تازہ ترین

نیا اُجالا

افسانچہ

تاریخ    1 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


مدثر راتھر
رات کا آخری پہر تھا، سردی ایسی تھی کہ ہڈیوں کے اندر تک گھسی جا رہی تھی۔ بارش بھی اتنی تیز تھی جیسے آج اگلی پچھلی کسر نکال کر رہے گی۔۔
میں اپنی کار میں دوسرے شہر سے ایک کاروباری دورے سے واپس آرہا تھا اور کار کا ہیٹر چلنے کے باوجود میں سردی محسوس کر رہا تھا۔ دل میں ایک ہی خواہش تھی کہ بس جلد سے جلد گھر پہنچ کر  بستر میں گھس کر سو جاؤں۔مجھے اس وقت کمبل اور بستر ہی سب سے بڑی نعمت لگ رہے تھے۔ سڑکیں بالکل سنسان تھیں،حتیٰ کہ کوئی جانور بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ لوگ اس سرد موسم میں اپنے گرم بستروں میں دبکے ہوئے تھے۔ جیسے ہی میں نے  کار اپنی گلی کی طرف موڑی تو مجھے کار کی روشنی میں بھیگتی بارش میں ایک سایہ نظر آیا۔ اس نے بارش سے بچنے کے لئے سر پر پلاسٹک کے تھیلے جیسا کچھ اوڑھا ہوا تھا اور وہ گلی میں پانی سے خود کو بچتا بچاتا آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔
مجھے شدید حیرانی ہوئی کہ اس موسم میں بھی کوئی شخص اس وقت کیسے باہر نکل سکتا ہے۔ مجھے ترس آیا کہ پتہ نہیں کس مجبوری نے اُ سے اس پہر اس طوفانی بارش میں باہر نکلنے پر مجبور کیا۔ میں نے گاڑی اسکے قریب جاکر روکی اور شیشہ نیچے کر کے اس سے پوچھا۔ بھائی  صاحب آپ کہاں جا رہے ہیں؟
آیئے میں اپ کو چھوڑ دیتا ہوں'۔اُس نے میری طرف دیکھ کر کہا'' شکریہ بھائی جان بس میں یہاں قریب ہی جا رہا ہوں اسلئے پیدل ہی چلا جاؤں گا" یہ سن کر میں  بڑا حیران ہوا اور میں نے پوچھا بھائی جان اس موسم میں اس وقت آپ کہاں جا رہے ہیں؟
"اس نے جواب دیا" مسجد"میں نے بڑی حیرانی سے پوچھا"۔اس وقت مسجد میں کیا کرنے جا رہے ہیں؟؟؟ اس نے کہا کہ ’’میں اس مسجد کا مؤذن ہوں اور فجر کی اذان دینے کے لئے مسجد جا رہا ہوں‘‘یہ کہہ کر وہ اپنے راستے پر چل پڑا اور مجھے ایک نئی سوچ میں گم کر گیا۔ کیا آج تک ہم نے کھبی سوچا ہے کہ سخت سردی کی راتوں میں طوفان ہو یا بارش ، کون ہے جو اس وقت پر اللہ کے بلاوے کی صدا بلند کرتا ہے؟ کون ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ’’نماز نیند سے بہتر ہے‘‘کون ہے جو یہ اعلان کرتا ہے کہ ’’آؤ نماز کی طرف آؤ کامیابی کی طرف‘‘اُسے اس کامیابی کا کتنا یقین ہے کہ اسے اس فرض کے ادا کرنے سے نہ تو سردی روک سکتی ہے اور نہ ہی بارش۔ جب ساری دنیا اپنے گرم بستروں میں نیند کے مزے لے رہی ہوتی ہےوہ اپنے  فرض کو ادا کرنے کے لئے اٹھ جاتا ہے۔تب مجھے علم ہوا کہ یقیناً ایسے ہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے اللہ ہم پر مہربان ہے اور انہی لوگوں کی برکت سے دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ میرا دل چاہا کہ نیچے اُتر کر اسے سلام کرؤں لیکن وہ جاچکا تھا اور تھوڑی دیر بعد جیسے ہی اللہ اکبر کی میٹھی صدا گونجی تو میرے قدم بھی مسجد کی جانب اٹھ گئے اور آج مجھے سردی میں مسجد کی طرف چلنا گرم بستر اور نیند سے بھی زیادہ اچھا لگ رہا تھا
 
 ���           
کولنگام ہندوارہ
موبائل نمبر؛ 9797864093
 

تازہ ترین