تازہ ترین

کشتواڑ آپریشن تقریباًختم

کنگن میں 5مقامات پر بادل پھٹے،متعدد دیہات متاثر| لاشیں نکالنے کے امکانات معدوم،بستی کو منتقل کرنیکا مطالبہ

تاریخ    3 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


غلام نبی رینہ+عاصف بٹ
کشتواڑ +کنگن // ہونزڈکشتواڑ میں 19افراد کی لاشیں نکالنے کا آپریشن تقریباً ختم کردیا گیا ہے کیونکہ لاشیں ملنے کے امکانات ختم ہوگئے ہیں۔ ادھرگاندربل کے کنگن علاقے میں5مقامات پر سیلابی پانی سے رہائشی مکانوں اور سینکڑوں کنال زرعی اراضی کو نقصان پہنچا ہے۔ 

کشتواڑ

27جولائی کی شام کشتواڑ ہیڈکوارٹر سے70 کلومیٹر دور علاقہ دچھن کے ہونزڈ گائوں میں بادل پھٹنے کے واقعے میں قریب 26 افراد کی جانیں چلی گئی ہیں۔ جن میں7 افراد کی لاشیں بر آمد کی جاچکی ہیں جبکہ 19ہنوز لاپتہ ہیں جو بھاری پتھروں کے نیچے دفن ہوگئے ہیں۔کشمیر عظمیٰ کو مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقہ دچھن میں پہلی بار اس طرح کا واقعہ رونما ہوا ہے ۔ اسی علاقہ میں سال 2004 میں آگ کی ہولناک واردات میں پورا گائوں جل گیا تھا۔جسکے بعد مقامی لوگوں نے گائوں کے لوگوں کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی مانگ کی تھی لیکن انکی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔لوگوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے انکی بات کو سنا ہوتا اور انہیں کسی دوسری جگہ منتقل کیا ہوتا تو پچھلے دنوں کا المناک حادثہ پیش نہ آیا ہوتا۔70 سالہ بزرگ شخص محمد رحمان نے بتایا کہ اسی نالے میں 40 سال قبل سیلاب آیا تھا اور زرعی زمین کو نقصان پہنچا تھا لیکن اس وقت کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔محمد عباس نامی معمر شخص نے کشمیر عظمیٰ کو روتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اسے قبل بھی کہیں دوسری جگہ منتقلی کی مانگ کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ علاقہ میں جگہ کی کمی کے سبب لوگوں نے نالے کے بالکل قریب مکانات تعمیر کئے تھے اور جو مکانات بچ گئے ہیں، انہیں بھی مستقبل میں خطرہلاحق ہے اگر آج 26 افراد کی ہلاکت ہوئی تو کل یہ سینکڑوں کی تعداد میں ہوگی۔

کنگن

سمبل بالا گنڈ، سرفرائو، گنہ ون، یچھ ہامہ کنگن ،درد وڈر مامر کنگن میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں بیک وقت5 مقامات پر پانی کے ریلے آئے جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ پانی کئی رہائشی مکانوں میں داخل ہوگیااور زرعی اراضی کو بھی نقصان ہوا ۔ اس دوران سمبل بالا گنڈ اور سرفرا ئومیں سیلابی پانی کی وجہ سے سڑک بند ہوگئی جس کے نتیجے میں شاہراہ پر چار گھنٹے تک ٹریفک کی آمدورفت متاثر رہی۔اطلاع ملتے ہی بچائو کارروائی شروع کی گئی۔ ایس ڈی پی او کنگن یاسر قادری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سیلابی صورتحال پیدا ہونے اور اندھیرے کے باعث پولیس نے کئی گھرانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔ پیر کی صبح سرفرا ئو،گنہ ون یچھ ہامہ، سمبل بالا گنڈ، درد وڈرو کا دورہ کرکے سیلابی صورتحال کا جائزہ لیکر نقصانات کا جائزہ لیا گیا اور موقع پر سرفرا ئواور سمبل بالا گنڈ سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا گیاجس کے بعد سمبل گنہ ون سڑک کو آمدورفت کے لئے بحال کردیا گیا۔
 
 
 

 مغل روڑ پر  پہاڑی کھسک گئی

ٹریفک کی آمد رفت بند 

شاہد ٹاک
 
شوپیان //جموں و کشمیرمیں گزشتہ 5روز کی شدید بارشوں کے بعد مغل روڑ پر بھاری پسی گر آئی جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کی آمد رفت کے لئے بند کر دیا گیا ۔ ضلع شوپیان اور پونچھ راجوری کو ملانے والے مغل روڑ پر پیر کی صبح پوشانہ کے مقام پر پہاڑی ہی کھسک کر نیچے آئی اور مغل شاہراہ کا بہت بڑا حصہ ڈھہ گیا۔بھاری پسی گر آنے کی وجہ سے ٹریفک کی نقل حمل بند کردی گئی۔ٹریفک حکام نے بتایا کہ پسی کو ہٹانے کیلئے بھاری مشینری پہنچائی گئی ہے۔ مغل روڑ 5 جولائی کو ہر قسم کی گاڑیوں کیلئے کھول دی گئی تھی اور اسی روز کشتواڑ سنتھن روڑ بھی کھول دیا گیا تھا۔
 

تازہ ترین