تازہ ترین

افسانچے

تاریخ    22 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


مینا یوسف

نار

سردی سے کانپتے ہوئے ہاتھوں نے جب ماچس کی ڈبیا اٹھائی تو شبنم کی طرح گیلی بہتی ہوئی ناک نے اُس کے لیے آگ جلانے کا کام یک دم بگاڑدیا۔بہتی ہوئی ناک کو پونچھنے کے لئے اپنے ہاتھ کو ناک کی طرف بڑھانے کے چکر میں ماچس کی ڈبیا اس کے ہاتھ سے گر کر نیچے کسی اور کے پیروں تلے دبن کر چکنا چور ہوگئی۔ سردی سے بچنے کے لئے جو کام اُس کے لئے آگ کی جلتی ہوئی لپٹیں کرتیں وہ کام اب اُس کے  اندر بھڑکتے ہوئے شعلوں نے کر دیا  اور یک دم سے اس کے کانپتے ہوئے ہاتھ اور بہتی ہوئی ناک اپنے ہوش میں واپس آگئے۔
 
 

چاند

زمانے کی بدلتی کروٹوں کے ساتھ ساتھ انسان کی زندگی بھی نہ جانے کتنی تلاطم بھرے کروٹوں سے گزرتی ہے لیکن پھر بھی وہ جانتی تھی کہ ہر رات کے بعد سویرا  ضرورہوتا ہے اورہر مشکل کے بعد آسانی ضرور ہوتی ہے۔شایدکہ اتنی سمجھ ہونے کے باوجود بھی وہ کبھی کبھی اپنے بہتے ہوئے آنسوں کی وجہ سے نا اُمیدی کا شکار ہو جاتی تھی اور یہ دنیا اُسے جیل خانہ لگتا ۔اپنے ماتھے پر جضوں کے درمیان بنے چاند کو ہمیشہ ایک جیسا دیکھ کر اُس سے لگتا تھا کہ اُس کی زندگی بھی اس ماتھے کے چاند جیسی یکسان اور رونق افروز ہے۔لیکن زندگی کے اُتار چڑ ھائو نے اُسے یہ سکھا دیا کہ ماتھے پہ بنے چاند اور زندگی کے چاند میںعرش و فرش کا فرق ہے۔
 
 
صفا پورہ مانسبل، سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر
موبائل نمبر؛7889899275