تازہ ترین

بے ثمر علم کی و جوہات

خیالِ من

تاریخ    8 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


سید مصطفیٰ احمد
علم کا مقصد ہے کہ ایک انسان اپنے آپ کو جانے،اپنے آپ کوپہچانے اورپھر اپنے اُس رب کوبھی جاننے اور پہچاننے کی کوشش کرے،جس نے اسے اس کائنات میں بھیجا ہے۔انسان کو اس دنیا میں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے،یہ سب کچھ اُسے علم سے پتہ چلتا ہے، مزید یہ کہ اپنی فلاح و بھَلا اور تعمیر وترقی بھی آپ کی پڑھائی کے زمرے میں آتی ہے۔ ساتھ ہی اپنے گھر،اپنے محلے ،اپنے علاقےاور اپنے سماج کے مسائل کا حل ڈھونڈنابھی علم کا مقصد کہلاتا ہے۔ اس کے برعکس جو علم اپنے گھرانےاور اپنے سماج کے لئے کوفت اورپریشانیوں کا باعث بننے، اُسے ہم علم نہیں کہہ سکتے بلکہ ایسا علم سماج پر ایک بوجھ سمجھتے ہیںاور ایساعلم ’علم‘ کہلانے کے لائق ہی نہیں ۔چنانچہ ایسے علم کے حصول میں براہِ راست بچوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔ وہ جس ماحول میں وہ رہتے ہیں اور جس نظامِ تعلیم کے تحت وہ علم حاصل کرتےہیں، اُس میں بچوں کا کامیابی کے ساتھ نشوونما ہونااُس خواب کی مانند ہے جو دیکھنا بھی لاحاصل ہے۔ تو ایسے میں ان وجوہات کا جاننا ضروری ہوجاتا ہے جو ہمارے علم کو بے سود بناتے ہیں۔ 
پہلا ۔ علم کو صرف پیسے کا ذریعہ بنانا : آج کے زمانے میں اساتذہ نے بچوں کو دینےوالاعلم زَر کمانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہےاور کسی حدتک صحیح بھی ہے مگر محض پیسے تک ہی اس عبادت کو محدود کرنا بہت بڑا ظلم ہے، جو نہ صرف اس دنیا میں بلکہ آخرت کی رسوائی کا بھی باعث بنتا ہے۔ اس تنگ نظریہ کی وجہ سے علم ایک بے ثمر پھل بن کر رہ گیا ہے۔ 
دوسرا۔ تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانے والا نصاب: یہ نصاب پہلے ان لوگوں نے تیار کیا ہے ،جنہوں نے خود اس کو کبھی پڑھا ہی نہیں ہے۔ یہ نصاب بچوں کی انفرادی خصوصیات کو نظر انداز کر دیتا ہے جس کی وجہ سے بچہ کچھ بننے کے بجائے کچھ اور بنتا ہے، گویااگر ہم مچھلی کی قابلیت اس کے پیڑ پر چڑھنے سے جانچ لیں تو ایک مچھلی ہمیشہ یہ سمجھے گی کہ وہ بے وقوف ہے۔ برابر ایسا ہی معاملہ ہمارے ذہین بچوں کے ساتھ ہوتاچلا آرہا ہے۔ جو شاعر بننا چاہتا تھا وہ ڈاکٹر بننے پر مجبور ہوجاتا ہےاور جو ڈاکٹر بننا چاہتا ہے وہ قصاب۔ اس طرح کے نصاب کی وجہ سے بچوں کے لئے پڑھنا اور اساتذہ کے لئےپڑھانا بے سمت ہوکر رہ جاتا ہے، جو آخر کار بے سود ثابت ہوجاتا ہے۔ 
تیسرا۔ علم کی بے قدری: ہم اسلام کو ماننے والے علم کے میدان میں پیچھے ہیں۔ اسلام تو علم حاصل کرنے کو فرائض میں گنتا ہے۔ قران کا نزول بھی تو پڑھنے کی آیت سے ہوا تھا۔ اسلام میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک عالم کئی عابدوں پر بھاری ہے۔ شیطان عالِم سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے، مگر ہم ہیں کہ اپنے رب عبادت کی طرف زیادہ دھیان دینا مناسب نہیں سمجھتے۔ دنیا کے ہنگاموں میں ایسا مگن ہوگئے کہ جس کام کے لئے آئے تھے وہ کام کرنا بھول گئے۔ اس کا سیدھا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم علم کو بے سود بنا کر ایک بڑے خسارے کا شکار ہوگئے۔ 
چوتھا۔ دوسروں کی نقالی: انگریزوں کا دیا ہوا تعلیمی نظام لگ بھگ دو سو سال سے یہاں رائج ہے۔ وہ تواپنے وطن کب کے چلے گئے مگر ہمیں ایسا تعلیم نظام چھوڑ کر گئے کہ جس کی خامیوں سے ہم آج تک چھٹکارا نہیں پا رہے ہیں۔ انگریزوں نے ان دو سو برسوں میں بہت ترقی کی مگر ہمیں دو سو سال پیچھے ہی رہنےدیا۔ اس صورت حال میں ایک سوچنے سمجھنےوالےکے علم کا اثر بے اثر ہوجاتا ہےاور حصول علم یعنی تعلیم بے سود ہوجاتی ہے۔ 
وقت کی اشد ضرورت ہے کہ ہم پھر سے علم کے نور کو عام کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے لئے جو پہلا کام ہے ،وہ یہ کہ نصاب کو بدلا جائے۔ اس کے علاوہ پڑھائی کو صرف پیسے کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا جائے بلکہ یہ دیکھا جائے کیا واقعی علم کی وجہ سے ہمارا سماج ایک مثالی بن سکتا ہے کہ نہیں۔ اس کے علاوہ اسلام کے نقطہ نظر سے لوگوں کو اس بات کی طرف مائل کیا جائے کہ علم کا کیا فائدہ ہے اور دولت کا کیا۔ سماج کے پڑھے ہوئے لوگوں کو اپنی انفرادی سطح پر کوشش کرنی چاہیے کہ علم ایک بے ثمر پھل نہ رہے۔ آئیے اس ضمن میں آگے بڑھے اور اپنے آپ کوثمردار علم کے زیور سے آراستہ کریں۔ 
باغ، زینہ کوٹ، 7889346763
syedmustafaahmad9@gmail.com
 

تازہ ترین