تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    8 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


مرےرُوبہ رُو تُو ہے جلوہ گر مجھے دیکھنے کا کرم تو دے
تِرا عکس جِس میںسدا رہے مُجھے ایسا دیدئہ نم تو دے
 
جو کلام تجھ سے ہو رُو بہ رُو تو بہم طویل ہو گفتگو
میں سدا رہوں تری خاکِ پا مجھے یہ شرف اَے صنم تو دے
 
مِری زندگی کی بیاض میں تِری عظمتوں کی ہو داستاں
تِرا ذکر جِس کی ہو نوک پر مرے ہاتھ وہ قلم تو دے
 
مِرا شوق رختِ سفر مرا تری دید منزلِ زندگی
جو لگائیں منزلِ شوق پر مجھے تیز رَو وہ قدم تو دے
 
ہے مِزاج میرا جومنفرد ہے کلام میرا جو دِل نشیں
تری رہنمائی کی ہے عطا مری فکر کو یہ بھرم تو دے
 
یہ عُشاقؔ در پہ کھڑا ہے جو تِرے آستان کا فقیر ہے
تُو ہے بادشاہِ سخن اِسے تُو متاعِ لوح و قلم تو دے
 
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) شاخ کشتواڑ
موبائل نمبر؛9697524469
 
 
 
انتظار ان کا ہے جو کہ نہیں آنے والے
ہم ہیں وہ خود کو جو ہوتے ہیں ستانے والے
جو ہو انہونی اُسے ہونی بنانے والے
اب کہاں پانی پہ گھوڑوں کو چلانے والے
ہنستے ہیں اپنی محبت پہ زمانے والے
باز آ جا اے مرے حیلے بہانے والے
میرا کیا ذکر ہے اے جان ترے تو انداز
ہوش یاروں کو ہیں دیوانہ بنانے والے
تجھ پہ قرباں ہے مری زیست کا اک ایک نفس
مجھ کو آداب محبت کے سکھانے والے
تجھ میں پھولوں کی صفت کیسے بھلا در آئی
خوشبو بن کر مری سانسوں میں سمانے والے
اپنا اندازِ محبت ہے زمانے سے جدا
ہم ستاروں سے ہیں مانگوں کو سجانے والے
دیکھنے میں ترا چہرہ تو ہے معصوم بہت
ایک اک گام پہ اے حشر اٹھانے والے
 
 ذکی طارق بارہ بنکوی 
سعادتگنج ، بارہ بنکی ، یوپی
موبائل نمبر؛7007368108
 
 
 
مرے گھر کی ویرانی مستقل ہے
یہ آنکھوں کی حیرانی مستقل ہے
مرے دُشمن تُجھے خوشیاں مبارک
مرے غم کی کہانی مستقل ہے
سمندر سُوکھتا ہے سُوکھ جائے
مری آنکھوں کا پانی مستقل ہے
تُمہارے رُخ کی رنگت اُڑ رہی ہے
کہاں حُسن و جوانی مستقل ہے
مرے سر پر غموں کی دھوپ ہے اور
تُمہاری شادمانی مستقل ہے
ہے مِٹنے کو مری جاویدؔ ہستی
مصیبت آسمانی مستقل ہے
 
سردارجاویدخان 
مینڈھر پونچھ
موبائل نمبر؛9419175198
 
 
 
لہجے کی تیری تلخی دل میں اُتر گئی ہے
تیری یہ کج ادائی نقصان کر گئی ہے
تیری گلی میں اب کے ہنگامہ یہ ہوا ہے
لیلیٰ لبادہ اپنا آ کے تو دُھر گئی ہے
وہ آ گئی ہے لیکن مجھ کو خبر نہیں ہے
میرے بغیر سب تک یارو خبر گئی ہے
ہر فن میں تم ہو یکتا ہر دل میں تم بسے ہو
اک اک تمہاری رحمت دیوانہ کر گئی ہے
آغاز شاعری کا جس کے لئے کیا تھا
میری سخنوری میں وہ حور مر گئی ہے
کوئی کہو مجھے اب اُس کی گلی میں آخر
بادِ نسیم کیونکر آ کے ٹھہر گئی ہے
جب اُس نے شاعروں میں تحسین و داد دی ہے
اُس شعر اس غزل کو مشہور کر گئی ہے
بن جائے گا فسانہ اب کے تو دوستوں میں
میرے تو ہاتھ پر وہ آئینہ دھر گئی ہے
سُن سُن ہماری باتیں واعظ تمہیں خبر کیا
پیمانہ وہ نظر سے کب کے تو بھر گئی ہے
اُس موڑ پر کھڑا ہوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے
جس موڑ سے وہ جاناں تنہا گزر گئی ہے
 
ساگر سلام
کوکرناگ، کشمیر
sagarsalam14@gmail.com
 
 
احساس برف جیسے، تکلم میں جوش تھا
سنتے تھے بے ارداہ کہ کب ہم کو ہوش تھا
کشتی کو کھے رہا تھا، کنارا کہیں نہ تھا
آثار تھے نمایاں، سمندر میں جوش تھا
شامل کہاں ہے حسنِ طلب اتفاق میں
میرا نہیں قصور، نہ تیرا ہی دوش تھا
کب ہے چُھپے چُھپائے یہاں وارداتِ دل
سب پر عیاں ہے آج کہ میں پردہ پوش تھا
کیا جی میں آگئی کہ ہوا تاثرِوفا
زاہد سا لگ رہا ہے جو بادہ فروش تھا
کیا سادگی کہوں میں اسے یا کہوں ستم
تر چشم خونِ دل سے، زباں سے خموش تھا
از خود سمجھ سکے نہ سمجھنے کی فکر کی
لب کو لگی تھی چُپ تو جگر میں خروش تھا
 
ڈاکٹر مظفر منظور
اسلام آباد، اننت ناگ کشمیر
موبائل نمبر؛9469839393
 
 
موسم کا یہ عذاب نہ پوچھو
دل کتنا بے تاب نہ پوچھو
خوف و ہراس اور ہر سُو دہشت
کیا آیا سیلاب نہ پوچھو
آندھی چلی ساون کی ایسی
مُرجھائے ہیں گلاب نہ پوچھو
دھرتی ہوگئی دُلہن جیسی
کیسے اُترا نقاب نہ پوچھو
کیسا غضب یہ فلک سے برسا
تن، من، دھن غرقاب نہ پوچھو
لے کے اُڑی ہے دل کا سکوں سب
ہوئی ہوا کیا خراب نہ پوچھو
استفہام سراپا لب ہیں
دے گا کون جواب نہ پوچھو
ہر سُو سحرؔ یادوں کی لہریں
آنکھیں ہوئیں پُرآب نہ پوچھو
 
ثمینہ سحرؔ مرزا 
بڈھون، راجوری
 
قبائے درد لیے بیٹھے ہیں
زہرِ عشق پیے بیٹھے ہیں
 
اک داستاں ہے قید مجھ میں
مگر لب اپنے سیئے بیٹھے ہیں
 
مت کیجئے ہم سے بحث
ہم تو آج پیئے بیٹھے ہیں
 
ہم کو اوروں سے کیا مطلب
یہاں تمہارے لئے بیٹھے ہیں
 
سانسیں اب بھی چل رہی ہیں
جانے کیا جُرم کئے بیٹھے ہیں
 
ترا غم پھر جاگ گیا تھا
سارا میخانہ پیئے بیٹھے ہیں
 
مجھے اپنی بھی کچھ خبر نہیں
یوں خود کو تباہ کئے بیٹھے ہیں
 
میر شہریارؔ
سریگفوارہ،اننت ناگ
موبائل نمبر؛7780895105
 
 
جو دوسروں کی زندگی میں غم بھرتے ہیں
دن اُنکے بھی کہاں خوشی میں گزرتے ہیں
 
بھروسہ ہے ہم کو خود اپنی کرنی پر
کام اپنا ہم طبیعت سے کرتے ہیں
 
پڑے نہ سابقہ جب تک، ہو کیا معلوم؟
خود اپنی ذات کوہم کیا نہیں سمجھتے ہیں
 
سچ ہوتے ہیں کیا وہ خواب سارے جو
کُھلی آنکھوں سے ہم دن کو دیکھتے ہیں
 
فنِ زندگی سے ہم بھی ہیں آشنا صورتؔ
دن ہماری زندگی کے خوب گزرتے ہیں
 
صورتؔ سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549
 
 
ا ب اثر لائے گی دعا میری
وہ سنے گا کبھی صدا میری
دردنے کر دیا ہمیں غافل
عشق پہ یہ رچی اَدا میری
درد کے منتظر کہاں تھے ہم
کب سنے یہ خدا نوا میری
شامِ منزل کہاں ملے گی اب 
جو سحر ہی بنی سزا میری
خلوتِ خانہ کیا اثر لائی
جو مہک کے اُڑی رِدا میری
ہم کہاں زندگی سمجھ پائے
ہر اَدا اس سے ہے جُدا میری
 
یاسمینہؔ خان
شوپیان