تازہ ترین

جموں کشمیر دیہی معاشی انقلاب کی طرف گامزن | جو پچھلے 70 برسوں میں کبھی نہیں ہو، وہ اب ہورہا ہے: ایل جی

تاریخ    30 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
کٹھوعہ//دیہی علاقوں میں کسانوں اور غیر زراعت آبادی کیلئے مختلف پروگراموں کی ساختی تبدیلیاں اور استحکام جموں و کشمیر کیلئے کسی انقلاب سے کم نہیں ۔ یو ٹی نے توسیعی کاروائیاں اور مضبوط سپلائی چین سسٹم کے ذریعہ ملک میں زراعت اور باغبانی کے کاروبار کو نئی شکل دی ہے جو پچھلے 70 برسوں میں کبھی نہیں ہوا تھا ۔ ان باتوں کا اظہار لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کٹھوعہ ضلع کے ہیرا نگر اسپورٹس سٹیڈیم میں ہونے والے پہلے ’’ وشال پشو دھن ویاپار میلہ ‘‘ میں شرکت کے دوران کیا ۔  انہوںنے کہا کہ یو ٹی میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ جانوروں کو پالنے والے کسانوں کو اضافی آمدنی کا ذریعہ فراہم کرے گا ۔ حکومت کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اعلیٰ معیار کے مویشیوں کی نسلوں کی فروخت /خریداری کیلئے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے جس سے جموں و کشمیر کے ڈیری سیکٹر کو تقویت ملے گی اس کے علاوہ دودھ ، چارہ اور مٹن کی پیداوار میں جے اینڈ کے کی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری سیکٹر میں طلب اور رسد کے فرق کو درآمد کریں اور اس کو کم کریں اور نئے کاروباری افراد کو راغب کر کے روز گار پیدا کریں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فروخت /خریداری کے بعد محکمہ انیمل اینڈ شیپ ہسبنڈری کی طرف سے جانوروں کے انشورنس کی سہولیات بھی دستیاب ہے ۔ زراعت کے شعبے کو جموں و کشمیر کی معثیت کا ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ حکومت بڑے پیمانے پر شعبے کی ترقی کیلئے مستحکم کوششیں کر رہی ہے تا کہ کاشتکاروں اور زراعت سے وابستہ دوسرے شعبوں میں شامل اسٹیک ہولڈرز کی آمدنی دوگنا ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری 70 فیصد آبادی زراعت پر منحصر ہے جبکہ قریباً 76 لاکھ افراد زراعت پر منحصر ہیں انہوں نے مزید کہا کہ اس سال زراعت کے شعبے کیلئے 2008 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جو متعدد دیگر ریاستوں اور یو ٹیز کے مقابلے میں فی کس بجٹ سے کہیں زیادہ ہے ۔ جموں و کشمیر کے بدلتے ہوئے زراعت اور باغبانی کے نظام کے بارے میں ایک تحقیقی مقالے  جو امریکہ کے سائینس جریدے ’’ہیلئین ‘‘ میں شایع ہوا،کا حوالہ دیتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ اس مقالے نے یو ٹی میں زراعت کے شعبے میں ہونے والی تاریخی ترقی کی تصدیق کی ہے ۔ حکومت نے محکمہ پشو پالن ، بھیڑ پالن ، ماہی پالن کے لئے امسال کے بجٹ میں 338کروڑ روپے رکھا ہے ۔ اِاُنہوںنے کہا کہ دودھ اور پولٹری شعبوں میں درآمدات کو کم کرنے اورمانگ اور رسد کے فرق کو ختم کرنے ، کانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے اور روزگار پیدا کرنے کی کوششوں کے لئے حکومت نے انٹگریٹیڈ ڈیری ڈیولپمنٹ سکیم شروع کی ہے ۔ اِس سکیم کے تحت ڈیری یونٹوں کے قیام ، دودھ جمع کرنے اورکولنگ پروسسنگ یونٹوں ، مارکیٹ بنیادی ڈھانچہ اور دودھ اور دودھ کی مصنوعات کی ٹرانسپورٹیشن نظام، ڈیری فارموں کے ماحولیاتی اِنتظام کے لئے 50فیصد سبسڈی کی شکل مالی مدد فراہم کی جاتی ہے ۔ اِس سال حکومت زائد اَز 4,000جانوروں اور دودھ کے دیگر پروسسنگ یونٹوں کے ذریعے 800 نئے ڈیری یونٹ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس سے دودھ کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ انٹگریٹیڈ پولٹری ڈیولپمنٹ پروگرام 2021-22 کے تحت نئے کمرشل برائیلر فارموں کے قیام کے لئے پولٹری برائیلر چوزوں کی انشورنس ، پولٹری ڈریسنگ اور پروسسنگ یونٹ کے قیام ، پولٹری رینڈرینگ یونٹ کا قیام ، پولٹری کیجڈ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کا پولٹری ٹرانسپورٹیشن اور منی ہیچری / انکیو بیٹرس کے قیام پر 50 فیصد سبسڈی اہم مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس سال محکمہ پولٹری پیداوار بڑھانے کے لئے زائد اَز 500 نئے تجارتی برائیلر فارم اور دیگر یونٹ قائم کرنے کے لئے نئے کاروباریوں کی حوصلہ افزائی کرے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت اِمسال دوردراز اور ناقابل رسائی علاقوں میں ویٹرنری کیئر خدمات فراہم کرنے کے لئے 26 موبائیل ویٹرنری کلینک بھی قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔