تازہ ترین

بادل پھٹنے سے کشتواڑ ، راجوری، کرگل اور بانڈی پورہ میںقہر بپا | 10لقمہ اجل،19لاپتہ،18کو بچا لیا گیا | دچھن کی پوری بستی مکینوں سمیت دوران شب پانی کے ریلے میں بہہ گئی،خانہ بدوشوں کے ڈھیرے بھی ڈھہ گئے

۔21مکان،21گائو خانے، 8چھوٹے پل،منی ہائیڈل پاور ہاوس، مسجد شریف اور قریب 15رہاشی مکان تباہ

تاریخ    29 جولائی 2021 (25 : 12 AM)   


اشفاق سعید
 سرینگر // دچھن کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے قہر بپا ہوا اور پانی کے ریلوں نے تباہی مچادی۔ ایک پوری بستی کو رات کی تاریکی میں پانی کے تیز ریلے نے اپنے ساتھ بہا کر لے لیا جس کے نتیجے میں حکام کے مطابق قریب 40مکین لاپتہ ہوگئے جن میں سے 7افراد کی لاشیں بر آمد کی جاچکی ہیں جبکہ18کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا اور19افراد ہنوز لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔اس قہر انگیز واقعہ میں 21رہائشی مکان،21گائو خانے اور 6چھوٹے پل بہہ گئے جبکہ بستی کے صرف دو مکان بچ گئے جنہیں جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ادھر راجوری اور کرگل میں 3افراد پتھر گرنے اور نالہ میں بہنے سے لقمہ اجل بن گئے، تاہم دو کو بچا لیا گیا جبکہکرگل اور بانڈی پورہ میں ایک منی ہائیڈل پاورپروجیکٹ سمیت درجنوں مکانوں ، مسجد شریف اور رابطہ پلوں کو شدید نقصان پہنچا۔

کشتواڑ 

نمائندے عاصف بٹ کے مطابق ضلع ہیڈکوارٹر سے68کلو میٹر دور ہونزڈ دچھن  سے 2کلو میٹر اوپری پہاڑی علاقے میںدوران شب بادل پھٹ گئے ۔ یہ واقعہ رات کے 4بجے پیش آیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ جب ہونزڈ بستی کے لوگ گہری نیند میں تھے تو بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کیساتھ ہی بجلیاں چمکیں اور گرجنے کیساتھ ہی بادل پھٹ گئے جس کے نتیجے میں پانی کے ریلے نیچے آگئے جس نے اننت نالہ کے کنارے پر آباد ہونزڈ کی بستی کو اپنے ساتھ بہا کر لیا ۔یہ نالہ مڈوا کے پہاڑی سلسلے سے نکل کر بنڈار کوٹ کشتواڑ کے مقام پر نالہ چناب سے ملتا ہے۔پانی کے ریلوں کیساتھ مٹی اور چھوٹے بڑے پتھر بھی بستی کی طرف آئے اور مذکورہ بستی کا نام و نشان ہی مٹ گیا۔معلوم ہوا ہے کہ اس علاقے میں دوسرے علاقوں سے خانہ بدوش بکروال بھی عارضی خیموں میں تھے، وہ بھی اس آفت کا شکار ہوئے اور شینکڑوں کی تعداد میں مال مویشی بھی پانی کے تیز ریلوں میں بہہ گئے۔دور دراز علاقہ ہونے کے باعث یہاں مواصلاتی نظام بھی نہیں ہے جس کے باعث بچائو کارروائیاں بھی بھر وقت شروع نہیں کی جاسکیں۔ لیکن پولیس سٹیشن دچھن کو کسی طرح واقعہ کا علم ہوا جنہوں نے وائر لیس پیغامات کا سہارا لیکر اس علاقے میں موجود پولیس و دیگر سیکورٹی فورسز کی مدد حاصل کی اور بچائو کارروائیاں شروع کی گئیں جو دن بھر جاری رہیں۔ڈائر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے بدھ کی شام دیر گئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ بچائو کارروائیوں کے دوران ابھی تک 7افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں، جنکی لاشیں بر آمد کی جاچکی ہیں جبکہ17افراد کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا جن میں 5کی حالت نازک ہے اور ہنوز 19ہنوز لاپتہ ہیں ۔سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ بستی کے تقریباً 40افراد اس واقعہ سے متاثر ہوئے جن کے 21رہائشی مکانات،21گائو خانے تباہ ہوئے جبکہ7چھوٹے پل بھی بہہ گئے۔ متاثرہ گائوں میں ایس ڈی آر ایف ،این ڈی آر ایف ،پولیس وسیول انتظامیہ اورفوج کی مشترکہ بچائو کارروائیاں جاری ہیں اور لاپتہ افراد کو ڈھونڈنے کیلئے ہیلی کاپٹر کا بھی استعمال کیا جارہا ہے ۔  ایس ایس پی کشتواڑ شفقت حسین نے بتایا کہ بادل پھٹنے اور سیلابی صورتحال کے بعد کئی افراد لاپتہ ہیں تاہم ان کی صحیح تعداد فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی ہے۔کشتواڑ کے مہلوکین کی شناخت ساجہ بیگم وزجہ غلام محمد،راقیلہ بیگم زوجہ ذاکر احمد(خانہ بدوش)،غلام نبی ولدغلا م رسول ،عبدالمجیدولد نذیراحمد،زیتونہ بیگم زوجہ حاجی لال دین (خانہ بدوش)اورتوصیف اقبال ولد محمداقبال شامل ہیں ۔ ادھر ضلع بھر میں مواصلات اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوکے رہ گیا ہے ۔ ادھر آئی جی پی جموں نے سماجی ویٹ سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہاہے کہ کشتواڑ واقعے میں ابھی تک 7افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے اوربیس کے قریب ہنوز لاپتہ ہے ۔ جبکہ 14افراد کو زخمی حالت میں بازیاب کیا گیا ہے ۔

راجوری 

 نمائندے سمت بھارگو کے مطابق ضلع میں گزشتہ 24گھنٹوں سے ہو رہی مسلسل بارش کے بعد دریائوں ،ندی اور نالوں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہو گیا جبکہ ضلع کے مناور دریا میں شدید طغیانی کے دوران ریاست چھتیس گڑھ کا ایک شہری بہہ گیا جبکہ دوسرے کو بچا لیا گیا ہے۔ضلع کے پہاڑی علاقوں بالخصوص تحصیل منجا کوٹ ،تھنہ منڈی ،کوٹرنکہ ،راجوری اور نوشہرہ میں شدید بارش کی وجہ سے عام زندگی پوری طرح سے مفلوج ہو کر رہ گئی۔انتظامیہ نے بتایا کہ مناور دریا کی سطح میں ہوئے اضافے کے دوران دو افراد کے دریا میں پھنس جانے کی اطلاع موصول ہوئی جس کے بعد بچائو کارروائیاں شروع کی گئی تاہم اس دوران ریاست چھتیس گڑھ کا رہائشی سنجے کمار نامی ایک شخص دریا میں بہہ گیا جبکہ گنگا داس نامی ایک شہر ی کو بچالیا گیا ہے۔ضلع میںجبکہ کئی رہائشی مکانات و مویشی خانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ادھر شام دیر گئے بڈوگ گائوں کے منشی رام ولد لچھن داس نامی شہری کالا کوٹ میں نالہ پار کرنے کے دوران پانی میںبہہ گیا جس کی لاش بعد میں بر آمد کی گئی۔

کرگل 

کنگن سے غلام نبی رینہ کے مطابق کرگل کے سانکو زانسکار علاقے میں بادل پھٹنے سے ایک مزدور ہلاک جبکہ ایک منی ہائیڈل پاور پروجیکٹ، ایک پل اور 10رہائشی مکانوں کو شدید نقصان جبکہ تین بستیوں میں پانی داخل ہوا البتہ مکینوں کو بچالیا گیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر کرگل سنتوش سکھدیو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سانگرا سانکو میں بادل پھٹنے سے بٹی تباہی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سانکو منی پاورپروجیکٹ کو نقصان پہنچا جبکہ یہاں ایک فٹ برج تباہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ ایچو زانسکار روڑ کے مقام پر پسی گر آئی،، جس کے نتیجے میں 23سالہ رام داس ولد ویشنو داس ساکن نیپال نامی مزدور ہلاک جبکہ اسکا بیٹاٹیکا رام شدید زخمی ہوا۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ شاکر چتھن نامی علاقے میں بارشوں کے بعد پانی کے ریلے تین بستیوں میں داخل ہوئے جس سے مکانوں کو شدید نقصان پہنچا تاہم مکنیوں کو بچالیا گیا۔سانکو کھاووس کے مقام پر بھی تین بستیوں میں پانی داخل جس سے  10مکان تباہ،  جبکہ25کو جزوی نقصان پہنچا۔کرگل لیہہ شاہراہ  پر بھاری پسیاں گر آئیں جس کے نتیجے میں  4گھنٹے کیلئے آمد و رفت بند ہوئی۔ادھر شاہ محلہ کلن گنڈ سے بہہ رہے نالہ میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں میں خوف ہراس پیدا ہو گیا ہے اور مقامی آبادی گھر بار چھوڑکر دوسری جگہ منتقل ہوئے ہیں ۔ 

ڈوڈہ 

ڈوڈہ ضلع میں گذشتہ شب ہوئی تباہ کن بارشوں سے بدھ کو سیلابی صورتحال پیدا ہوئی جبکہ فصلوں و پھلوں کو بھاری نقصان پہنچا جبکہ بھلیسہ، بونجواہ، کاہرہ ،ٹھاٹھری کے متعدد علاقوں میں بارش کا پانی رہائشی مکانوں  میںجمع ہوا ہے اور کئی عارضی پل بہہ گئے ۔ قصبہ ٹھاٹھری کے سینکڑوں رہائشی کنبوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے ۔ بونجواہ علاقہ میں سیلاب سے سرنگا و ناگا میں پل بہہ گئے جبکہ 14 میگاواٹ چوہدری پاور پروجیکٹ دوندی کو بھی جزوی نقصان پہنچا جس کی وجہ سے درجنوں دیہات میں بجلی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ریاسی سے زاہد ملک کے مطابق شدید بارشوں سے مہور سے جموں،مہور سے راجوری ،مہور سے گلاب گڑھ کے علاوہ دیگر اندرونی سڑکیں تغیانی اور پسیاں گرنے کی وجہ سے بند ہوگئیں۔طوفانی بارشوں کی وجہ سے کئی ایک رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ۔

بانڈی پورہ 

 نمائندے عازم جان کے مطابق آلوسہ علاقے میں بدھ کے روز اْس وقت ایک رہائشی مکان اور ایک مسجد شریف کو جزوی نقصان پہنچا جب  بادل پھٹنے کے نتیجے میں وہاں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔آلوسہ کے اوپری پہاڑی سلسلے میں بادل پھٹ گئے اور پانی کے ریلے کئی رہائشی مکانات اور دھان کے کھیتوں میں داخل ہو گئے۔ بالائی گائووں چچنار میں ایک مسجد اورایک رہائشی مکان کو جزوی طور پر نقصان پہنچا جبکہ ایک پیدل پل بھی ڈھہ گیا۔ ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمد نے کہا کہ آلوسہ میں محکمہ مال اریگیشن فلر کنٹرول کی ٹیموں کو نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے روانہ کردیا گیا ہے ۔ 

کولگام 

 نمائندے خالد جاوید کے مطابق گذشتہ شب سے ہونے والی بارشوں اور تیز رفتار سے چلنے والی ہوائوں کے نتیجے میں ضلع کے متعدد علاقوں میں مکانوں کی چھتوں اور درختوں کو نقصان پہنچا۔ کھنہ بل سرینگر شاہراہ پر بٹنگو کے نزدیک سفیدوں کے درخت جڑوں سے اُکھڑ گئے جس کی وجہ سے یہ اہم شاہراہ ایک گھنٹے تک گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے مسدود ہو کر رہ گئی ۔ کھڈونی ، شمسی پورہ، سڑک پر بھی درخت اُکھڑگئے۔ ونپو کولگام سڑک پر باغ ون پورہ کے نزدیک درختوں کے گر آنے سے بجلی کے کھمبوں کو نقصان پہنچا ۔کھڈونی کے مقام پر نصف درجن مکانوں کی چھتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔ نور آباد ، دیوسر اور کنڈ علاقوں میں بادباراں سے مکئی اور دیگر فصلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے ۔
 
 
 

۔30جولائی تک بارشوں کا امکان | پانی کی سطح نیچے،سیلاب کا خطرہ نہیں : چیف انجینئر 

اشفاق سعید 
سرینگر //وادی کشمیر میں بارشوں کا سلسلہ منگل کی رات سے وقفے وقفے سے جاری ہے جس کی وجہ سے جہاں اہل وادی نے جھلستی گرمی سے راحت کی سانس لی وہیں ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے موسمی الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ بارشوں کا سلسلہ30جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے بدھ کے روز الرٹ جاری کیا جس میں بڑے پیمانے پر بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے طوفانی سیلاب ، لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال بھی پیداہوسکتی ہے۔ ڈائریکٹر سونم لوٹس نے بتایا کہ اس وقت جموں و کشمیر کے بیشتر مقامات پر آسمان ابر آلود ہے اور پونچھ ، راجوری ، ریاسی اور اس کے آس پاس کے کچھ مقامات پر تیز ہوائیںبھی چل رہی ہیں اور گرج چمک بھی ہورہی۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے بدھ کو شام دیر گئے تک سرینگر میں 4.0ملی میٹر، قاضی گنڈ میں 4.2،پہلگام میں 15.4ملی میٹر ، کپوارہ میں 18.7ملی میٹر ،کوکرناگ میں 3.8ملی میٹر، گلمرگ میں 0.6ملی میٹر بارش ریکاڑ کی گئی ۔ اُدھر جموں میں بدھ کو 3.4ملی میٹر ،بانہال میں 19.8ملی میٹر ،بٹوٹ میں 30.8ملی میٹر ،کٹرہ میں 37.8ملی میٹر بھدرواہ میں 2.2ملی میٹر بارش ریکاڑ کی گئی ۔ادھر وادی کے ندی نالوں میں پانی کی سطح بھی بڑھ رہی ہے۔ محکمہ فلڈ کنٹرول کے مطابق دریائے جہلم میں سنگم کے مقام پر شام تک پانی کی سطح 16.25فٹ ریکارڈ کی گئی جبکہ رام منشی باغ میں 15.14فٹ ، اشم میں 8.39فٹ ، ویشو نالہ کھڈونی میں 5.94میٹر ، نالہ رمبی آرہ وچی میں 2.04میٹر ، نالہ لدر میں 1.26میٹر ، دودھ گنگا نالہ برزلہ میں 2.29میٹر ،سندھ نالہ ددرہامہ گاندربل میں 2.71میٹر پانی کی سطح ریکارڈ کی گئی ۔محکمہ فلڈ کنٹرول کے چیف انجینئر نریش کمار نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پانی کی سطح میں ندی نالوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے البتہ ابھی صورتحال کنٹرول میں ہے اور سیلاب کا کوئی بھی خطرہ نہیں ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ کا عملہ چوکس ہے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پانی کی سطح ابھی خطرے کے نشان سے کافی کم ہے ۔
 
 
 
 
 

کشتواڑ اورکرگل کی صورتحال پرکڑی نظر: وزیر اعظم

نیوز ڈیسک
نئی دہلی//وزیراعظم نریندرمودی نے بدھ کے روز کہاکہ بادل پھٹنے کے بعدکشتواڑ اورکرگل میں پیداشدہ صورتحال پر مرکزی سرکار کڑی نظررکھے ہوئے ہے۔وزیراعظم مودی نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ مرکزی سرکار کشتواڑ اورکرگل کی صورتحال کی نگرانی کررہی ہے اوردونوں علاقوں میں متاثرین کوہر ممکن مددفراہم کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کشتواڑ اورکرگل کے متاثرہ علاقوں میں بچائو کارروائیاں شروع کی گئی ہیں ،تاکہ لوگوں کی زندگیوں کوبچایاجاسکے ۔وزیراعظم نریندرمودی نے کہاکہ میں متاثرہ علاقوں میں سبھی لوگوں کی سلامتی اورخروعافیت کیلئے دعاگوہوں ۔
 
 
 
 

لیفٹیننٹ گورنر کا وزیرداخلہ امت شاہ سے رابطہ | مہلوکین کو فی کس 5لاکھ اور زخمیوں کو 50ہزار کی امداد

نیوز ڈیسک
سرینگر//جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کشتواڑ میں ہوئے جانی ومالی نقصان پرسخت صدمہ ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہرممکنہ مدداورتعاون کی یقین دہانی کرائی ۔منوج سنہا نے اپنے ایک ٹویٹ میںکہاکہ مرکزی وزیرداخلہ نے اسبات کی یقین دہانی کرائی کہ مرکزی سرکار کشتواڑ میں پیداشدہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے جموں وکشمیرکی حکومت کوہرممکنہ مدداورتعاون فراہم کرتی رہے گی ۔منوج سنہا نے کہاکہ متاثرہ علاقوں میں بچائو کارروائیاں جنگی پیمانے پرشروع کردی گئی ہیں ،اوراس کام میں این ڈی آر ایف ،ایس ڈی آرایف ،پولیس ،سیول انتظامیہ اورفوج بھی پیش پیش ہے ۔دریں اثناء جموں کشمیر حکومت نے مہلوک افراد کے حق میں فی کس 5لاکھ روپے اور زخمیوں کے حق میں فی کس 50ہزار کی رقم بطور ایکس گریشیا ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے۔اسکے علاوہ آفات سماوی امداد کے تحت ہر گھر میں نقصان شدہ سامان کا معاوضہ بھی دیا جائیگا۔