تازہ ترین

دور افتادہ علاقوں میں عرصہ دراز سے کام کررہے سیزنل ٹیچر ذہنی تنائو کا شکار | محکمہ پر منظور نظر لوگوں کو فائدہ پہنچانے کا الزام،ناانصافی نہیں ہو گی، پرانے سینٹر بحال رہیں گے ،:سی ای او ڈوڈہ

تاریخ    30 جولائی 2021 (07 : 01 AM)   


اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کے دور افتادہ علاقوں میں پچھلے ایک دہائی سے کام کررہے سیزنل ٹیچروں نے متعلقہ محکمہ و فرضی ایسوسی ایشن کی طرف سے انہیں ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عرصہ دراز سے وہ قلیل سے وسائل کے باوجود اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں تاہم محکمہ کے کچھ ملازمین اپنے منظور نظر لوگوں کو فائدہ پہنچا کر انہیں نظر انداز کررہے ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسوسی ایشن کے نام پر کچھ افراد اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے انہیں پریشان کرتے ہیں۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ایک وفد نے کہا کہ وہ پچھلے گیارہ برسوں سے پہاڑی علاقوں میں گوجر بکروال و دیگر طبقہ کے لوگوں کے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں جہاں پر رہنے سہنے کا کوئی معقول انتظامات نہیں ہوتے ہیں لیکن آج کچھ افراد محکمہ کے ساتھ ملی بھگت کرکے اپنے منظور نظر لوگوں کو آگے لا رہے ہیں۔وفد میں شامل چوہدری محمد صابر نے کہا کہ وہ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور بچپن سے ہی یتیمی کی زندگی گذار رہے ہیں اور گھر کا اکلوتا کمانے والا ہوں۔انہوں نے کہا کہ وہ 2012 سے سیزنل اسکول میں کام کر رہے ہیں اور غریبی کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھی اور ایم اے و بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی لیکن ہمیں ہراساں کیا جاتا ہے۔عبد الغنی نامی ایک اور ای او نے کہا کہ وہ اب ذہنی تنا کا شکار ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2010 سے وہ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن آج ان کے ساتھ سوتیلے پن کا سلوک کیا جارہا ہے۔انہوں نے چیف ایجوکیشن آفیسر ڈوڈہ اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ عرصہ دراز سے کام کررہے سیزنل ٹیچروں کے ساتھ انصاف کیا جائے اور سیزنل اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔انہوں نے ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو ان کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں۔سیزنل ٹیچروں نے کہا کہ ہم کسی ایسوسی ایشن و تنظیم کے ساتھ نہیں جڑے ہیں۔ادھر سیزنل ٹیچر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ عرصہ دس پندرہ برسوں جو سیزنل ٹیچر کام کر رہے ہیں اگر ان میں سے کوئی بھی اسکول بند ہوا تو اس کے لئے ذمہ دار تمام زونل ایجوکیشن آفیسران و دفاتر میں کام کر رہے کلریکل عملہ ہوگا جو اپنے منظور نظر لوگوں کو آگے لا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کو لیفٹیننٹ گورنر و اعلی حکام کی نوٹس میں بھی لایا جائے گا۔اس سلسلہ میں جب کشمیر عظمیٰ نے چیف ایجوکیشن آفیسر ڈوڈہ پرلہاد بھگت سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ کسی ساتھ ناانصافی نہیں ہو گی۔سی او نے کہا کہ پرانے سیزنل ٹیچر بحال رہیں گے اور نئے اسکول کھولنے کی قطعا اجازت نہیں دی جائے گی۔تاہم انہوں نے کہا کہ ان اسکولوں میں بچوں کی تعداد 13 سے زائد ہونی چاہئے۔سی او نے کہا کہ اگر کوئی اپنی من مرضی سے کام کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔