تازہ ترین

مابعدتنسیخ دفعہ370 | کشمیریوں کے دلوں میں غم وغصہ کم نہیں ہوا | فاروق عبداللہ کانئی دہلی پر وعدوں سے انحراف کاالزام

تاریخ    28 جولائی 2021 (00 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//بھارت اگر کشمیرکی زمین کے بجائے کشمیریوں کوچاہتا ہے تو نئی دہلی کودفعہ370کے بارے میں دوبارہ غور کرناچاہیے۔5اگست2021 کو دفعہ370 اور35Aکی تنسیخ کے دوسال مکمل ہونے کے موقعہ پرایک قومی خبررساں ادارے کودیئے گئے ایک انٹرویوں میں  ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ان باتوں کو مستردکردیا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے 2برس بعد بھی تبدیل کی گئی حیثیت پرکشمیریوں میں ابتدائی طور پر جو غم و غصہ پایاجارہاتھا،وہ کم ہو رہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ریاست میںبہت سارے المیے دیکھے ہیں، ایک بڑی بات جو کشمیریوں میں ہیں ، وہ یہ ہے کہ ہم جو اندر محسوس کرتے ہیں، وہ ہم زبان پر نہیں لاتے، نفرت بہت زیادہ ہے جو تم نوٹس کرسکتے ہو، لیکن وہ آپ کو یہ نہیں بتائیںگے ، لیکن اگر آپ امریکی، برطانوی یا اور کوئی صحافی ہوتے، جو بھارتی نہ ہو،تو وہ آپ کے بجائے اُنہیں زیادہ بتائیںگے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ آیا نئی دہلی میں کوئی اور حکومت نریندر مودی کی طرف سے کئے گئے فیصلے (دفعہ 370کی منسوخی)کو واپس لے گی، ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا،’’برطانیہ ، جس نے دوصدیوں تک  بھارت پرحکومت کی تھی، نے کبھی یہ سوچا تھا کہ ایک جواہر لال نہرو لال قلعہ پر ترنگا لہرائیںگے اور بھگت سنگھ نے کیا کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اُس کی قربانی رنگ لائیگی اور جن لوگوںپر لال قلعہ میں مقدمہ چلایاگیا تھا، کیا انہوںنے کبھی سوچا تھا؟ نہیں، لیکن وہاں فریاد تھی کہ ہم ایک آز اد ملک دیکھیں گے ، جو ہم سب کیلئے ہوگا ۔۔۔یہ ایک دن یہاں (کشمیر) میںبھی ہوگا، ہوسکتا ہے کہ میں یہ دیکھنے کیلئے نہیں ہوں گالیکن یہ ہوگا‘‘۔ڈاکٹر فاروق نے کہا ، ’’اگر تم (بھارتی حکومت) اراضی چاہتے ہو، جو چاہو کرو، لیکن اگر آپ کشمیر کے لوگوں کو چاہتے ہیں تو اس پر آپ کو ازسرنو سوچنا ہوگا‘‘۔کے این ایس کے مطابق دو گھنٹوں تک دیئے گئے انٹرویومیں فاروق عبداللہ نئی حقیقتوں سے اتفاق کرنے کی جدوجہد کرتے دکھائی دیئے۔ آنکھوں میں نمی اور آواز میں غصہ کے دوران ڈاکٹر فاروق کو جب یہ بات یاد آگئی کہ 5اگست 2019کو دفعہ370اور35A کی منسوخی اور ریاست کی دو حصوں میں تقسیم کرنے کے ایک دن قبل انہیں نظربند رکھاگیا تھا اور PSAعائد کیاگیا اور 7مہینوں بعد اسے رہا کیاگیا۔انہوںنے کہا، ’’کیا میں بھارت مخالف ہوں؟ کیا میں پاکستانی ہوں؟ کیا میں چینی ہوں؟ یہ ایک المیہ ہے، میں بی جے پی کا نوکر نہیں ہوں، میں عوام کا خادم ہوں‘‘۔ ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ ’ہم نے ایک ایسی صورتحال کو جنم دیا ہے جو بھارت نواز ہیں، انہیں زیادہ یا کم نفرت کی جاتی ہے، دہلی حقائق سننا نہیں چاہتی، جب میں نے گزشتہ ماہ وزیر اعظم سے ملاقات کی تو میں نے انہیں بے تکلفی سے کہا،’’ آپ کوہم پراعتماد نہیں اور نہ ہمیں دہلی پر اعتماد ہے‘‘۔ ڈاکٹر فاروق نے ماضی میں توڑے گئے وعدوں کی بات کرتے ہوئے کہاکہ نہرو کا رائے شماری کا وعدہ، خودمختاری کے مطالبے پر پی وی نرسیمہاراو کا ’’آسمان حد ہے‘ ‘کا وعدہ ، اٹل بہاری واجپائی کے ’’کشمیریت، انسانیت اور جمہوریت‘‘ اورتب مودی آئے اور سب کچھ مٹا دیا، ہم صرف زندہ ہیں، ہم آزاد لوگ نہیں ہے، ہم غلام ہیں، جو کچھ ہے ہمیں ہے‘‘۔ ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ ’’بھارت میں کوئی بھی سچائی سننا نہیں چاہتا کیونکہ وہ سچ سننا نہیں چاہتے، ہم کیا ہے؟ کیا آپ نے ملک میں کہیں اور اتنی تعداد میں فوج دیکھی ہے جو یہاں دیکھی ہے ، ہر ایک کونے میں ؟ کیا آپ نے ملک میں کہیں اور فوج جھنڈے گاڑتی ہے دیکھاہے۔۔۔ کیایہ آزاد ریاست ہے؟ کیا ہم بھارت کے آزاد لوگ ہے؟ مجھے ایسا نہیں لگتا ‘‘۔ وزیرا عظم مودی کے کشمیر میں سیاسی خاندانوں نے لوٹ مچانے کے تمسخر کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں فاروق عبداللہ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہاکہ ’’مودی ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں، کب آپ نے انہیں سچ بولتے ہوئے دیکھا ہے؟ آج جب اپنے ہی وزراء ، عدالت عظمیٰ کے جج ، قریب 40صحافیوں، حتی کہ جو ان کے دوست ہیں، کی جاسوسی کرنے کیلئے اسرائیلی مشینوں کا استعمال کیالیکن وہ پھر بھی جھوٹ بول رہے اور کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ایسا نہیں کیا ہے، اب بتائے سچ کدھر ہے‘‘؟انہوںنے کہاکہ اگر3خاندانوں نے کشمیر کو لوٹا ہے ، تو میرے پاس بہت سارے محل ہونے چاہئے، میں زمین میں سب سے امیر انسان ہوتا، کیا میں ہوں، کیا میں امبانی یا اڈانی کے برابر ہوں؟ تو یہاں سے کہاں جاتا؟ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ ’جب تک وہ اپنی سوچ تبدیل نہیں کرتے، جب تک وہ اس بات کا ادراک نہیںکرتے کہ بھارت خالی ایک مذہب کیلئے نہیں ہے، جب تک ہم تنوع کا احترام کرتے رہیںگے ، بھارت قائم رہے گا، جس دن ہم نے تنوع سے چھیڑ چھاڑ کی، بھارت ختم ہوجائیگا، ہاں گائے کے نام پر سیاست کرنے والے رہیںگے، باقی جائیںگے،ایک وقت آئیگا ، میں یہ دیکھنے کیلئے شاید نہ رہوں لیکن میرے بچے اور ان کے بچے یہ دیکھیں گے‘‘۔ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ ’’لوگوں کے دل جیتنے کے وعدے کہاں ہیں؟ کیا آپ لوگوں کے دل جبراً ، بی ایس ایف، سی آر پی ایف، مقامی پولیس سے جیت لینا چاہتے ہیں؟ کہاں(کشمیرمیں)ایسی آزادی ہے، جس سے آپ دہلی یا بھارت کی کسی اور جگہ میں لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔(کے این ایس)