تازہ ترین

شاہین

افسانہ

تاریخ    29 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


شبنم بنت رشید
میرا گھر اور میرے گھر کے افراد اپنی شرافت، ایمانداری، سادگی اور اپنی ذہانت کی بدولت جانے اور مانے جاتے تھے مگر ان باتوں سے تو زندگی کی بات نہیں بنتی۔ میرے خیال میں ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ انسان کے مقدر کا اچھا ہونا بہت ضروری ہے۔
میرے ابا نے میری پیدائش کے وقت میرا نام شاہین رکھا تھا۔ شاید ابا کو میری ذات کو لے کر یہ امید بندھ گئی تھی کہ میرا نام شاہین رکھنے سے شاید میں وہ اڑان بھر سکوں  جس اڑان کی تمنا انکے دل کے اندر مرتے دم تک رہی کیونکہ ابا اور میرے چاچو اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود عام سی پوسٹوں پر فائز تھے۔ وہ دونوں زندگی بھر اپنے سے کم تعلیم یافتہ لوگوں کے ماتحت کام کرتے رہے۔ میں بھی پڑھ لکھ کر پچھلے کئی سالوں سے اخباروں میں نوکریوں کے اشتہار ڈھونڈ ڈھونڈ کر فارم بھرتے بھرتے مایوس تو نہیں ہوا تھا البتہ ابا سے میری بے روزگاری اور تڑپ دیکھی نہ گئ۔ ایک دن انہوں نے مجھے بتایا کہ بیٹا  اس اندھیر نگری میں اندھوں کا راج ہے۔ کیا انکو کبھی روشن دیئے نظر آتے ہیں؟ پھر بھی بیٹا میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی اس ڈگری کو مزید جاذب نظر بناو۔ شاید اس سے تمہیں کوئی فائدہ مل جائے اور اس وجہ سے تمہارے روزگار کی کوئی سبیل بھی نکل آئے۔ ساتھ ساتھ ابا نے یہ فکر بھی ظاہر کی کہ بیٹا روزگار کے انتظار میں تمہاری شادی کی عمر بھی تیزی سے نکلتی جارہی ہے۔ میں اپنے جیتے جی تمہارا گھر بسا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میں اپنے دور دراز اور بھولے ہوئے رشتے داروں میں تمہارا رشتہ جوڑ کر اس رشتے میں نئ جان ڈال دوں تاکہ اس رشتے کی آبیاری ہو جائے ۔ روبی تو بہت اچھی لڑکی ہے اسکے اندر کوئی کھوٹ نہیں۔ نہیں ابا !کھوٹ تو کسی کےاندر نہیں  کھوٹ تو شاید میرے نصیب میں ہے اسلئے آج تک گھر میں مفت کی روٹیاں توڑ رہا ہوں۔ میں نے دل ہی دل میں ابا کی بات کا جواب دیا۔ ابا کی ہر بات کا مان رکھنا اپنا پہلا فرض سمجھتا تھا اسلئے دونوں مشوروں کو رد نہ کرسکا۔ ورنہ میں نہ اور پڑھائی کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی ابھی شادی کرنا چاہتا تھا۔ نا چاہتے ہوئے بھی بڑی جلدی اور سادگی کے ساتھ میری شادی ہوئی۔
سات جنموں تک ساتھ نبھانے ،ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا وعدہ کرکے شادی کے صرف ایک مہینے بعد میں اور روبی  ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔ ہمارے بہتر مستقبل کے لئے روبی اپنی خوشی اور مرضی سے میری پڑھائی پوری ہونے تک رہنے کے لئے واپس اپنے میکے چلی گئی۔ جبکہ میں مزید تعلیم کے لئے گھر سے بہت دور چلا گیا۔ جب دو اجنبی انسان ایک نئے رشتے میں بندھ جاتے ہیں تو دونوں کا ہم مزاج ہونے کا مطلب تو مستقبل میں خوشگوار اور کامیاب ازدواجی زندگی ہے۔ خیر میں مقررہ وقت پر تعلیم سے فارغ ہوا۔ گھر کی بہت یاد آرہی تھی۔ ذہنی تھکاوٹ بھی تھی۔ ان باتوں کی پروا کئے بغیر میں نے یہ سوچا کچھ کام کر کے تھوڑا پیسہ کماکے گھر جاوں گا کیوں کہ مجھ پر اب کچھ حق روبی کا بھی تھا۔ جیب میں پیسہ ہوتو مرد کی شخصیت میں چار چاند لگ جاتے ہیں ۔ جیب میں پیسہ نا ہوتو انسان کو بہت ساری تکلیفوں سے گزر نا پڑتا ہے۔ اسلئے میں نے نوکری کے لئے دو تین جگہوں پر اپنی درخواستیں جمع کرائیں اور فارم بھی بھر دیئے اس دوران روبی کا فون آیا۔ میں اپنے میکے میں زیادہ دن اور رک نہیں سکتی کیونکہ شوہر کاگھر ہی عورت کااصلی ٹھکانہ ہوتا ہے۔ مجھے تمہاری دوری برداشت نہیں ہوتی۔ بڑی مشکل سے تمہارے بغیر یہ وقت گزارا ہے۔ یہ ساری باتیں روبی نے مجھے فون پر بتائیں۔ میں نے جونہی اپنا ارادہ ظاہر کیا تو اس نے صاف صاف لفظوں میں کہا کہ اگر تمہیں وہاں نوکری مل بھی گئ تو میں تمہارے ساتھ وہاں نہیں رہ سکتی اور  نہ تمہارے بغیر رہ سکتی کیونکہ میرا میکہ میری کمزوری ہے۔ روبی نے سخت لہجے میں بات کرکے مجھے واپس گھر بلایا۔ مگر میں نہیں جانتا تھا کہ وہاں مشکلوں اور آزمائشوں سے بھری زندگی میری راہ تک رہی ہے۔ میں گھر آیا تو میرا استقبال بڑی گرمجوشی سے ہوا۔ روبی دو دن پہلے ہی گھر آچکی تھی۔ رشتہ دار،  آس پڑوس والے اور میرے سسرال والے بھی آگئے۔ گھر میں کئی دنوں تک ہل چل بھرا ماحول رہا۔ پھر دعوتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ دھیرے دھیرے زندگی ایک بار پھر تھم سی گئی اور زندگی کا اصلی روپ سامنے آنے لگا اور پھر گھر کے ماحول میں طرح طرح کی تبدیلیاں آنے لگیں۔
میرے آتے ہی میرے چھوٹے چاچو، جس کو ابا نے اپنا بڑا بیٹا ہی سمجھ کر پالا پوسا تھا،گھر سے الگ ہو گئے۔ گھر سے کچھ فاصلے پر کچن اور ایک کمرے کا سیٹ بنایا اور پھر موروثی گھر کو چھوڑ کر وہیں اپنی مختصر فیملی کے ساتھ منتقل ہونے۔ اپنے بیوی بچّوں کا خیال کرنا اور انہیں ہر دکھ و پریشانی سے دور رکھنا اچھئ بات ہے مگر کہیں نہ کہیں انکے اندر میری بیروزگاری دیکھ کر خود غرضی سی آگئی۔ مزید کچھ وقت گزرگیا تو ابا ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ نہ جانے کون سا غم انہیں اندر ہی اندر کھاگیا ۔ اسے اپنی ٹانگوں کے بجائے وہیل چیر کا سہارا لینا پڑا۔ انکی معذوری دیکھ کر امی بھی مریضہ بن گئیں۔ ابا کے چلے جانے کے بعد گھر اور گھر کی ہر چیز نے اداسی اور خاموشی کا لباس پہن لیا کیونکہ روبی نے بھی پہلے دن سےہی خود کو میرے اور گھر کے مسائل سے بالکل الگ تھلگ رکھا۔ امی کی خدمت کرنا تو درکنار اس نے کبھی گھر میں بہو بیٹی کی طرح کبھی کھانا بھی نہ بنایا۔ برتن دھونا یا دسترخوان بچھانا یا سمیٹنا تو دور کی بات وہ اپنے کمرے سے دس بار بلانے کے بعد کھانا کھانے آجاتی تھی۔ وہ میرے حال سے باخبر تھی پھر بھی قناعت، اورصبر کی بجائے اسے سجنے سورنے اور گھومنے پھرنے کا شوق تھا۔ دعوتیں کھلانے اور کھانے کی شوقین تھی۔ برانڈڑ سوٹ، سینڈل اور باقی چیزوں کی شوقین تھی۔ اسکی ہر فرمائش پوری کرنا میرا فرض تھا۔ اسکے ہر شوق کو پورا کرنا چاہتا تھا مگر میں خالی ہاتھ۔ میں بھی اسے سمجھانے کے علاوہ کچھ نہ کرسکا کیونکہ ٹیوشن کے بچوں کو صبح سے شام پڑھاکر اسکے علاوہ اپنے ہاتھ پیر مار کر اور امی کی پینشن ملا کر جو کچھ ہاتھ میں آتا تھا وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر تھا۔ پھر بھی وہ کچھ سمجھنے کے لیے بالکل تیار نہ تھی۔ اس نے میرے خلاف جیسے خاموش جنگ کا اعلان کیا تھا۔ خیر گھر کے حالات جیسے بھی تھے زندگی کے دن گزر ہی رہے تھے اور روبی جیسی بھی تھی مجھے اس سے بڑی محبت تھی۔ پچھلے کئ سالوں سے ہمارے گھر میں کسی خوشی نے دستک نہ دی سوائے اسکے کہ روبی نے ایک چاند سی گڑیا کو جنم دیا لیکن اپنے گھر کے بجائے اسے میکے میں چھوڑ آئی۔ اسکے بعد روبی نے مجھ سے اپنا کوئی بڑا کاروبار شروع کرنے کی ضد کی لیکن خالی ہاتھ یہ بالکل ممکن نہ تھا، اسلئے غصے میں آکر وہ آپے سے باہر ہوئی۔ اپنی تیز زبان کی چھری سے میرا دل چھلنی کردیا۔ طعنہ دے کر کہا میں کوئی گئی گزری عام سی لڑکی نہ تھی اور نا ہی میرے اندر کوئی کمی تھی مگر یہ سب قصور تو تمہارے مرحوم ابا کا ہے۔ انہوں نے میرے گھر والوں کو سبز باغ دکھا دکھا کر میری زندگی برباد کردی۔ اور ہاں! تمہارا نام شاہین کس نے رکھا ہے؟ تمہیں اپنا نام بدلنا ہوگا کیونکہ تم تو قائر اور مورکھ ہو۔ تم تو زمین پر رینگنے والے ایک کیڑے کی طرح ہو۔ اس بات سے تو میرا دل ہی نہیں بلکہ میرا روح بھی گھائل ہوئی۔ وقت کے ساتھ میں اندر ہی اندر جل کر راکھ میں بدل گیا۔ اس کٹھن سفر میں صرف ایک بات سمجھ گیا کہ پیسہ ضروری بھی ہے اور ضرورت بھی۔ پیسہ خوشی بھی ہے اور سکون بھی ۔ پیسے کی بدولت ہی تو زندگی چلتی نہیں بلکہ ترقی اور عزت کی راہوں پر دوڑتی ہے۔ گھر اور گھر کے باہر ہر جگہ پیسہ ہی انسان کو ایک عزت کا مقام دلاتا ہے۔ ہزاروں خوبیوں کے باوجود اگر انسان کے ہاتھ میں پیسہ نہیں  تو انسان کچھ بھی نہیں۔ پیسہ ایک ایسی چیز ہے جو مرنے کے بعد بھی انسان کے کام آتا ہے۔
روبی کی جلتی سلگتی باتیں خاموشی سے سنتے سنتے میری زندگی کی گاڑی تو جوانی کے آخری ایام کی سڑک پر دوڑنے لگی۔ وقت سے پہلے شکل صورت پر بھی بزرگی کے آثار نمودار ہونے لگے ۔ اوورایج ہونے کا غم اور اپنی ڈگریوں کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے تھک چکا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ روبی کا چہرہ بھی مرجھا مرجھا سا رہنے لگا۔ تھک ہار کر اُس نے حالات سے سمجھوتا کرلیا۔ آہستہ آہستہ اس کا رویہ اور دل بالکل بدل گیا۔ وہ بڑی سمجھدار ہو گئی۔ اب روز بہ روز اسکے دل میں میرے لئے ہمدردی اور محبت میں اضافہ ہوتا گیا، جس سے میری زندگی جیسے آسان سی ہوگئی۔ مجھے مایوس دیکھکر سمجھا نے لگی کیا آج تک کوئی انسان اپنے مقدر سے چاہ کر بھی لڑپایا ہے اور یہ مسئلہ تنہا آپکا نہیں بلکہ یہاں تو  آپ جیسے ہزاروں شاہین ہیں جو زمین پر اونچی اڑان بھرنے کے لئے پھڑ پھڑاکر تڑپ رہے ہیں۔
لیکن برسوں بعد آج میرے دل  کو خوشی محسوس ہوئی کیونکہ میری گڑیا میٹرک کے امتحان میں پورے زون میں پہلے نمبر پر آکر پاس ہوئی۔ میں مٹھائی کا بڑا سا ڈبہ خرید کر اپنی گڑیا سے ملنے اسکو مبارکباد دینے چلا گیا۔ گڑیا کو سینے سے لگا کر اسکے ماتھے کو چوم کر اسے کہا شاباش میری گڑیا! آئندہ بھی اسی طرح خوب دل لگا کر محنت کرکے پڑھائی کرنا ۔ اپنا اور اپنے استادوں اور اپنے خاندان کا نام روشن کرنا۔ وہ میرے سینے سے الگ ہوئی۔ نم آنکھوں سے میری طرف دیکھنے لگی جیسے خاموش اور معصوم زبان سے مجھ سے سوال کررہی تھی کہ بابا آپ نے بھی تو بہت محنت کی تھی۔ آپ بھی تو بڑے ذہین ہیں۔ آپکو پڑھ لکھ کر آج تک کچھ ملا ہےکیا؟
جو پھول تھے بہار کے لوگوں نے چن لئے
کانٹے خزاں کےسب میرے دامن میں آگ
���
پہلگام اننت ناگ
موبائل نمبر؛9419038028