تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    1 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


 
درد کے راستوں میں رہتا ہے
وہ فقط سازشوں میں رہتا ہے
گُھپ اندھیرا گھروں میں رہتا ہے
بغض جب تک دلوں میں رہتا ہے
اُس کو دنیا نظر میں رکھتی ہے
وہ سدا آئنوں میں رہتا ہے
خار جیسے گلوں میں رہتے ہیں
وہ مرے دوستوں میں رہتا ہے
ظلم کے بادلوں کے سائے میں
آدمی جنگلوں میں رہتا ہے
موج و طوفاں سے اس کو کیا مطلب
وہ تو بس بزدلوں میں رہتا ہے
حق کی آواز وہ نہیں سنتا
کیونکہ وہ حاکموں میں رہتا ہے
جب سے اس ماہ رخ کو دیکھا ہے
دل مرا جگنوؤں میں رہتا ہے
جب تلک ہو ہوا مخالف شمسؔ
حوصلہ شہپروں میں رہتا ہے
 
ڈاکٹر شمس کمال انجم
صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر؛9086180380
 
 
 اب کے وہ بس چیختا ہے
دشت  دریا  مانگتا  ہے 
 
رات رونے پر تٗلی ہے 
دن کا چہرہ بھی تھکا ہے
 
ہاتھ دھوئے سب نے ہی پر
خون پیڑوں پر جما ہے 
 
کس کو سمجھوں جان و دل میں
اک بدلتا سلسلہ ہے 
 
زندگی خاموش گم سٗم
محفلوں میں قہقہہ ہے 
 
مشتاق مہدیؔ
مدینہ کالونی۔ ملہ باغ حضرت بل سرینگر
موبائل  نمبر؛9419072053
 
 
ہجر دستور ہو گیا میرا
زخم ناسور ہو گیا میرا
پھر تجلی تری گری مجھ پر
پھر بدن طور ہوگیا میرا
میرے اخلاص کی خطائیں ہیں
یار مغرور ہو گیا میرا
دیدۂ یار کا ہدف نہ ہوا
داغ بے نور ہو گیا میرا
کوئے جاناں سے کھینچ لایا تو
قلب رنجور ہو گیا میرا
پھر کسی بے وفا نے توڑا ہے
پھر گماں چُور ہو گیا میرا
نام تیرا اُدھار لینے کو 
نام مجبور ہو گیا میرا
یادِ کربل سے دل ملا جب سے
اشک عاشور ہو گیا  میرا
زخم آفاقؔ کس کو دکھلاؤں
آشنا دور ہو گیا میرا
 
آفاقؔ دلنوی کشمیری
دلنہ بارہمولہ کشمیر
موبائل نمبر؛ 7006087267
 
 
فضا میں پرندے اُڑانے بہت ہیں 
شکاری یہاں کے سیانے بہت ہیں 
 
زمانے سے ہم کو چُھپانے بہت ہیں 
تمہیں داغ دل کے دکھانے بہت ہیں 
 
کنارے پہ کوئی نگینہ ملا کیا ؟
سمندر کے اندر خزانے بہت ہیں 
 
یہ ان کی سبھا ہے ذرا ہوش رکھنا
قواعد ضوابط نبھانے بہت ہیں 
 
مسافت ادھوری نہیں چھوڑ جانا 
سفر میں مسافر ٹھکانے بہت ہیں 
 
فضا میں سیاہی ہنر مند پریشاں 
مرے شہر میں کارخانے بہت ہیں 
 
چراغ ِوفا کو سنا ہے کہ عارف ؔ
مراسم ہوا سے پرانے بہت ہیں 
 
جاوید عارفؔ
شوپیان کشمیر
موبائل نمبر؛7006800298
 
 
آج پھر اس نے محفل میں بلایا ہے مجھے
جس نے نظروں سے کئی بار گرایا ہے مجھے
 
رشتے ناطوں سے ہی آباد ہے کیا یہ دُنیا؟
ایسے بیکار وچاروں نے ستایا ہے مجھے
 
تو نے ہر درد کو سہنے کا ہنر دے ہی دیا مُرشد
اس عنایت نے تیری کتنا رُلایا ہے مجھے
 
بس تصور میں ہے ساقی کی ادائے چارہ گری
مہرباں ہو کے جو آنکھوں سے بُلایا ہے مجھے
 
اب یہ احساس ہوا ہے کہ گنوائی عمر سعیدؔ
وقت نے آئینہ جو سچ کا دکھایاہے مجھے
 
سعید احمد سعیدؔ
احمد نگر، سرینگر
موبائل نمبر؛9906355293
 
 
کون جانے کدھر گیا یاور
دل و جگر میں اُتر گیا یاور
 
خود کلامی نہیں ہے یہ صاحب 
اک نشہ تھا اُتر گیا یاور
 
ناخدا بھی خدا ہوے ہیں جب
کیوں کوئی سدھر گیا یاور
 
آج برسا بہت ہوں میں لیکن
اک جنوں سے نکھر گیا یاور
 
بات کیسے میں بول سکتا ہوں
اک غزل کہہ گزر گیا یاور
 
موت ہر در پہ دے رہی دستک
بول کر اب کدھر گیا یاورؔ
 
یاورؔ حبیب ڈار 
بڈکوٹ ہندوارہ
موبائل نمبر؛9622497974
 
 
میری چاہت ـوہ انجان
دل تو ہے میرا نادان
 
گِننے بیٹھوں جب نقصان 
تھم جائےگا سب طوفان
 
حیلے سارے کر کے دیکھے
کچل گئے سارے ارمان
 
سپنوں میں کچھ کھوئی ایسے
ہو کر میں خود سے انجان
 
میں نے وارا جیون سارا
تم نہ بدلے پر بھگوان 
 
دھن دولت چھوڑی جسپالؔ
وہ نہ چھوڑے مان سمان
 
جسپالؔ کور
نئی دلی
 موبائل نمبر؛9891861497