تازہ ترین

خانیار میںپولیس سب انسپکٹر کی ٹارگٹ کلنگ | غوثیہ اسپتال کے باہر دن دھاڑے جاں بحق، نماز جنازہ میں سینکڑوں کی شرکت

تاریخ    13 ستمبر 2021 (00 : 12 AM)   


بلال فرقانی+اشرف چراغ
سرینگر +کپوارہ//خانیارسرینگر میں پولیس سٹیشن کے نزدیک اسلحہ برداروں نے غوثیہ اسپتال سے باہر آنے کے دوران پولیس کے ایک سب انسپکٹر کو ٹارگٹ فائر کیا، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوا۔یہ واقعہ سنیچر بعد دوپہر قریب 2بجے پیش آیا۔پولیس کی جانب سے جاری سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سب انسپکٹر ارشد اشرف میر ساکن کلمونہ کپوارہ کسی ملزم کا طبی چیک اپ کرانے کے بعد تھانے کے قریب سے غوثیہ اسپتال سے باہر نکل رہا ہے جس کے فوراً بعد ایک نوجوان، جس کے چہرے پر ماسک ہے، مزکور پولیس افسر کو پیچھے سے پستول سے کچھ گولیاں چلا کر فرار ہوجاتا ہے، جس کیساتھ ہی ایک اور نوجوان اسکے پیچھے پیچھے بھاگ جاتا ہے‘‘۔جونہی پولیس افسر نیچے گرتا ہے تو کچھ لوگ یہاں جمع ہوجاتے ہیں جو انہیں زخمی حالت میں اٹھاتے ہیں۔پولیس نے بتایا کہ مذکورہ پولیس افسر دیگر کچھ پولیس اہلکاروں کے ہمراہ غوثیہ اسپتال میں ایک مجرم کا طبی معائینہ کرانے کے لئے گئے تھے اور اسپتال سے باہر نکلتے ہی ان پر پستول بردار جنگجوئوں نے حملہ کیا جس کے باعث وہ شدید زخمی ہوا اور غوثیہ اسپتال میں لیجانے کے دوران ہی دم توڑ بیٹھا۔پولیس نے سب انسپکٹر کو ہلاک کرنے کے سلسلہ میں کیس درج کرکے معاملہ کی تحقیقات شروع کی ہے۔پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے اور حملہ آعر کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔شہر میں پولیس کی ٹارگٹ کلنگ کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔اس سے قبل کنی پورہ نوگام میں سی آئی ڈی انسپکٹر،  نائیک باغ نوگام میں پولیس اہلکار اورباغات برزلہ میںپولیس جوان کو اسی طرح کی کارروائیوں کے دوران جاں بحق کیا گیا ہے۔ادھر ایس آئی ارشد احمد میر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ، ڈسٹرکٹ پولیس لائنز سرینگر میں  پھولوں کی چادر چڑھائی گئی۔دلباغ سنگھ نے پولیس/ نیم فوجی دستوں کے اعلی افسران ، سول انتظامیہ اور شہدا کے لواحقین کیساتھ شہید کو بھرپور خراج تحسین پیش کرنے کی قیادت کی۔  ان کی فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔سپیشل ڈی جی سی آئی ڈی  شری آر آر سوین ۔ ڈی جی کرائم اے کے چودھری ، اے ڈی جی ایس پی ایس جے ایم گیلانی ، اے جی میر ، ڈی آئی ڈی آئی جی سنٹرل ، ڈی آئی جی سی آر پی ایف، ڈی آئی جی ایس ایس بی ، ڈی سی سرینگر ، ایس ایس پی سرینگر اور پولیس ، سی اے پی ایف اور سول انتظامیہ کے دیگر اعلی افسران ، شہید کے والدین اور قریبی رشتہ دار پھول چڑھانے کی تقریب میں موجود تھے۔

نماز جنازہ

 خانیار علاقہ میںجاں بحق سب انسپکٹر کے جنازے میں لوگو ں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ان کے آبائی گائو ں قلمونہ رامحال میں صف ماتم بچھ گیا ہے ۔مہلوک پولیس سب انسپکٹر ارشد میر قلمونہ رامحال 2018 میں پولیس میں بطور سب انسپکٹر تعینات ہواتھا۔مہلوک کے والد محمد اشرف کا کہنا ہے کہ میں نے ارشد کو بڑی محنت سے پڑھایا  اور اب وہ اسکی شادی کی تیاریوں میں تھے۔ارشاد کی والدہ حفیظہ بیگم اتوار کی شام تک ان راہو ں کو دیکھتی رہی جہا ں سے ارشاد کی نعش کو اس کے گھر پہنچائی گئی ۔مہلوک پولیس آفیسر کی والدہ غم سے نڈھال ہے۔مہلوک پولیس آفیسر کی نعش اتوار کی شام دیر گئے ان کے آبائی گائو ں پہنچائی گئی تو وہا ں کہرام مچ گیا ۔ ان کے جنازہ میں ہزارو ںلوگو ں کے علاوہ پولیس کے اعلیٰ آفیسران شر یک ہوئے اور بعد میں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ آبائی مقبرہ میں سپر د خاک کیا گیا ۔
 
 
 

لیفٹیننٹ گورنر کی مذمت

نیوز ڈیسک
سرینگر //جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پولیس افسر کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے غم زدہ لواحقین کیساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’’ میں پولیس آفیسر ارشد اشرف میر کی شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاکت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں‘‘۔ انکا مزید کہنا تھا’’ یہ کام امن اور انسانیت دشمن عناصر کا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس افسر کی ہلاکت کو ضائع نہیں ہونے دیا جائیگا اور ملی تینٹوں کو اسکی سزا ملے گی۔
 
 
 

حملہ آور کی نشاندہی ہوگئی: دلباغ سنگھ

بلال فرقانی
سرینگر//ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے کہا کہ پائین شہر کے خانیار علاقے میں جموں و کشمیر پولیس کے سب انسپکٹر کی ہلاکت میں ملوث  بندوق برداروں کی شناخت ہوگئی ہے۔ضلع پولیس لائنز سرینگر میں مہلوک پولیس سب انسپکٹر کے حق میں الوداعی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا کہ پستول سے فائرنگ میں ملوث جنگجوئوں کے تمام گروہ ختم کر دیئے گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک نیا گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا’’ سرینگر میںدرجن بھر پستول بردار گروہوںکا صفایا کیا گیا ہے،اور ہمیشہ سے یہ ہوتا ہے کہ جب کسی پرانے گروہ کا صفایا ہوتا ہے تو اسکی جگہ کوئی نیا گروہ آتا ہے‘‘۔پولیس سربراہ نے کہا کہ خانیار میں فائرئنگ کرنے والوں کی نشاندہی ہوچکی ہے،تاہم تفتیش بھی جاری ہے اس لئے اس بارے میں بعد میں مطلع کیا جائے گا۔ڈی جی پی نے کہا کہ مہلوک پولیس افسر اپنے فرائض کے لیے پرعزم تھا اور اس کا نقصان پولیس کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ پولیس افسر،پولیس کی ذمہ داریاں سیکھ رہا تھا اور محکمہ میںنیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملزم شخص کی جانچ کیلئے اسپتال روانہ گیا ہواتھا اور وہاں سے واپس آنے کے دوران انہیں گولی مار دی گئی اور وہ زندگی کی جنگ ہار گیا۔ انہوں نے مذکورہ پولیس افسر کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔