تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    12 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


پھیکا پھیکا سا ہے ماحول خُدا خیر کرے
اپنی کشتی بھی گئی ڈول خدا خیر کرے
 
ہم تو دُنیا کی امامت کا سبق بھول گئے
اب تو ہاتھوں میں ہے کشکول خدا خیر کرے
 
جب سے چھوڑاتُجھے ذلت نے ہمیں گھیر لیا
اپنے ہاتھوں ہوئی چھترول خدا خیر کرے
 
کھو دیا ہم نے ہی بھیڑ میں چلنے کا ہُنر
کجروی کھول گئی پول خدا خیر کرے
 
لاکھ پردوں میں بھی کردار نظر آتا ہے
اپنا کردار تو ہے ڈھول خدا خیر کرے
 
ہم مسافر ہیں بشارتؔ تو سفر پر نکلیں
راہ پُر پیچ ہے پُر ہول خدا خیر کرے
 
بشارت حسین بشارتؔ
 مینڈھر، پونچھ
موبائل نمبر؛7051925481
 
کر گیا مجروح مجھ کو اعتباری کا جنوں
دل کو تڑپاتا رہا بس اضطراری کا جنوں
زخمِ دل کرتا رہا آنسو کے دھاروں کی طلب
آنکھ سے بہتا رہا یوں آہ و زاری کا جنوں
دشتِ تنہائی میں پھرتا ہی رہا آوارہ میں 
راس پل بھر بھی نہ آیا انتظاری کا جنوں
تو نے آنسو ہی دئے پر یہ سمجھ پایا نہ میں
میری نظروں پر تھا حائل بردباری کا جنوں
ساقیا پینے سے ہوں عاجز میں اس اعزاز سے
مجھ پہ طاری ہے مری خود اختیاری کا جنوں
دل تو چھلنی تھا مگر آنکھیں بڑی مسرور تھیں
اپنی رنجش پہ تھا بھاری تیری یاری کا جنوں
سامنے میرے رہا لیکن ردا اوڈھے ہوئے
ہائے! سمجھا ہی نہیں آئینہ داری کا جنوں
حالِ دل آفاقؔ کہہ پائے نہ ہم ان سے کبھی
دھڑکنوں میں ہی چھپایا بے قراری کا جنوں
 
آفاق دلنوی
دلنہ بارہمولہ کشمیر،رابطہ نمبر 7006087267
 
 
زرد پتّے کہہ رہے ہیں داستانِ غم یہاں
ذرّہ ذرّہ بن چکا ہے اب نشانِ غم یہاں
جاں ہتھیلی پر لیے ہے اشتیاقِ اشتہاد
اشک شعلہ زن، لہو ہے ترجمانِ غم یہاں
پانیوں میں بُو لہو کی، ہے ہواؤں میں غبار
درد سے معمور دھرتی، آسمانِ غم یہاں
زندگی آشفتگی میں بیت جائے بے سبب
روز و شب کی اضطرابی ارمغانِ غم یہاں
آبرو درد و الم کی جان و دل کو ہے عزیز
کون سنتا ہے سنائے داستانِ غم یہاں
بزم تیری، بول تیرے، ساز تیرے، سُر ترے
سادھ کر چپ ہے ہجومِ رفتگانِ غم یہاں
غیر فانی عشق کا عالم مگر اے سوزِ دل
ساز مثلِ بلبلا ، ہے امتحانِ غم یہاں
 
ڈاکٹر مظفر منظور
اسلام آباد کشمیر
موبائل نمبر؛9469839393
 
 
کس کو دکھائوں ہاتھ میں سورج اُتار کے
ہر شخص ڈھونڈتا پھرے رستے فرار کے
 
اصلی بدن کے بھی رہیں دُھندلے سے کچھ نقوش
ہم یار معترض نہیں تیرے سنگھار کے
 
خوفِ رقیب اور ہے کووڈ کا وہم اور
وہ چُومنے کی ضد کریں ماسک اُتار کے
 
دستک نہیں ہے در پہ یہ قدموں کی چاپ ہے
لمحے ٹھٹھک گئے ہیں شبِ انتظار کے
 
موسم سے بے نیاز ہے یہ کون ساپرند
سرما میں گارہا ہے جو نغمے بہار کے
 
تصویر ایک نیوڑ(Nude)کی تحریر کچھ نہیں
چاٹے ہیں کس نے لفظ تیرے اشتہار کے
 
یوسف نیرنگ
myousufnairang1949@gmail.com
موبائل نمبر؛9419105051