تازہ ترین

چناب ، پیر پنجال میں عسکریت سے نمٹنے کیلئے فوج کا خیر سگالی مشن اہم ہتھیار بن گیا

تاریخ    9 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


سید امجد شاہ
جموں//فوج کے خیر سگالی مشن نے وادی چناب اور پیر پنجال میں انسانیت کے ساتھ عسکریت پسندی سے نمٹنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔خیر سگالی مشن جسے آپریشن سدبھائونا بھی کہا جاتا ہے، عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے اور لوگوں کو ان کے خاندانوں اور بچوں کی مدد کرکے مرکزی دھارے میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ایک دفاعی عہدیدار نے کہا"ہم انہیں پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتے ہیں ، مقابلہ میں انٹرویو کا سامنا کرنے کی مہارت ، مختلف پیشہ ورانہ کورسز کے لیے کوچنگ ، مختلف پیشہ ورانہ اداروں میں داخلہ لینے کے لیے ان کی رہنمائی کرتے ہیں ، عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کی مدد کرتے ہیں ، ہیلتھ کیمپوں کا انتظام کرتے ہیں ، ان کے مویشیوں کے کیمپوں کے لیے ویٹرنری کیمپ کرتے ہیں۔ بحرانوں ، قدرتی آفات ، یا حادثات وغیرہ کے وقت لوگوں کی مدد کرتے ہیں‘‘۔عہدیدار نے کہا کہ "ہم دور دراز مقامات پر لوگوں تک پہنچتے ہیں اور ان کے انخلا میں ان کی مدد کرتے ہیں اور انہیں روزانہ استعمال کے قابل اشیاء فراہم کرتے ہیں۔ شمالی کمان کے اس اقدام نے فوج کو عوام کا اعتماد جیتنے میں مدد دی ہے اور عوام کو بھی فوج کے ساتھ بہتر تفہیم ہے‘‘۔انہوںنے مزید کہا’’لوگوں کو ابیزار کرنے کی کوشش ناکام ہو چکی ہے اور اس کے نتیجے میں وادی چناب اور پیر پنجال میں عسکریت پسندی ختم ہو گئی ہے۔ فوج عوام کے قریب آگئی ہے اور دونوں میں بہتر تفہیم ہے جو قومی سلامتی میں ایک اچھی علامت ہے‘‘۔عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں کشتواڑ میںپتنازی کے ایک اسکول کے طلبا کے لیے اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے اور ان کے خود اعتمادی کو بڑھانے کے لیے ایک پروگرام کا اہتمام کیا تھا۔دفاعی عہدیدار نے اس طرح کے پروگراموں کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ، "پتنازی کمپنی آپریٹنگ بیس کی طرف سے تعلیمی نظام میں درکار چیلنجوں پر مباحثے کا انعقاد کیا گیا تھا جس کا مقصد عوامی بولنے اور معیارِ اظہار کو بہتر بنانا تھا۔"اسی طرح انہوں نے کہا ، وہ دیہی علاقوں میں بھی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔ان کا کہناتھا ’’خیر سگالی مشن بندوق کے بغیر عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے میں مدد کرنے میں کامیاب رہا ہے اور ہم لوگوں کی مدد کرکے ان کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایسے علاقوں میں عسکریت پسندی میں کمی آئی ہے جہاں 90 کی دہائی میں یہ عروج پرتھی‘‘۔افسر نے مزید کہا کہ "ہم عسکریت پسندی کو موقع بھی فراہم کر رہے ہیں یہاں تک کہ مقابلوں کے دوران بھی ہتھیار ڈالنے اور مرکزی دھارے میں واپس آنے کے لیے انہیں موقعہ دیتے ہیںض۔ ہم انہیں براہ راست مقابلوں کے دوران قائل کرنے میں کامیاب رہے ہیں‘‘۔