تازہ ترین

نئی تعلیمی پالیسی سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی: وزیر اعظم

میڈیکل کورس میں پسماندہ طبقات کو ریزرویشن سماجی انصاف کی نئی مثال

تاریخ    30 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی// جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے اور اس سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔قومی تعلیم پالیسی کے ایک سال مکمل ہونے پر ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا ‘‘نئی قومی تعلیمی پالیسی کے ایک سال کی تکمیل پر ملک کے سبھی لوگوں اور تمام اسٹوڈنٹس کو بہت بہت مبارکباد۔ گزشتہ ایک سال میں آپ سبھی عظیم شخصیات ، اساتذہ ، پرنسپلز ، ملک کے پالیسی سازوں نے قومی تعلیمی پالیسی کو زمین پر لانے کے لئے بہت محنت کی ہے ’’۔انہوں نے کہا ‘‘ "ہم مستقبل میں کتنا آگے جائیں گے ، ہم کتنی اونچائیاں حاصل کریں گے ، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ہم اس وقت اپنے نوجوانوں کو کس طرح کی تعلیم دے رہے ہیں ۔یعنی آج ہم کیسی تعلیم دے رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ملک کی نئی قومی پالیسی قوم کی تعمیر کے مہایگیہ میں بڑے عناصر میں سے ایک بڑا عنصر ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کو 27 فیصد اور عام زمرے کے معاشی طور پر کمزور طبقہ کے طلبہ کو میڈیکل کورس میں داخلے کے لئے بالترتیب 27 فیصد اور 10 فیصد ریزرویشن دینے کے حکومتی فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے اسے سماجی انصاف کی نئی مثال قرار دیا ہے ۔ مودی نے جمعرات کے روز ایک ٹویٹ میں کہا کہ "ہماری حکومت نے موجودہ تعلیمی سال سے انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کورس میں داخلے کے لئے آل انڈیا کوٹہ اسکیم میں او بی سی کے لئے 27 فیصد اور معاشی طور پر پسماندہ طبقہ کے لئے 10 فیصد ریزرویشن دینے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے ۔ اس کی مدد سے ، ہر سال ہزاروں نوجوانوں کو بہتر مواقع میسر آئیں گے اور ملک میں سماجی انصاف کی ایک نئی مثال قائم ہوگی"۔قابل ذکر ہے کہ وزارت صحت وخاندانی بہبود نے میڈیکل اور ڈینٹسٹری کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کورسوں (ایم بی بی ایس، ایم ڈی، ایم ایس، ڈپلومہ، بی ڈی ایس اور ایم ڈی ایس) میں داخلے کے لئے موجودہ سیشن 2021-22 سے آل انڈیا کوٹہ اسکیم کے تحت دیگر پسماندہ طبقات کے طلبہ کو 27 فیصد اور معاشی طور پر کمزور طبقہ کے طلبہ کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مسٹر مودی نے پیر کے روز متعلقہ مرکزی وزارت سے کہا تھا کہ وہ اس زیر التواء مسئلے کا مناسب حل پیش کریں۔اس فیصلے سے ایم بی بی ایس میں ہر سال تقریبا 1500 او بی سی طلبہ اور پوسٹ گریجویشن میں 2500 طلبہ کو فائدہ ہوگا۔ اسی طرح ایم بی بی ایس میں معاشی طور پر کمزور طبقے سے 550 طلبہ اور پوسٹ گریجویشن میں تقریبا ایک ہزار طلبہ فائدہ اٹھائیں گے ۔