تازہ ترین

رفیع آباد میں باد ل پھٹنے کا قیامت خیز واقعہ | خانہ بدوش کنبہ کے 5 افراد لقمہ اجل

ماں اور 3بچوں کی لاشیں برآمد، کنبے کا سربراہ لاپتہ، ماں بیٹا زخمی،20بھیڑ بکریاں بھی ہلاک | نالہ حمل میں بڑے پیمانے پر طغیانی آنے سے متعدد دیہات اور مکانوں میں پانی گھس گیا

تاریخ    13 ستمبر 2021 (00 : 12 AM)   


فیاض بخاری
بارہمولہ//رفیع آباد بارہمولہ کے حمام مرکوٹ جنگلاتی علاقے میں ایک دلدوز حادثہ کے دوران اس وقت بادل پھٹنے سے قیات صغریٰ بپا ہوئی جب پانی کے ریلے میں ایک خانہ بدوش کنبہ بہہ گیا جس کے نتیجے میں 5اہل خانہ(ماں اور اسکے3بچے سمیت(لقمہ اجل بن گئے جنکی لاشیں بر آمد کی گئی ہیں جبکہ کنبے کے سربراہ حاجی بشیر احمد کھاری کی لاش بر آمد نہیں ہوسکی ہے۔اس حادثہ میں بدنصیب کنبے کے دو افراد( ماں بیٹا) شدید زخمی حالت میں معجزاتی طور پر بچ گئے ہیں۔حادثہ کے دوران انکے 20بھیڑ بکریاں بھی ہلاک ہوئے اور نزدیکی دو دیہات کی زرع اراضی تباہ ہوگئی ہے۔

رفیع آباد واقع

رفیع آباد کے حمام مر کوٹ ڈنگی وچھہ کے کفرنار بہک جنگلاتی علاقے میں یہ حادثہ سنیچر اور اتوار کی صبح 3بجے پیش آیا۔گرج چمک کیساتھ بال پھٹ گئے، جس کی زد میں نوشہرہ راجوری کا ایک خانہ بدوش بکروال کنبہ آیا اور پانی کا ریلا کنبے کو بہا کر لے گیا۔پانی کے ریلے میں 80سالہ بشیر احمد کھاری، اسکی اہلیہ، اسکا بیٹا فاروق احمد کھاری، فاروق کی اہلیہ اور تین بچے بہہ گئے۔ بشیر احمد کھاری کی لاش  اتوار کی شام تک بر آمد نہیں کی جاسکی جبکہ اسکی اہلیہ اور بیٹا فاروق احمد کھاری معجزاتی طور پر شدید زخمی حالت میں بچ نکلے، جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ تاہم اسکی بہو شاہنازہ بیگم ( 30) اہلیہ محمد فاروق کھاری ،انکی بیٹی نازیہ اختر ( 14) ، بیٹا عارف حسین( 5) اور بیٹا طارق احمد ( 8)لقمہ اجل بن گئے ، جنکی لاشیں بر آمد کی جاچکی ہیں۔ بادل پھٹنے سے انکے قریب 20سے زیادہ بھیڑ بکریاں  بھی ہلاک ہوئے۔ بادل پھٹنے کے باعث نالہ حمل میں طغیانی آگئی جس نے نشیبی علاقوں کو اپنی زد میں لایا جس سے سینکڑوں کی تعداد میں درخت اکھڑ گئے اور ایک چھوٹا پُل بھی سیلابی ریلی میں بہہ گیا ۔ حمام مرکوٹ ،منڈ دجی سے ہوتے ہوئے وتر گام کی طرف بہتا ہے۔ سیلابی پانی کئی دیہاتوں میںبھی گھس گیا، جن میں یار بگ سمیت 2دیہات کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ کچھ عارضی رہائشی ڈھانچے بھی سیلابی ریلے کی زد میں آگئے ہیں۔ نالہ حمل کا سیلابی پانی کھیل کے میدان، وترگام میں سکول سمیت کئی سرکاری عمارتوں میں بھی گھس گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ صبح واقعہ کی ملتے ہی بچائو کارروائیوں کیلئے کوششیں کی گئیں تاہم علاقہ بہت دور ہونے کی وجہ سے پولیس کی ٹیموں کو یہاں پہنچنے میں  خاصا وقت لگا۔تاہم دوپہر کو ایس ڈی پی او رفیع آباد نصیر احمد درزی ، ایس ایچ او ڈنگی وچھہ امتیاز احمد اور تحصیلدار ڈنگی وچھہ سجاد حسین  نے بچائو کارروائیوں کے نگرانی کی۔ دو زخمی ماں بیٹے کو بچا کر بارہمولہ اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زیر علاج ہیں جبکہ کنبے کے 4افراد( ماں اور انکے 3بچے) کی لاشوں کو بر آمد کیا گیا لیکن حاجی بشیر احمد کی لاش بر آمد نہیں کی جاسکی۔ ادھر ڈپٹی کمشنر بارہمولہ بھوپندر کمار نے ایس پی سوپور اور دیگر متعلقہ عہدیداروں کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اس صورتحال کا جائزہ لیا ۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ زندہ خاندان کے افراد کو ہر قسم کی مدد فراہم کریں۔ انہوں نے انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اپنی گہری تعزیت کا اظہار کیا۔ مزید برآں ، ڈی سی نے یقین دلایا کہ نقصان کی مناسب تشخیص کے بعد ضلعی انتظامیہ سے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ ڈی سی نے افسران پر زور دیا کہ پانی اور بجلی کی سپلائی جیسی ضروری خدمات کو فوری طور پر بحال کیا جائے جو کہ بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوا تھا ۔