تازہ ترین

ایس کے آئی سی سی میں کشمیر یونیورسٹی کا 19 ویں کنونشن کا انعقاد | تشدد کھبی بھی ’کشمیریت ‘کا حصہ نہیں رہا

نوجوان نسل عظیم وراثت سے سیکھیں ، کشمیر مختلف مذاہب کا مرکز ، ملک کیلئے امید کی کرن : صدر جمہوریہ ہند

تاریخ    28 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند نے کہا ہے کہتشدد کھبی بھی ’کشمیریت ‘ کا حصہ نہیں رہا ہے لیکن بد قسمتی سے یہ اب معمول بن گیا ہے۔صدرنے کہا کہ ’’میں کشمیر کی نئی نسل سے تاکید کرتا ہوں کہ وہ اپنی عظیم وراثت سے سیکھیں، انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ کشمیر ہمیشہ باقی ملک کیلئے امید کی ایک کرن رہا ہے ‘‘۔ جموں کشمیر کے چار روزہ دورے کے دوان منگل کو ایس کے آئی سی سی سرینگر میں کشمیر یونیورسٹی کے سالانہ 19 ویں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر ہند نے کہا کہ کشمیر میں ہمیشہ سے مختلف مذاہب کے لوگ مل جل کر رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس غیر معمولی مذہبی رواداری کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور تشدد جو کبھی کشمیریت کا حصہ نہیں رہا ہے، معمول بن گیا۔صدرجمہوریہ نے کہاکہ ’’ تشدداورقدامت پسندی کشمیری ثقافت کیلئے اجنبی ہے‘‘۔صدر کووند نے کہا کہ غیروں نے کشمیر پر مسلط ہونے کی کوشش کی، تشددکو ایک عارضی عمل کہا جاسکتاہے،جو ایک ایسے وائرس کی طرح ہے، جو جسم پر حملہ کرتا ہے اور اسے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اب نئی شروعات ہوئی ہے تاکہ اس کی شان رفتہ کو بحال کیا جا سکے۔ ا نہوں نے کہاکہ جمہوریت کو تمام اختلافات ختم کرنے کیلئے ایک آلے کے طور پر استعمال میں کیا جاسکتا ہے۔صدرجمہوریہ کاکہناتھاکہ جمہوریت آپ کو اپنا مستقبل ، پرامن اور خوشحال بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین  زندگی کی تعمیر نو اور کشمیر کی تعمیر نو کیلئے اس موقع کو نہیں چھوڑیں گے۔اس موقعہ پر انہوں نے طلبہ جنہیںڈگریوں سے نواز ا گیا، کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ آج قریب تین لاکھ طلبہ ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں اور مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ میں اتنی تعداد میں اسکالروں او ر ڈگری ہولڈروں کو دیکھ رہا ہوں ۔ انہوں نے کشمیر یونیورسٹی کی تعریفیں کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی نے ایک تاریخ رقم کر دی ہے جس کیلئے ان کی جنتی تعریف کی جائے وہ کم ہے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ میں نے کشمیر کو جنت بروئے زمین دیکھنے کا خواب دیکھا ہے جس کے شرمندہ تعبیر ہونے کا انحصار خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین پر ہے۔صدر جمہوریہ نے کشمیر کو ملک کے لئے امید کی ایک کرن قرار دیتے ہوئے یہاں کی نئی نسل کو اپنی عظیم وراثت سے سبق حاصل کرنے کی تاکید کی ہے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر کے نوجوان مختلف شعبوں میں بلندیوں کو چھو کر اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 'کشمیر کے نوجوان مختلف شعبوں میں نئی نئی بلندی طے کر رہے ہیں، سول سروس سے لیکر اسپورٹس تک اپنا مقام بنا رہے ہیں۔ کشمیر کو شاعروں نے جنت بروئے زمین کہا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کشمیر کی خوبصورتی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا'۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ہمیشہ سے تعلیم و علم کا مرکز رہا ہے اور ملک کے فلسفے کی کشمیر کا حوالہ دیئے بغیر تاریخ تحریر کرنا نا ممکن ہے۔ انہوں نے کہا’’اسے فطرت کی نعمت کہا جائے کہ یہ مقام تصورات و نظریات کا ایک مرکز بھی بن گیا ہے ۔ یہ وادی برف سے ڈھکے پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے ، جس نے لاکھوں سال قبل صوفی سنتوں کے لئے ایک بہترین مسکن فراہم کیا ہے ‘‘۔انہوں نے کہا’’یہ ناممکن ہے کہ کشمیر کی خدمات کا حوالہ دیے بغیر ہندوستانی فلسفے کی تاریخ تحریر کی جائے ۔ رگ وید کا ایک سب سے پرانا تحریری نسخہ کشمیر ی میں لکھا گیا تھا۔ مختلف فلسفوں کو پھلنے پھولنے کے لئے یہ سب سے سازگار خطہ ہے ‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’یہ وہی مقام ہے جہاں عظیم فلاسفر ابھینو گپتا نے تصوف اور خدا کی معرفت کی راہوں کے حوالے سے اپنے تجربات تحریرکئے تھے ۔ کشمیرمیں ہی اسی طرح ہندوازم، بدھ ازم پھلا پھولا جس طربعد کی صدیوں میں اسلام اور سکھ ازم یہاں پہنچنے کے بعد پھلے پھولے ‘‘۔رام ناتھ کووند نے کہا کہ کشمیر مختلف ثقافتوں کا سنگم ہے اور وہ تمام مذاہب، جو یہاں وارد ہوئے ، وہ کشمیریت کے رنگ میں رنگ گئے ۔انہوں نے کہا: 'ان مذاہب نے کسی بھی قسم کے تعصب کو رد کیا اور عوام
کے درمیان برداشت اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کے جذبی کی ہمت افزائی کی'۔
 
 

صدر کا کور ہیڈکوارٹر کا دورہ |  فوجیوں سے بات چیت 

نیوز ڈیسک
سرینگر //صدر رام ناتھ کووند نے منگل کے روز یہاں فوج کی 15 کور کے ہیڈکوارٹر میں فوجیوں سے بات چیت کی اور جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امن برقرار رکھنے پر ان کی تعریف کی۔ انہوں نے فوجیوں کے اعلی حوصلے اور ان کی غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کی بھی تعریف کی۔صدر کے دفتر نے ٹویٹ کیا ، "صدر کووند نے سرینگر میں 15 کور کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا۔ صدر نے فوجیوں سے بات چیت کی اور انھیں امن برقرار رکھنے ، دہشت گردوں سے لڑنے اور سرحدوں کی حفاظت کے لئے تعریف کی۔"اس نے بتایا کہ انہوں نے مسلح افواج میں مختلف صلاحیتوں میں قوم کی خدمت کرنے پر خواتین افسروں کی تعریف کی۔کویند نے وزیٹر کی کتاب میں اپنے ایک پیغام میں کہا کہ انہیں ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے ملک دشمن اور سماج دشمن عناصر کے خلاف موثر انداز میں لڑنے کے لئے 15 کور کی روایت کے بارے میں جان کر خوشی ہوئی ہے۔صدر نے لکھا ، انھوں نے مستقل چیلنجوں کے درمیان بلند حوصلے کو برقرار رکھا ہے اور اپنے قومی فرائض کی ادائیگی کے دوران غیر معمولی ہمت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے وزیٹر کی کتاب میں لکھا ، "میں تمام فوجیوں اور افسروں سے قوم کے لئے ان کی غیر معمولی خدمات کے لئے اپنی نیک تمناں کا اظہار کرتا ہوں۔