ میں دورِ حاضر کے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ بیت الہلال کولگام میں فائونڈیشن کی جانب سے رضاکاروں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے منعقدہ تین روزہ پروگرام اختتام کو پہنچ گیا۔ تین روزہ ورکشاپ کا مقصد میدانِ عمل میں سماجی خدمات کے دوران درپیش موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے رضاکاروں کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔ اس موقع پر مقررین نے عاجزی، انکساری اور جذبہ ایثار کو انسانیت کی خدمت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے رضاکاروں کو سماجی خدمات کے شعبہ میں دورِ حاضر کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جدیدٹیکنالوجی کو اپنانے پر زور دیا۔ تقریب سے کشمیر کے متعدد علاقوں بشمول ڈوڈہ، کشتواڑ، پونچھ اور راجوری کے دور افتادہ علاقوں سے 180سے زائد سینئر رضاکاروں نے حصہ لیا۔ مقررین نے رضاکاروں کے خلوص اور ہمدردی کو سراہتے ہوئے انہیں بطور رضاکار اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا مشورہ دیا تاکہ وہ پیشہ ورانہ انداز میں غریب سے غریب تر اور ضرورتمند افراد کی مدد کر سکیں۔ نامور کالم نگار اور مصنف ڈاکٹر معروف شاہ نے اپنے خطاب میں وقت کا موثر انداز میں تصرف پر زور دیا تاکہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ اور موثر نتائج حاصل کئے جاسکیں۔ انہوں نے کتاب پڑھنے کو شخصیت کی نشوونما کا ایک لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک ماہ میں کم از کم ایک کتاب ضرور پڑھیں۔ اس سے قبل چیئرمین فائونڈیشن محمد احسن راتھر نے اپنے خطاب میں رضاکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی روز مرہ سرگرمیوں میں تنظیمی نظم و ضبط پر عمل کریں۔  ڈاکٹر شیخ عارز فزیوتھیراپسٹ نے فسٹ ایڈ ٹریننگ کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے سماجی خدمت کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کچھ اہم اور با مقصد نکات کو اجاگر کیا۔ڈاکٹر محمد اشرف ڈار اسسٹنٹ پروفیسر آئی ایم پی اے نے پی آر اے تکنیک اور کمیونٹی موبلائزیشن کے ذریعے شراکتی منصوبہ بندی کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے رضاکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ PIP اور POP ماڈلز کو غریبوں کی شناخت اور فلاحی پروگراموں میں ان کی شرکت کے لیے استعمال کریں۔ذوالفقار شاہین ایس پی کولگام نے منشیات کا قلع قمع کرنے میں رضاکاروں کے کردار کے موضوع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے منشیات کے استعمال اور دیگر سماجی برائیوں کے خاتمے میں انتظامیہ کی مدد کرنے کے لئے شرکاسے تعاون طلب کیا۔ انہوں نے جے کے وائی ایف کو اپنے رضاکاروں کی صلاحیت کو نکھارنے پر سراہا۔ شاہنواز بخاری نے فاونڈیشن کے فلاحی کاموں کی تعریف کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تنظیم کو اپنے کام میں شفافیت لانے کے لیے سماجی آڈٹ کے لیے کام کرنا چاہئے۔اسسٹنٹ کمشنر سنٹرل (صوبائی کمشنر)عزیز احمدنے رضاکار رہنما ہیں کے موضوع پر بات کی۔ انہوں نے ضرورت مندوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے ایک رضاکار کے کردار کے بارے میں طویل تبادلہ خیال کیا۔  سوشل سروس میں میڈیا کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے سینئر آئی آئی ایس آفیسر غلام عباس نے سماجی خدمت کے پیغام کو پھیلانے میں میڈیا کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایس سی، ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقوں جو فلاحی پروگراموں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے،میں کمیونٹی موبلائزیشن پروگرام شروع کیے جائیں۔