تازہ ترین

اسلام میں خیر خواہی کی اہمیت

خیرو خوبی

تاریخ    30 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


مولانا آفتاب اظہر صدیقی
آج کے پُرفتن دور میں اگر کوئی چیز انسانوں کو انسانیت کا احساس دلاتی ہے تو وہ ہے ’’خیر خواہی‘‘ یعنی بھلا چاہنا۔ وہ انسان انسانیت کا علم بردار ہے جو اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی ہمیشہ بھلائی چاہتا ہے، راقم اپنی دینی تقاریر میں کہا کرتا ہے کہ انسانیت کا مکمل درس اسلامی نصاب میں موجود ہے، اسلام آیا تو انسانیت زندہ ہوئی، اسلام نے انسانیت کے ہر راستے پر آدمی کو چلنے کی ہدایت دی اور طریقہ بتایا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بات کرنی چاہیے، انہوں نے اسلام کی تعلیمات کو نہیں سمجھا، اسلام ہی انسانیت کا حامی مذہب ہے، انسانیت کی جتنی قسمیں ہوسکتی ہیں وہ سب کی سب نصابِ اسلام میں موجود ہیں؛ لہذا جو انسانیت کو فروغ دینے کی باتیں کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اسلام کی تعلیمات کو عام کریں، انسانیت خود بخود عام ہوجائے گی۔ 
انسانیت کا کوئی مترادف لفظ تلاش کیا جائے تو ’’خیر خواہی‘‘ سے بڑھ کر مو زوں لفظ نہیں ملے گا۔ اب نظر کیجیے انسانیت کے سب سے بڑے پیغام بر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ ارشاد فرمایا: ’’دین سراسر خیرخواہی کا نام ہے۔‘‘ (سنن النسائی،کتاب البیعۃ،النصیحۃ للامام، ج:۲)نیز مسلم شریف میں حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ’’أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قال: الدین النصیحۃ، قلنا لمن؟ قال: لِلّٰہ ولکتابہٖ ولرسولہٖ ولأئمۃ المسلمین وعامتہم۔‘‘ (صحیح مسلم، باب الدین النصیحۃ، ج:۱)
ترجمہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی کانام ہے (یعنی نصیحت اور خیر خواہی اعمالِ دین میں سے افضل ترین عمل ہے یا نصیحت اور خیر خواہی دین کا ایک مہتم بالشان نصب العین ہے) ہم نے (یعنی صحابہؓ نے) پوچھا کہ یہ نصیحت اور خیر خواہی کس کے حق میں کرنی چاہیے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ کے لیے، اللہ کی کتاب کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے۔‘‘
مذکورہ حدیث میں ’’نصیحت‘‘ کو بھی خیرخواہی قرار دیا گیا ہے، حقیقت ہے کہ خیر خواہی میں دوسروں کے لیے بھلا چاہنا ہوتا ہے اور نصیحت بھی دوسروں کی بھلائی کے مقصد سے کی جاتی ہے؛ معلوم ہوا کہ نصیحت خیر خواہی کا اہم حصہ ہے۔
یوں تو خیرخواہی کا بدلہ دنیا میں بھی خیرخواہی کی شکل میں سامنے آتا ہے؛ لیکن مسلمان کو دنیا کی خیرخواہی کے بدلے آخرت میں بھی نیکیاں ملتی ہیں، ایک مسلمان جب کسی کے لیے اچھا سوچتا یا اچھا کرتا ہے تو اس سے جہاں اس کے چاہنے والوں میں اضافہ ہوتا ہے، اہل دنیا کے نزدیک اس کی عزت افزائی ہوتی ہے، لوگ اس کا اکرام کرتے ہیں؛ وہیں آخرت میں بھی اس کا مقام بلند ہوتا ہے، اللہ پاک کے نزدیک اس کی قدر بڑھ جاتی ہے، فرشتوں کے درمیان اس کا ذکر خیر کیا جاتا ہے۔
چنانچہ مسلم شریف کی روایت ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ پاک اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے ، جب تک بندہ اپنے بھائی (دوسرے آدمی) کی مدد کرتا رہتا ہے۔
 خیر خواہی یہ ہے کہ آدمی آدمی کے کام آجائے، کسی کی پریشانی میں اس کا ساتھ دے دے، کسی کو ضرورت کے وقت قرض دے دے، کسی کی بیماری میں دوا علاج یا تیمارداری کردے، کسی کو راستہ بتادے، کسی کی کھوئی ہوئی چیز تلاش کردے، کسی کو درست مشورہ دے دے، کسی کے کام میں تعاون کردے، کسی کو دشمن سے نجات دلانے میں کام آجائے، کسی کی بھوک مٹا دے، کسی کی پیاس بجھادے، کسی کو چائے پلادے، کسی کو کپڑا پہنادے، کسی کو علم سکھادے، کسی کو کام دلادے، کسی کا غم مٹادے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ سب بھلائی کے کام ہیں۔ ان کاموں سے جہاں انسانیت کو فروغ ملتی ہے اور دنیا میں رہنے والوں کے درمیان اخوت و بھائی چارگی بڑھتی ہے وہیں اللہ پاک کی رضاو رحمت عام ہوتی ہے اور وہ اپنے بندوں سے خوش ہوکر دنیا میں خوش حالی عطا کرتا ہے؛ نیز خیر خواہی کرنے والے مسلمان بندے کے لیے آخرت میں نیکیوں کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ 
آج کل خیرخواہی تو کی جاتی ہے؛ لیکن اکثر لوگ خیرخواہی میں ذاتی مفاد شامل رکھتے ہیں، کوئی اسی وقت دوسرے کی مدد کرتا ہے جب اسے مستقبل میں اپنا فائدہ نظر آتا ہے، رشتہ داروںکے ساتھ بھی خیر خواہی کسی امید یا فائدے کی بناپر کی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں لوگ انجان آدمی کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کم کرتے ہیں اور جان کاروں کے ساتھ اس لیے خیرخواہی کی جاتی ہے کہ ہو نہ ہو اس سے کوئی کام پڑجائے یا کوئی مقصد بر آئے۔ حالانکہ خیرخواہی کے پیچھے انسان کی کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے، اس لیے کہ اگر غرض رکھ کر خیرخواہی کی جائے گی تو پہلا نقصان تو یہ ہوگا کہ اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے ثواب میں کمی واقع ہوگی اور دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ جس کے ساتھ جس غرض سے خیرخواہی کی گئی تھی اگر اس میں کامیابی نہ ملی تو مایوسی ہوگی اور خیرخواہی کا جذبہ کم ہوجائے گا؛ نیز نااتفاقی، بغض، کینہ اور قلبی کدورت بھی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ لہذا جب بھی خیر خوہی کا کوئی کام کیا جائے مکمل بے غرض و بے نیاز ہوکر کیا جائے تاکہ آئندہ کسی طرح کی ناامیدی کامنھ نہ دیکھنا پڑے۔ 
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں(۱) جب تو اس سے ملے تو سلام کر۔ (۲) جب وہ تجھے بلائے تو اس کے پاس جا ۔(۳) جب وہ تجھ سے خیر خواہی طلب کرے تو اس کی خیر خواہی کر۔ (۴) جب اسے چھینک آئے اور وہ اللہ کی حمد کرے تو اسے (یَرْحَمُکَ اللّٰہُ)کہہ۔ (۵) جب وہ بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کر۔ (۶) اور جب وہ فوت ہو جائے  تو اس کے جنازے کے ساتھ جا۔‘‘(مسلم شریف)
اس حدیث میں جتنے حقوق بتائے گئے ہیں سب خیرخواہی کے باب سے ہیں؛ اس کے باوجود تیسرے نمبر پر خیرخواہی کو الگ سے ذکر کیا گیا تاکہ اس میں مزید وسعت پیدا ہوجائے اور خیرخواہی کا ایک وسیع دروازہ وا ہوجائے ۔
واضح رہے کہ اسلام میں غیرمسلموں سے بھی خیرخواہی کی امید کی گئی ہے؛لہذا جہاں ہمیں موقع ملے غیر مسلموں کے ساتھ بھی خیرخواہی کا معاملہ کریں، ان کے لیے برا نہ چاہیں، ان کے ساتھ اخلاق سے پیش آئیں، ان کے ساتھ معاملات کو درست رکھیں تاکہ ان کے نزدیک ہمارے دین کاآنکھوں دیکھا پیغام جائے۔ غیر مسلم کے ساتھ سب سے بڑی خیرخواہی یہ ہے کہ اسے اسلام کی دعوت دی جائے۔ اللہ! پاک ہم سبھی کو خیرخواہی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔