تازہ ترین

اسلام کی ترویج واشاعت کا ستارہ | مقبول احمدشاہ کشمیر

شخصیتِ تاباں

تاریخ    13 ستمبر 2021 (00 : 12 AM)   


محمدتوحیدرضاعلیمی بنگلور
حضرت مقبول احمدشاہ قادری کشمیری المعرو ف ’’شاہ کشمیری ‘‘رحمۃ اللہ علیہ کا نام ہانگل شریف کرناٹک میںکسی تعارف کی محتاج نہیں ہے،ہرچھوٹا بڑا،ادنیٰ و اعلیٰ فرد حضرت کشمیری علیہ الرحمہ کےنورانی چہرہ دیکھتے ہی پکار اُٹھتے اور کہتے تھے کہ یہ عارف باللہ ہیں۔ آپ نے دین کے حصول اور پھر دین کے فروغ کے لئے اپنا گھر ، اپنا قبیلہ ،اپنی برادری اوراپنا وطن تک چھوڑ دیا تھا۔ اپنی تمام عمر مجاہدانہ گزاری اوردین کے لئے جہادکیا۔ آپ ہمالیہ کی گود میں کشمیر کی گھاٹی کے اُتری علاقےکے ایک چھوٹے سے گائوں،جس کانام ڈنگی دچھ ہے۔جس کے چاروں طرف سرسبز وادیاں ،سیب سے لدے ہوئے باغوں کی بھرمار، صاف شفاف ٹھنڈے میٹھے پانی کی ندی جو برفیلے پہاڑوں سے نکل کر گاؤں گاؤںاور کھیت کھلیانوں کو سیراب کرتی ہے۔ اسی چھوٹے سے خوبصورت گاؤں میں آپ کی پیدائش ہوئی تھی۔پیدائش کے بعد ہی اُن کی والدہ نے اس بچہ میں کچھ نیاپن دیکھا تھا،انتہائی صابر ،خاموشاور پُر سکون دِکھتا تھا، کم و بیش چار برس کی عمر میں قرآن شریف کی تعلیم حاصل کی اور درسِ نظامی کی تعلیم اپنے بڑے بھائی صاحب جو ایک عالم متبحر تھے،سے حاصل کی۔بارہ سال کی عمر میں تشنگی علم مزیدبڑھ گئی توپھر حصولِ علم کی تلاش میں وہ اپناوطن ترک کر کے نکل پڑے اورعلم کے حصول خاطر آپ نے ملک ہند اور غیر ممالک کاسفرکرتے رہے اور پھرجامعہ ازہر مصر میں تعلیم کی تشنگی مٹاکرواپس ہندوستان لوٹ آئے اور اجمیر شریف معینیہ مدرسہ میں کچھ دن قیام کرکے درس و تدریس اور وعظ و تبلیغ کے کام میں مصروف ہوئے۔ ایک رات خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے روضہ مبارک میں گزاریاور رات بھر تسبیح و تہلیل میں مشغول رہے۔ شب کے آخری وقت میں تھوڑی دیر کے لئے آنکھ لگی تودیکھا روضہ مبارک روشنی سے چکاچوندہوگیاہے اور ایک نورانی شخصیت جلوہ گر ہیںجو آپ کو دین کی تبلیغ کرنے کاپروانہ عطاکررہے ہیں ۔ سید مقبول شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ وہاں سے سیاحت کرتے ہوئے امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کے دربار میں آئےاور وہاں مستفیض ہوکر برما،رنگون،شری لنکا، کولمبو،نیل گیری،مدراس، بنگلور، میسور مالاباراوربھٹکل سرسی ہوتے ہوئےسرزمینِ ہانگل شریف کرناٹکؔ پہنچے۔ وہ نوجوان جو گورا چِٹاخوبرومیانہ قد، مضبوط جسم، نورانی چہرہ، جس سے جلال ٹپک رہا ہو، نہایت رشک گلاب ہو، کوئی ایک مرتبہ دیکھتا تو دیکھ تاہی رہ جاتاہو،گویا وہ نوجوان جو ایک سردخطہ کےرہنے والا،ریاست کرناٹک میںہانگل شریف گرم خطہ میں ایک ہاتھ میں کلکتہ کی بخشی جنتری اوردوسرے ہاتھ میں چھڑی، سرپر شاہ ترک کی آئینہ دار لال رنگ کی رومی ٹوپی، بائیس سال کی عمر میں تشریف لاتے ہیں۔ آپ نے ہانگل شرؔیف میں دین متین کی بے لوث خدمت کی ۔اپنی تقاریر وجمعہ کے خطابات سے عوام الناس کو دین مبین سے متاثر کرکےاپنا قرب عطاکرتے رہے ،جس کے نتیجہ میںعوام الناس دوردراز علاقوں سے آکر آپ سے مستفیض ہونے لگے،اس طرح ایک عرصہ دراز تک آپ خدمت دین میں مصروف رہے۔
 ہانگل اور مامبھلی کارشتہ  :
چنانچہ جب آ پ کے بڑےبھائی سیدپیریوسف شاہ صاحب قادری اپنے بیٹےسیدپیرمظفرشاہ قادری کی اطلاع پراپنے چھوٹے بھائی کی تلاش وجستجو میں ہانگل پہنچے ،تو اُس وقت ہانگل میں موجود نہیں تھے۔سید پیر یوسف شاہ قادری اپنے بھائی عالم باعمل ولی کامل فنافی اللہ فنافی الرسول سیدمقبول شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے ملنے کے لئے سات آٹھ سال تک اُن کا انتظار یہاں کرتے رہے ۔اس عرصہ میں آپ میسور کے اندورنی علاقوں میں دینی وعظ و تبلیغ اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لئے غرض چلے گئے۔مقبول شاہ کشمیری ؒکے چلے جانے کے بعد ہانگل کےاطراف و اکناف مذہبی دینی عقائد کے نام پر بڑے بڑے فتنہ جنم لینا شروع ہو گئے تھے۔اس بات سے صحیح العقیدہ مسلمانوں کو بڑی فکرہوئی ،اُنہیںاس دانا ولی کامل، عالم باعمل کی بہت یاد آنے لگی اور وہ اس کی تلاش میں کوشاں رہنے لگے ،اسی دوران یہاں کے ایک رئیس محمد اسماعیل صاحب کو عالم باعمل کے بارے میں خبر ملی کہ وہ مامبھلی ضلع میسور میں تبلیغ اسلام میں مصروف ہیں ۔حضرت کی سوانح حیات میں موجود ہے کہ پیر کامل مامبھلی یلندور ضلع میسور کی جامع مسجد میں چندسال رہے، عبادات وریاضت امامت وخطابت وتبلیغ دین متین کے مشغول تھے۔ صاحب تحریر باذات خود مامبھلی کا پیدائشی ہے، نے اپنے بڑوں سے حضرت کی صورت وسیرت اور بچوں پرکرم نوازش اور کرامات کوبھی سناہےاور ہمارےوالدمحترم اورمامبھلی کےعمررسیدہ حضرات نے حضرت کے حسن و جمال حضرت کی دینی خدمات کو حضرت کے زہد و تقوی کو چامراج نگر کولیگال اطراف و اکناف میں دینی خدمات انجام دیتےاور مناظرہ کرتے اپنی آنکھوں سےدیکھاہےاور عالم باعمل کواپنے دل وجان سے زیادہ عزیز رکھاہے۔اور ہم نےبھی دین کی خاطر اس ولی کامل کے لئے تن من دھن اپنی جان ومال سب کچھ حاضررکھا تھا ۔پھرہانگلؔ شریف میں حضرت کمی اور ضرورت محسوس کرتے ہوئے عبدالرزاق پٹوگر صاحب مامبھلی آکر حضرت مقبول شاہ کشمیری کو ہانگل لےآئے ۔اسی بنا پر آج بھی ہانگل ومامبھلی والوں کابڑا آپس میں بڑا گہرا رشتہ ہے اورشاہ کشمیری کا فیضان ہےکہ دانانوجوان کی بدولت یہاں کے لوگ اعلیٰ حضرت امام عشق و محبت امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کی ذات بابرکات سے آشنا ہوئے ۔
 یومِ وصال 
شمس العلماء سید مقبول احمد شاہ صاحب قادری کشمیری کا جب انتقال ہوا تواُن کی نماز جنازہ شیموگہ شہر کے مشہور و معروف عاشق رسولؐ درویش بابا رحمت اللہ تعالیٰ علیہ نے پڑھائی۔اس موقعہ پر اُن کی زبان سے 
یہ الفاظ جاری ہو گئے کہ مولانا شاہ کشمیری ولایت کے اعلیٰ درجہ کی منزل میں ہیں اور اللہ کے نزدیک آپ کا بڑا رتبہ ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی بغدادسے جا ملتا ہے۔ آپ کی پیدائش ایک روایت کے مطابق 1313ھ کشمیر میں ہوئی تھی اورآپ کی وفات 25 صفر المظفر 1390ھ مطابق 12اپریل 1970ء کے دن صبح کے سات بچ کر 20منٹ پرہانگل شریف میں ہوئی ۔ہر سال آپ کا عرس مبارک صفر المظفر کی 3۔4۔5 تاریخ کوبڑے ادب احترام وہ شریعت کے دائرے میں رہ کر منایا جاتا ہے۔ اس عرس مبارک میں ہزاروں کی ہزار تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں، اورجم غفیردیکھنے کے قابل ہوتا ہے مگر اس کے باوجود بڑے ہی سکون کے ساتھ عرس کی تمام تقاریب منعقد اختتام پذیر ہوجاتی ہے۔ مجمع کو دیکھ کر انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے لوگ کب اور کیسے آئے اورکس طرح چلے گئے۔ 
 رابطہ۔9886402786