تازہ ترین

ڈاکٹر عقیلہ کا افسانوی مجموعہ

’ بکھرے رنگ ‘

تاریخ    26 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


مدثر راتھر
افسانہ درحقیقت اظہار خیال کے ایک مخصوص فن کا نام ہے اس کی تشکیل و ترتیب میں موضوع،مواد اور فکرو خیال کے ساتھ فنی حسن کا ہونا لازمی ہے اور ان سارے عناصر کو  ڈاکٹر عقیلہ صاحبہ نے اپنے افسانوی مجموعے میں فنکارانہ طور پر پیش کیا ہے موضوع اور فن دونوں ڈاکٹر عقیلہ صاحبہ کی تخلیقات میں جزو لاینفک کی حیثیت رکھتے ہیں۔
موجودہ دور میں  افسانہ لکھنے والوں میں ڈاکٹر عقیلہ ایک خاص انداز کی ملکہ ہیں، ان کے افسانے بڑے کام کی چیز ہے۔ ان کے افسانوں کے پلاٹ نہایت دلکش اور فطری ہیں۔ اصلاح معاشرت کا رنگ ان کے افسانوں پہ غالب  ہے۔ انہوں نے پلاٹ کردار اور طرز بیان کے ذریعے سے ایک انفرادیت اختیار کرنے کی کوشش کی ہے ۔جہاں تک ان کے افسانو ی مجموعہ بکھرےرنگ کاتعلق ہے ، اس سے یہ بات واضح  ہو جاتی ہے کہ ان کے مجموعہ میں جو چیز سب سے نمایاں نظر آتی ہے وہ ان کی سیرت نگاری ہے۔ ان کے کردار بہت سے خصوصیات کے مالک ہیں،ان کے افسانوں کا مطالعہ کرنے کے بعد احساس ہوتاہے کہ انہیں انسانی نفسیات پر عبور حاصل ہے ،وہ ہر کردار کے ذہن کی تہوں کو اس طرح آہستہ آہستہ کھولتی ہیں کہ اس کی مکمل شخصیت بے نقاب ہو جاتی ہے اس لیے عقیلہ کے کردار بہت جاندار اور دلکش ہیں۔ افسانہ کے پلاٹ کی طرف بھی ان کی خصوصی توجہ رہتی ہے ،وہ کہیں پلاٹ میں جھول نہیں  پڑھنے دیتی۔ بحیثیت مجموعی ان کے افسانوں کی زبان بہت دلکش ہے۔
’’بکھرے رنگ‘‘ ڈاکٹر عقیلہ صاحبہ کے خوبصورت افسانوں کا مجموعہ ہے، ڈاکٹر عقیلہ دلّی سے تعلق رکھتی ہیں اور دہلی یونیورسٹی سے Ph. D کرنے کے بعد آپ  بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں شعبہ عربی میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ 
انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز جموں و کشمیر میں ہی کیا جبکہ ان کا پہلا افسانہ’’طلاق‘‘روزنامہ کشمیر عظمی 2019 میں شائع ہوا۔ حال ہی میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’بکھرے رنگ ‘‘2020 میں منظر عام پر آگیا ہے۔ اس مجموعے کے کل صفحات 141 ہیں اور یہ مجموعہ حسب ترتیب گیارہ افسانوں پر مشتمل ہے۔ پیڑ کا جن، بکھرے رنگ، قاتل، طلاق، فریب، آخر میں نے پا لیا تجھے، سرجو، چھوٹی سی محبت، شادی کا تحفہ، پچھتاوے کا بھنور اور چال، ان سبھی افسانوں میں کسی نہ کسی طرح کے سماجی پہلو کو بڑے دلچسپ انداز میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔
افسانہ '’پیڑ کا جن‘ جب ایک عورت اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کرتی ہے تو اس سے خوشی دینے کے لئے وہ ہر ایک کام کرتی ہے، جسے اسکے شوہر کو خوشی ملے، یہی کام "پیڑ کے جن"  کا مرکزی کردار رقیہ بیگم کرتی ہے یعنی جب رقیہ بیگم اپنے گھر کا کام بڑی محنت و مشقت سے انجام دیتی ہے اور پھر اس انتظار میں رہتی ہے کہ کب اسکا شوہر اسکے کام کی تعریف  کرے تاکہ زندگی کا یہ حسین سفر رواں رہے لیکن افسوس! اسکے باوجود بھی رقیہ بیگم اپنے شوہر کے ظلم و ستم کا شکار ہوتی رہتی ہے اور رقیہ بیگم اپنے شوہر کے اس رویے سے کافی تنگ آجاتی ہے تو وہ اپنے شوہر کو راہ راست پر لانے کے لئے "جن "کا روپ دھارن کر کے اسکی خوب پٹائی کرتی ہے۔ اپنے اس ڈرامائی کردار کے بعد وہ یہ محسوس کرتی ہے کہ اسکے  شوہر کی انانیت اسکے وجود سے رخصت ہوگئی ہے اور اب وہ راہ راست پر آگیا ہے ۔ افسانہ پیڑ کا جن کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں اوریہ کہہ کر "جن "واپس چلا گیا۔۔۔رقیہ بیگم ہوش میں آئیں تو دیکھا برکت علی ہاتھ جوڑے ان کے سامنے بیٹھے ہیں۔رقیہ بیگم نے ڈرامہ کرتے ہوئے کہا’’میں کہاں ہوں؟ مجھے کیا ہوگیا تھا؟ برکت علی نے بڑے پیار سے جواب دیا ۔کچھ نہیں بیگم تم کمزوری کی وجہ سے ذرا بے ہوش ہوگئی تھیں۔ایسا کرو تم یہاں بیڈ پر آرام کرو، میں تمہارے لئے جوس لیکر آتا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر برکت علی کچن کی طرف چلے آئے ۔رقیہ بیگم نے بڑے مزے سے میگزین ہاتھ میں اٹھایا اور اطمینان کی سانس لیکر مسکراتے ہوئے اُس پیڑ کی طرف ایسے دیکھا کہ جیسے اس پیڑ کے "جن "کا شکریہ ادا کر رہی ہو۔‘‘(بکھرے رنگ۔ص۔47 افسانہ 'بکھرے رنگ کا مرکزی کردار "سیما "ہے۔ اس کی خوشیاں اس وقت بکھر جاتی ہے جب" سیما" رات کے وقت گھر میں اکیلی ہوتی ہے اور اسی وقت کالا ماسک لگائے ایک انجان شخص جب اسکی بے بسی کا فائدہ اٹھا رہا تھا تو سیما کی نظر میں اسکی انگوٹھی کا نقش سما جاتا ہے اور جب وہ اسکی عزت و عصمت لوٹ کر رفو چکر ہوجاتا ہے تو سیما اپنے ساتھ پیش آئے واقع کو رو رو کر اپنی ماں کو سناتی ہے۔ میرادل بہت گھبرا  رہا ہے۔۔کچھ تو بول میری بچی ۔۔۔کیا ہوا؟سیما نے بھرے گلے سے پوری تفصیل ماں کے سامنے بیان کردی ۔پاپا نے پولیس کو کال کرنا چاہا تو ماں نے جھٹ سے ان کے ہاتھ سے رسیور فون پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟پولیس کو فون کرنے سے یہ بات پوری شہر میں پھیل جائے گی جو بات اس وقت گھر کی چار دیواری میں ہے۔اس میں ہماری اور ہماری بیٹی کی بدنامی ہوگی، اسلئے ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ ہم خاموش رہیں۔ اور سیما کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں سختی سے کہا۔۔سیما خبر دار یہ بات کبھی کسی کے سامنے کی تو ۔۔اور صفائی ستھرائی کر کے گھر کا ماحول ایسا بنا دیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔‘‘(بکھرے رنگ۔ص۔51 )آخر میں جب سیما کو خوشی کی کرن نظر آتی ہے اور اسکی شادی " آنند "سے ہو جاتی ہے تو سہاگ والی رات جب اس کی نظر "آنند" کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے انگوٹھی پر پڑتی ہے تو اسکے کردار کو داغ دار کرنے کی کہانی زلزلہ بن کر سامنے آجاتی ہے " آنند "نے سیما کو بیڈ پر بٹھایا اور پانی کا گلاس آگےبڑھایا،گلاس پکڑتےہوئےجوںہی سیما" کی نظر" آنند" کی انگوٹھی پر پڑی تو گلاس ہاتھ سے چھوٹ کر فروش پر ٹوٹتے ہوئے سیما کے خواب رنگ ارمانوں کو بھی چکنا چور کر گیا "
(افسانہ طلاق ) ڈاکٹر عقیلہ صاحبہ نے اپنے افسانوی سفر کا آغاز اسی افسانے" طلاق "سے کیا ہے ۔ اس افسانے میں ایک طلاق شدہ عورت کی کہانی بیان کی گئی ہے اس افسانے کے دو مرکزی کردار "شاداب" اور" پری "ہیں۔شاداب تلخ مزاج ہے مگر اس کی بیوی پری نرم مزاج ہوتی ہے ۔دونوں کی شادی پیار و محبت کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ان کے والدین نہیں چاہتے کہ ان کی شادی ہو، لیکن یہ دونوں عشقیہ جذبات سے مغلوب ہوکر کوٹ میریج کرلیتے ہیں ۔ تو ایک روز جب "پری" سرکاری نوکری ملنے کی خوشخبری شاداب کو دیتی ہے تو شاداب اس پہ خفا ہو جاتا ہے، وہ نہیں چاہتا کہ پری سرکاری نوکری کرے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ میری بیوی میرے گھر کی زینت میں چار چاند لگائے ۔ پھر غصے میں آکر اسے طلاق ثلاثہ دے دیتا ہے، کچھ دیر بعد جب شاداب کو اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے تو حلالہ کا راستہ ڈھونڈ کر "رحمت چاچا" کے یہاں پہنچ جاتا ہے اور رحمت چاچا اس کی بیوی کے ساتھ نکاح کر لیتا ہے ،اسطرح شاداب اپنی بیوی پری کورحمت چاچا کے پاس ایک رات کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ دوسرے دن جب وہ پری کو لینے رحمت چاچا کے فلیٹ پر جاتاہے تو’’ارے کون ہے؟اتنی صبح کون آگیا۔کہتے ہوئے خاتون نے دروازہ کھولا ۔تو شاداب اسے ایک طرف کرتے ہوئے فلیٹ میں رحمت چاچا ،رحمت چاچا پکارتے ہوئے گھس گئے۔۔۔لیکن رحمت چاچا کہیں نظر نہیں آئے ۔۔تو عورت سے پوچھا رحمت چاچا؟ارے کون رحمت چاچا کہیں تم اس بوڑھے کی بات تو نہیں کر رہے ہو جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی؟ہاں میں انہی کی بات کر رہا ہوں ۔وہ کہاں ہیں؟جلدی بتائو نا؟وہ تو رات ہی فلیٹ چھوڑ کر چلے گئے۔چلے گئے ۔۔لیکن کہاں؟کیوں؟بھئی پتہ نہیں۔۔کہاں گئے؟کہہ رہے تھے بیگم کولے کر دوسرے شہر جارہا ہوں اب وہیں رہیں گے۔‘‘(بکھرے رنگ۔ص۔83 )
اس افسانے سے ہمیں  ایک سبق آموز نصیحت ملتی ہے کہ ہمیں اپنے غصے پر ہمیشہ قابو رکھنا چاہیے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں بھی شاداب کی طرح زندگی بھر پچھتانا پڑے ۔
افسانہ" آخر میں نے پالیا تجھے" یہ ایک ایسا افسانہ ہے جس میں" ندیم " پر کسی جن کا سایہ ہوجاتا ہے اور بالاخر ایک پیر صاحب کے تعویزوں سے ندیم ٹھیک ہوجاتا ہے لیکن پھر ندیم کو آسیہ"نام کی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے اور "آسیہ "بھی ندیم سے بے حد محبت کرتی ہے لیکن ان کے ماموں ان کی محبت کو قبول نہیں کرتے اور وہ شادی سے انکار کر دیتا ہے کیوں کہ وہ پرانے خیالات و رسم رواج کے ماننے والے ہوتے ہیں لیکن "آسیہ" ندیم سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور وہ اپنے ماموں کی فکر نہ کرتے ہوے ندیم سے شادی کر ہی لیتی ہے اور افسانہ کے آخر پر معلوم ہوتا ہے کہ آسیہ وہی جنی ہوتی ہے جو پہلے ندیم پر فریفتہ ہوتی ہے لیکن ندیم کو اس بات کی کوئی خبر نہیں ہوتی کہ آسیہ وہی جنی ہے ۔ تبھی آخر پر"  آسیہ" نے مسکراتے ہوئے کہا "آخر میں نے آپ کو پا ہی لیا۔"  شادی کا تحفہ" بھی ایک خوبصورت افسانہ ہے۔ اس کا مرکزی کردار "مریم "ہے ۔مریم کی سہیلی" شہلا" ہوتی ہے ایک دن بازار میں اچانک شہلا کی نظر اس پر پڑتی ہے اور وہ گاڑی سے اتر کر اسے ملتی ہے، واپسی پر اسکا بھائی ماجد" اسے پوچھتا ہے کہ یہ لڑکی کون ہے تو شہلا ماجد کو اپنی دوست مریم کی رودادِ غم سناتی ہے۔ اگلے دن شہلا کی شادی ہوتی ہے لیکن رخصتی کے وقت شہلا اپنے بھائی کو نہ پاتے ہوئے امی سے کہتی ہے، ماجد بھائی کہاں ہیں ۔
تبھی شہلا کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی شہلا نے دوڑتے ہوئے دروازہ کھولا تو سامنے ماجد بھائی مسکرا رہے تھے، شہلا روٹھنے والے انداز میں کہنے لگی جائیے میں آپ سے بات نہیں کرتی۔ ارے پگلی! میں تیرے لیے شادی کا تحفہ لینے گیا تھا۔ کیا میں اپنی گڑیا کو بغیر تحفہ کے ہی وداعِ کر دیتا اور مریم کو ہاتھ کے اشارے سے اندر بلاتے ہوئے کہا:شہلا۔۔۔ تیری شادی کا تحفہ ہے تیری بھابھی۔’ افسانہ فریب‘ رمیش، مدھو ،شیلا ،گپتا جی اور آکاش جیسے کرداروں سے افسانے کا تانا بانا تیار کیا گیا ہے ۔مدھوجو رمیش کی ماں ہوتی ہے، ہمیشہ رمیش سے اس بات پہ ناراض رہتی ہے کہ رمیش پڑھائی لکھائی پہ کوئی خاص توجہ نہ دینے کے بجائے اپنے آوارہ دوستوں ،موبائل فون پر اپنا قیمتی وقت ضایع کرتا ہے ۔ایک دن گپتا جی ،جو کہ انکا پڑوسی ہوتاہے مدھو کے گھر رمیش کی شکایت لے کر آتا ہے۔ کہ رمیش میری بیٹی کو چھیڑتا ہے اور تلخ انداز میں کہتا ہے کہ اگر آپ نے اپنے بیٹے کو نہیں سمجھایا تو میں اسکو پولیس کے حوالے کروں گا  ۔۔۔۔ اچانک ایک دن مدھو ’ شیلا ‘جو کہ نوکرانی ہوتی ہے، اسے الٹی کرتے ہوے دیکھتی ہے تو مدھو چونکہ خود ایک عورت ہے ،اس لئے جلد سمجھ جاتی ہے کہ شیلا کنواری ماں بننے جا رہی ہے۔ ظاہر سی بات ہے مدھو کا شک اپنے بیٹے رمیش پہ جاتا ہے اور غصے کی حالت میں مدھو اپنے بیٹے کے گال پہ چانٹا رسید کرتی ہے لیکن مدھو کی حیرت کی انتہا اس وقت نہیں رہتی کہ جب وہ ایک کمرے میں اپنے شوہر آکاش کو شیلا کا گال سہلاتے ہوئے دیکھتی ہے ۔
 میری جان !تم گھبراؤ نہیں میں نے کب انکار کیا ہے کہ یہ بچہ میرا نہیں ۔یہ بچہ میرا ہے ۔مدھو کو اس بات کا کبھی پتا نہیں چلے گا ۔میں تم سے ضرور شادی کروں گا َ۔
مدھو نے کمرے میں جھانک کر دیکھا تو شیلا آکاش کی بانہوں میں رو رہی تھی اور آکاش اس کے چہرے کو سہلا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)
 (ریسرچ اسکالر شعبہ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری)
کولنگام ہندواڑہ
فون نمبر 9797864093