تازہ ترین

ہونزڈ دچھن میں قبرستان کی خاموشی | 8خواتین سمیت 19شہری ہنوز لاپتہ

دوسرے روز کوئی لاش بر آمد نہ ہوسکی،کئی میٹر ملبے اور بھاری پتھروں کی موجودگی میںبچائو آپریشن میں مشکلات،مزید نفری طلب

تاریخ    30 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   
(عکاسی: آصف بٹ)

عاصف بٹ
ہونزڈ(کشتواڑ) //کشتواڑ ضلع ہیڈ کوارٹر سے 70کلو میٹر دور اننت نالہ کے کنارے واقع ہونزڈ دچھن نام کی جو چند روز قبل ایک آباد بستی تھی وہاں آج ہر طرف قبرستان کی خاموشی ہے۔منگل اور بدھ کی درمیانی شب بادل پھٹنے کے نتیجے میں اس بستی کو سیلانی ریلے اپنے ساتھ بہا کر لے گئے جس کے دوران ابھی تک 7افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، 17افراد کو بچا لیا گیا اور 8خواتین سمیت 19افراد ہنوز لاپتہ ہیں۔ بازیاب کئے گئے 17زخمیوں میں سے 5 کی حالت نازک قرار دی جارہی ہے۔کشمیر عظمیٰ کے اس نامہ نگار نے بدھ کے روز ہی 3گھنٹے کا پیدل سفر طے کر کے بستی کا رخ کیا۔یہ بستی اب ویران علاقہ بن گیا ہے جہاں انسانی وجود کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا ہے۔ بستی میں کبھی 23کنبے آباد ہوا کرتے تھے اور ا س قہر انگیز واقعہ میں 21رہائشی مکان،21گائو خانے اور 6چھوٹے پل بہہ گئے جبکہ بستی کے صرف دو مکان بچ گئے جنہیں جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ راش گھاٹ جو چاول سے بھرا پڑا تھا، اس کا کہیں نشان تک نہیں بچا ہے ۔اس گائوں میں جو افراد بچ گئے ہیں ان کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لیتے ۔ ضلع کشتواڑ سے دچھن کا یہ علاقہ 70کلو میٹر کی دوری پر ہے ۔اس علاقے تک کوئی بھی رابطہ سڑک نہیں ہے اور ہونزڈ تک پہنچتے کیلئے 4گھنٹے کا پیدل سفر کرنا پڑتا ہے ۔بادل پھٹنے کا واقع اس گائوں میں منگل کی شام 8بجے پیش آیا اور جس نالہ میں تغیانی آئی اب وہاں پانی نہیں بلکہ کئی فٹ ملبا اور پتھر جمع ہیں اور معمولی پانی کا رخ بھی بدل گیا ہے ۔بستی کے بچ جانے والے والے مقامی لوگوں کاکہنا ہے’’ جب سیلاب آیا ہم لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے ، ہر طرف چیخ وپکار آہ وبکا اور گریہ زای کا شور وغل تھا، کسی کو کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ہم کیا کریں ، جب لوگوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھا گیا تو ان کو بچانے کی کوشش میں کئی لوگ نالہ میں بہہ گئے اور اب ان کا کہیں کوئی اتہ پتہ نہیں وہ کہاں ہیں ‘‘۔لاپتہ افراد کو ڈھونڈنے کیلئے بچائو آپریشن جاری ہے لیکن جمعرات کی شام تک 19افراد میں سے کسی بھی شہری کی لاش برآمد نہیں کی جا سکی ہے۔پولیس، فوج اور ایس ڈی آر ایف کے علاوہ رضاکار بچائو کارروائیوں میں لگے ہوئے ہیں، لیکن سیلابی ریلے سے  لاکھوں ٹن ملبہ مذکورہ بستی میں موجود ہے جسکو ہٹانے کیلئے انتظامیہ کی پوری مشنری بھی کم پڑ رہی ہے اور انتظامیہ کیلئے لاشوں کو ڈھونڈنا کافی مشکل ہو گیا ہے ۔ایس ایس پی کشتواڑ شفقت بٹ جو موقع پر موجود ہیں، نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ 27 جولائی کی شام یہاں پر دل دہلا دینے والا واقع پیش آیا۔ کشتواڑ سے یہ علاقہ کافی دور ہے یہاں سے ضلع انتظامیہ کو وائرس سیٹ کے ذریعہ اطلاع ملی تھی جس کے بعد اننت نالہ پولیس پوسٹ کے جوانوں نے ایس ایچ او کی سربراہی میں بچا آئوپریشن شروع کیا‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک 17افراد کو زخمی حالت میں بازیاب کیا گیا اور 7کی لاشوں کو بدھ کی شام تک نکالا جا چکا تھا ۔ایس ایس پی نے کہا کہ 5شدید زخمیوں کا علاج ومعالجہ جل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کی شام کو بھی علاقے میں شدید بارش ہوئی ،لیکن اس کے باوجود بھی پولیس اور مقامی رضاکاروں کے ساتھ ساتھ ایس ڈی آر ایف کے اہلکاروں نے آپریشن جاری رکھا ۔انہوں نے کہا کہ جس علاقے میں بادل پھٹنے سے تباہی مچ گئی ہے، وہاں پربچائو آپریشن کرنا کافی مشکل بن رہا ہے کیونکہ وہاں پر بڑے بڑے پتھر اور ملبہ جمع ہو چکا ہے ،لیکن اس کے باوجود بھی انتظامیہ اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ لاشوں کو بازیاب کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایس ڈی آر ایف ، فوج اور مزید پولیس کی مدد طلب کی ہے ۔
 
 
 

جان ومال کابھاری نقصان ایک المیہ | متاثرین کی بازآبادی عمل میں لائی جائیگی:ایل جی

نیوز ڈیسک
سرینگر//جموںوکشمیرکے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ ضلع کشتواڑ کے ہونزڈ دچھن متاثرین کی مکمل بازآبادی عمل میں لائی جائے گی ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کے روز بادل پھٹنے کے بعدپیداہوئی سیلابی صورتحال کے دوران کشتواڑ میں جو شہری لاپتہ ہوئے ہیں ،اُنکی تلاش کاکام بڑے پیمانے پرجاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ لاپتہ افرادکی تلاش کی مہم میں پولیس وفوج کے علاوہ ایس ڈی آرایف اوراین ڈی آرایف کی ٹیمیں لگی ہوئی ہیں ۔منوج سنہا کاکہناتھاکہ جموں اورسرینگرسے ایس ڈی آرایف کی ٹیموں کوکشتواڑ کے متاثرہ علاقوں میںپہنچادیا گیا ہے۔انہوں نے بتایاکہ بادل پھٹنے کے بعدپیداہوئی تباہ کن صورتحال کے نتیجے میں جان ومال کابھاری نقصان ہونا ایک المیہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ ایک انتہائی دردناک اوردکھ بھرا حادثہ ہے،جس میں تاحال7انسانی جانیں تلف ہوئیں اورمتعددافراد زخمی ہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے کشتواڑ میں المناک بادل پھٹنے سے اَپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لوگوں کے لواحقین کیلئے فی کس5 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا،اور شدید زخمی اَفراد کو فی کس50ہزار روپے اور ایس ڈی آر ایف کے تحت12700 روپے بھی دئیے جائیںگے۔انہوں نے کہاکہ ایس ڈی آر ایف کے تحت گھروں، برتنوں ، لباس ، گھریلو سامان ، مویشیوں ، مویشیوں کے شیڈ ، زرعی اراضی کا نقصان وغیرہ ڈپٹی کمشنر کشتواڑ مہیاکریں گے۔  منوج سنہا نے کہاکہ جموںوکشمیر کی حکومت متاثرہ کنبوں کی مدد اور ان کی حفاظت کیلئے ہرممکن کوشش کرے گی ۔انہوں نے جمعرات کوکہاکہ کشتواڑ کلائوڈ برسٹ متاثرہ کنبوں کی بازآبادکاری کیلئے ہرممکن کوشش کی جائیگی ۔منوج سنہا نے کہاکہ قدرتی آفت کے شکار ہوئے لوگوں کی بازآبادکاری کیلئے حکومت سے جوکچھ بن پائے گا،وہ ضرور کرے گی ،تاکہ متاثرہ گائوں کے لوگ پھرسے معمول کی زندگی گزارسکیں ۔
 

تازہ ترین