تازہ ترین

اہربل میں 20گھنٹوں کے بعد آپریشن ختم | مہلوک جنگجو 4سال سے سرگرم تھا:پولیس

تاریخ    28 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


شاہد ٹاک
شوپیان //پولیس نے قریب 20گھنٹوں کے بعد اہربل کے جنگلاتی علاقے میں آپریشن ختم کیا جس میں شوپیان کا سب سے مطلوب جنگجو کمانڈر جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوا جو قریب 4سال سے زائد عرصہ سے سرگرم تھا۔پولیس کے مطابق26جولائی پیر کی سہ پہر قریب 4بجے انہیں اہربل کولگام روڑ پر واقعہ چھرن بل کے جنگلاتی علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کا علم ہوا جس کے بعد قریب 5بجے کولگام پولیس نے 62  آر آراور 14بٹالین سی آر پی ایف کیساتھ مشترکہ طور پر آپریشن شروع کیا۔ آپریشن کے دوران چھپے ہو ئے جنگجوئوں نے مشترکہ سرچ پارٹی پر فائرنگ کی ، جس کے بعد انکانٹر ہوگیا۔۔مقابلے میں ایک جنگجو جاں بحق ہوا  لیکن اندھیرے کی وجہ سے آپریشن معطل رہا اور رات بھر آپریشن جاری رہا۔منگل کی صبح سے تلاش کارروائی جاری رکھی گئی اور ہلاک  شدہ جنگجوکی لاش کو انکانٹر کے مقام سے برآمد کرلیا گیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق دن کے ایک بجے یہاں آپریشن ختم کیا گیا۔اس کی شناخت عامر یوسف میرعرف حیدر ولد محمد یوسف میر ساکن چک چولین ، شوپیاں کے طور پر کی گئی ، جو دہشت گردی کی غیر قانونی تنظیم سے منسلک ہے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق ، عامر یوسف میر کو A + درجے کا جنگجو تھاجو 2017 سے سرگرم تھا اور وہ دہشت گردی کے متعدد مقدمات میں ملوث تھا جن میں سکیورٹی فورسز پر حملے اور شہری شامل تھے۔ اس کے پاس دہشت گردی کے جرائم کے معاملات کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں لنڈوڑہ ہرمین کراسنگ پر ایس پی شوپیاں کے قافلے پر فائرنگ بھی شامل ہے جس میں ایس پی شوپیاں کی گاڑی کو نقصان پہنچا تھا ۔21ستمبر2018کو بٹہ گنڈ کاپرن  میں 3 پولیس اہلکاروں کو ان کے گھروں سے اغوا کیا گیا تھا۔ اور بعد میں ان کو مار ڈالا۔ اس کے علاوہ وہ پولیس / سیکورٹی اداروں پر حملوں کے سلسلے میں بھی ملوث تھا۔انکانٹر کے مقام سے تفتیشی مواد ، اسلحہ اور گولہ بارود جن میں 1 اے کے 47 رائفل ، 1 پستول اور 3-اے کے میگزین برآمد ہوئے۔