تازہ ترین

فوج کسی بھی صورتحال کامقابلہ کرنے کیلئے تیار | جنرل نروانے کاکٹھوعہ اورسانبہ کادورہ،فوجی کمانڈروں سے تبادلہ خیال

تاریخ    12 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//فوجی کو کسی بھی آپریشنل چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے فوج کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ایم ایم نروانے، نے کہا ہے کہ فوج افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد پیدا شدہ کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے ۔ ہندوستانی فوج کی طرف سے کئے جانے والے مختلف اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے جنرل نراوانے ،نے اس بات پر زور دیا کہ فوجیوں کو اپنے آپ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید رجحانات ، ابھرتے ہوئے سائبر خطرات اور انسداد ی ا قدامات سے بھی آگاہ رکھنا چاہیے۔ وزیر دفاع کی قیادت میں نئی دلی میں جموں کشمیر کے حوالے سے حفاظتی صورتحال پر اہم میٹنگ کے صرف ایک روز بعد فوجی سربراہ جنرل منوج مکند نروانے نے کٹھوعہ اور سانبہ کے سرحدی علاقوں کا دورہ کیا ۔ کٹھوعہ اور سانبہ کا سرحدی علاقہ 200کلو میٹر پر پھیلا ہے جس کے ساتھ بین الاقوامی سرحد بھی ہے ۔شمالی کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل آر پی سنگھ نے چیف آف آرمی سٹاف کو اپنے آپریشنل کنٹرول کے علاقوں میں صورتحال کے مختلف سیکورٹی پہلوؤں سے آگاہ کیا جن میں جموں خطے کے تین اضلاع کے علاوہ پنجاب اور ہماچل پردیش بھی شامل ہیں۔فوج کی طرف سے جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل ایم ایم نروانے نے فوجیوں پر زور دیا کہ وہ جوش کے ساتھ کام جاری رکھیں اور مستقبل کے کسی بھی آپریشنل چیلنج کے لیے تیار رہیں۔فوجیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے فوجی سربراہ نے ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور کووڈ - 19کی وجہ سے عائد پابندیوں کے باوجود جنگی تیاری کی اعلیٰ حالت کو برقرار رکھنے میں غیر متزلزل جذبے کی تعریف کی۔شمالی کمان کے فوجی افسران سے اپنے خطاب میں انہوں نے زوردیا کہ وہ فخر کے ساتھ خدمت کریں اور فوجی اخلاقیات اور ہندوستانی فوج کی بھرپور ثقافت کو برقرار رکھیں۔ہندوستانی فوج کی طرف سے کئے جانے والے مختلف  اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے جنرل نراوانے، نے اس بات پر زور دیا کہ فوجیوں کو اپنے آپ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید رجحانات ، ابھرتے ہوئے سائبر خطرات اور انسداد ی اقدامات سے بھی آگاہ رکھنا چاہیے۔فوج کے سربراہ کو لیفٹیننٹ جنرل آر پی سنگھ ، آرمی کمانڈر وں نے مختلف آپریشنل اور ٹریننگ سے متعلق امور پر اپ ڈیٹ کیا۔تمام سیکورٹی ایجنسیوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا بڑھنا کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز طالبان یا چین پاکستان طالبان گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والے کسی بھی قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر کے بارے میں پہلی سیکورٹی جائزہ میٹنگ کی تھی جس میں کابل کے طالبان کے اقتدارمیں آنے کے بعد صورتحال پرغور کیاگیا۔جموں کشمیرکے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور فوج کے سربراہ ، را ، انٹیلی جنس بیورو ، بارڈر سیکورٹی فورس ، سینٹرل ریزرو پولیس فورس ، جموں و کشمیر پولیس اور وزارت داخلہ اور جموں و کشمیر حکومت کے اعلیٰ سول حکام موجود تھے۔(سی این آئی)
 

تازہ ترین