تازہ ترین

امیرالمومنین حضرت عثمان غنی ؄ کی شہادت

تاریخِ اسلام

تاریخ    30 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


شکیل مصطفیٰ
 
مدینے میں سخت قحط پڑ ہوا تھا۔ اناج اور پانی نہ ملنے کی وجہ سے لوگ بہت پریشان تھے۔ ان چیزوں کے لیے لوگوں کو دور دور جانا پڑتا تھا۔ مدینے کے ایک حصے میں یہودی آباد تھےجن کے محلے کے پاس کنواں تھا۔ کنویں کا مالک اس کا پانی بہت زیادہ قیمت میں فروخت کرتا تھا ۔ غریب مسلمانوں نے یہ بات رسول اکرم ﷺ کو بتائی ۔ آپ ﷺنے اعلان فرمایا کہ لوگوں کو پانی کی تکلیف سے بچاکر اللہ کی خو شنودی کون حاصل کرے گا؟ یہ اعلان سن کر آپ ﷺ کے ایک صحابی کنویں کے مالک سے ملے ۔ انہوں نے اس سے کنواں خریدنے کی بات کی ۔ بڑے سودے بازی کے بعد یہودی صرف آدھا کنواں فروخت کرنے پر راضی ہوا۔ 
آدھا کنواں اس شرط پر فروخت کیا گیا کہ ایک دن تو کنواں خریدنے والا اس کا پانی استعمال کرے گا اور دوسرے دن یہودی کنوئیں کے پانی کا مالک ہوگا۔ کنواں خریدنے والے صحابی؄ نے سودا منظور کرلیا۔ جس دن کنواں ان کا ہوتا، مدینے کے تمام باشندے اس سے مفت پانی حاصل کرلیتے لیکن دوسرے دن یہودی اپنا پانی مسلمانوں کو بہت مہنگے داموں میں فروخت کرتا۔ تب مسلمانوں نے یہ کیا کہ جس دن کنواں یہودی کا نہ ہوتا، وہ دو دنوں کا پانی جمع کرلیتے ۔ اس طرح دوسرے دن یہودی سے پانی خریدنے کوئی نہ جاتا۔ پریشان ہوکر یہودی نے کنواں خریدنے والے صحابی ؄سے کہا کہ میں پورا کنواں بیچنے کے لیے تیار ہوں۔ 
صحابی ؄ نے کنویں کی بقیہ قیمت بھی ادا کردی اور اسے مدینہ کے سبھی باشندوں کے لیے وقف کردیا۔ کنواں خریدنے والے یہ صحابی حضرت عثمان بن عفان؄ تھے جو بعد میں میں مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ ہوئے۔ 
اسلام قبول کرنے کے بعد ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرنا ان کا شعار بن گیا تھا۔ خود سادہ کھانا کھاتے لیکن مہمانوں کو ہمیشہ لذیذ اور عمدہ کھانا کھلاتے تھے۔ خلیفہ بن جانے کے بعد بھی انہوں نے کبھی خود کو عام مسلمانوں سے برتر اور افضل نہیں سمجھا۔ وہ سب کے ساتھ بیٹھتے، سب کی عزت کرتے لیکن کسی سے اپنی تکریم کی خواہش نہ کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک ملازم سے کہا کہ میں نے تجھ پر جو زیادتی کی ہے مجھ سے اس کا بدلہ لے لے اور ضد کرکے انہوں نے ملازم سے اپنے کان پکڑ وائے۔ جب اس نے نرمی سے ان کا کان پکڑا تو کہا، ’’بھائی، خوب زور سے پکڑ، کیونکہ دنیا کا بدلہ آخرت کے بدلےسے آسان ہے۔‘‘ حضرت محمد ﷺ نے اپنی ایک بیٹی بی بی رقیہ ؅ کا نکاح حضرت عثمان ؄سے کردیا تھا۔ مکّے میں جب مسلمانوں پر بہت ظلم ہونے لگا تو وہاں کے کچھ مسلمان آنحضرت کی اجازت سے ملک حبش جاکر آباد ہوگئے۔ حضرت عثمان؄ بھی اپنی اہلیہ محترمہ ؅کے ساتھ حبش کی طرف ہجرت کرگئے۔ مکّے کے حالات کچھ سازگار ہوئے تو حضرت عثمان؄ واپس تشریف لائے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ مدینہ ہجرت کی۔ ایک بیماری میں جب بی بی رقیہ ؅کا انتقال ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے اپنی دوسری بیٹی بی بی اُمّ کلثوم ؅، حضرت عثمان ؄ کے نکاح میں دے دی۔ رسول اکرم ﷺ کی دو بیٹیوں سے نکاح کرنے کے سبب حضرت عثمان ؄ ’’ذوالنورین‘‘ یعنی دو نور والے کہلائے۔ 
حضرت عثمان ؄ایک نرم دل انسان تھے۔ ان کی نرم مزاجی کا فائدہ اٹھاکر بعض لوگوں نے ان سے خلافت چھوڑ دینے کے لیے کہا۔ انہوں نے جواب دیا ’’اللہ نے جو خلعت مجھے پہنائی ہے، اس کو میں اپنے ہاتھ سے نہ اتاروں گا۔‘‘ تب یہ لوگ بغاوت پر آمادہ ہوگئے اور انہوں نے حضرت عثمان ؄ کے مکان کو گھیر لیا۔ ایک دن محاصرہ کرنے والوں میں سے کچھ لوگ ان کے مکان میںگھس گئے۔ اس وقت وہ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ اسی حالت میں باغیوں نے انہیں شہید کردیا۔ اس وقت ان کی عمر ۸۰؍برس سے زیادہ تھی۔
رابطہ، 9145139913