تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    29 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


گھر سے نکلا تو نئی راہ گزر پہ نکلا
چل کے دیکھا کہ پرانی ہی ڈگر پہ نکلا
آنکھ بھر خواب سمندر میں کہیں چھوڑآؤں
تشنگی لے کے سرابوں کے سفر پہ نکلا
سنگِ تربت سا نشاںوقت نے چھوڑا جیسے
اک تری یاد کا پھوڑا ہے جگر پہ نکلا
چشمِ نم ہجر نے زرخیز یہ مٹی کردی
دانۂ خستہ کہ گل شاخِ شجر پہ نکلا
کون یہ بوجھ اُداسی کا اٹھائے لوگو
اب جو قرعہ بھی اسی خاک بسر پہ نکلا
کوئی سورج نہ کوئی چاند ستارہ چمکے
ابر چھا جانے مرے عشق نگر پہ نکلا
انگلیاںچاند پہ لوگوں نے اٹھائیں شیدؔا
ایک تِل سادہ رخِ رشکِ قمر پہ نکلا
 
علی شیدؔا
 نجدون نیپورہ اسلام ا?باد،  
موبائل نمبر؛9419045087
 
 
غزل
لوگ کانٹوں میں بھی پھولوں کی قبا چاہتے ہیں 
ہم تو بس فرطِ محبت کا صلہ چاہتے ہیں 
ٹِمٹما اُٹھے ہیں پھر سے تری یادوں کے چراغ 
عین ممکن ہے کہ بُجھ جائیں ہوا چاہتےہیں
عمر اک جن کو مٹانے میں گزاری تُم نے
وہی جگنو تری محفل میں ضیا چاہتے ہیں
 غمِ فرقت میں اِن آنکھوں کو جلائے رکھا
اور وہ ہیں کہ مجھے اور جلا چاہتے ہیں 
ہم نے کب تُجھ سے چمکتا ہوا سورج مانگا
ہم وہ پاگل ہیں کہ مٹی کا دیا چاہتے ہیں
ابنِ مریم یہ مداوا مرے کس کام کا ہے
زخم اک فصلِ بہاراں میں کُھلا چاہتے ہیں
کوئی حد بھی تو مقرر ہو سزا میں جاوید ؔ
فیصلہ تُجھ سے کوئی اور خدا چاہتے ہیں
 
سردارجاویدخان
میندھر پونچھ
موبائل نمبر؛9419175198
 
 
وہ خیالوں میں آتے رہے رات بھر
ہم بھی آنسو بہاتے رہے رات بھر
ایک پروانہ اک شمع اور ایک دل
تینوں خود کو جلاتے رہے رات بھر
شام ڈھلتے ہی انجاں ساحل پہ ہم
ریت کے گھر بناتے رہے رات بھر
اپنے کمرے میں اپنے ہی سائے کو ہم
اپنا قصّہ سناتے رہے رات بھر 
ہم چراغِ سرِ طاق کی تشنگی
اپنے خوں سے بُجھاتے رہے رات بھر
تتلیاں ہی سرِشام اوجھل ہوئیں
جگنو تو جگمگاتے رہے رات بھر
ان کی صبحوں کو غیروں سے ہو کیا گلہ
جن کو اپنے رُلاتے رہے رات بھر
عہدِ وصلِ سحر سے گلے لگ کے ہم 
ہجر کا غم مناتے رہے رات بھر
 
ساعد حمزہ مظہرؔ
سر سید آباد، بمنہ سرینگر
موبائل نمبر؛8825054483
 
 
ارمان، خواب راکھ کی صورت بکھر گئے 
کل جب وہ صاف عہدِ وفا سے مُکر گئے 
حق کے لیے بلند صدا جو ذرا سی کی
پتھر مرے مکان کے اندر اُتر گئے 
آفات کی گرفت میں آیا کھبی جو میں 
سب آشنا نگاہیں چُرا کے گزر گئے 
ممکن نہیں کہ لوٹ کے ہم آسکیں کبھی 
سائے کی جستجو میں کہاں سے کدھر گئے 
دارورسن کا شوق نہیں تھا کوئی مگر
الزام وہ تمام مرے نام دھرگئے 
جب سے وبا کا روگ ہے پھیلا خبر نہیں 
کچھ لوگ آس پاس تھے جانے کدھر گئے 
عارف ؔکبھی نہ ان کو کنارا ملا یہاں 
طوفان کے بہائو سے جو لوگ ڈر گئے 
 
جاوید عارفؔ
کشمیر
موبائل نمبر؛7006800298
 
 
ہر طرح کی شادمانی دے اُسے
ہر خوشی اب آسمانی دے اُسے
وہ نہیں سنتا کسی کی بات، تُو
گوش میرے یار جانی دے اُسے
سوچتا ہوں ہجر میں اب دیر تک
جو لکھی ہے وہ کہانی دے اُسے
چلتے چلتے کھو گیا ہوں میں کہیں
یہ پتہ میرا زبانی دے اُسے
ہو چکا ہوں میں تو یارا لاعلاج
تُو بھی غم اب جاودانی دے اُسے
دل گلی میں چاند کو تکتے رہے
یہ خبر بعدِ زمانی دے اُسے
جو رہے گا اب ’’صبا کے ساتھ ساتھ‘‘
میرے مالک شادمانی دے اُسے
اب تو ساگرؔ ہو چکا ہے خستہ دل
ابرِ باراں کی روانی دے اُسے
 
ساگرؔ سلام
کوکرناگ،کشمیر
 
 
دلِ ناشاد نہ پوچھو کہ کدھر جائونگا
وقتِ گزراں ہوں میں کیسے بھی گزر جائونگا
 
یہ تو جانوں نہیں کس سمت میں جائونگا مگر
ساتھ ہوگی میری حسرت میں جدھر جائونگا
 
ہیں تمنائیں سبب میرے سفر کی یارو
میں اِدھر سے جو چلا ہوں تو اُدھر جائونگا
 
یاد آئونگا بہت تجھ کو زمانے، سُن لے!
چل پڑوں گا میں جب اور اُدھر جائونگا
 
دل تو بگڑا ہی تھا صورتؔ بھی اب بگڑی دیکھو
ہے اُمیدوں کی یہ منزل کہ سدھر جائونگا
 
صورتؔ سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9419364549