تازہ ترین

بچوں سے پیار کیجیے لیکن رہے خیال

فہم و فراست

تاریخ    28 جولائی 2021 (00 : 12 AM)   


جمیل اخترشفیق
ایک بار میں اپنے ایک ایسے دوست کے یہاں کچھ دنوں کے لیے مقیم تھا جو بنیادی طور پربے حد شریف، پڑھے لکھے اور دیندار انسان ہیں،ان کے گھر کے دیگر افراد بھی سلجھے ہوئے اور سنجیدہ مزاج ہیں۔
ان کے یہاں قیام کو یہی کوئی دو تین روز ہی گزرے ہوں گے کہ میں نے ان کی مصروفیت اور ضرورت کے پیشِ نظر ان سے ایک روز کہا: آپ ایک بائک لے لیجیے، اس سے آپ کا بہت سارا کام آسان ہوجائے گا، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ مسلسل بھاگ دوڑ میں رہتے ہیں۔ سماجی، فلاحی اور تجارتی ضرورتیں ہرپل آپ سے لپٹی رہتی ہیں، اسی لیے بلاتاخیر موڈ بنائیے، ان شااللہ میں بھی ساتھ رہوں گا،کسی طرح کی کوئی دقت نہیں ہوگی۔ میرے دوست کو بروقت یہ بات سمجھ میں آگئی، بالآخر کچھ دنوں بعد چمکتی ہوئی بائک ان کے دروازے تک پہونچ گئی، پھر کیا تھا، ضرورتوں کی رفتار بڑھ گئی اور ان کی روز مرّہ کی زندگی میں بھی ایک طرح سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ چمک پیدا ہوگئی، لیکن پریشانی یہ پیش آگئی کہ آس پاس کوئی رہے یا نہ رہے بائک جب جب دروازے پہ لگی رہتی تھی اُن کے دونوں چھوٹے چھوٹے بچے اس پہ یوں چڑھ اُتر کرتے تھے گویا وہ بائک نہیں کوئی سیدھا سادھا پالتو جانور ہو، اس کی یہ حرکت دیکھ کر میں نے کئی بار ان کے دونوں بچوں کو فرداً فرداً پیار سے سمجھایا اور پھٹکارا بھی لیکن وہ دونوں اپنی حرکت سے باز نہیں آئے۔ میں چونکہ مہمان تھا اسی لیے مصلحتاً چاہ کر بھی مزید سختی نہیں کرسکتا تھا وجہ یہ تھی کہ میں نہیں چاہ رہا تھا کہ ہلکی سی سختی کی وجہ سے خواہ مخواہ میرے دوست کے دل میں میرے تعلق سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو،کیونکہ میں یہ جانتا ہوں کہ اچھے خاصے سمجھ دار لوگ بھی اپنی اولاد سے اندھے پن کی حد تک محبت کرتے ہیں،یہی سبب ہے کہ ان کے بچے غلطی پہ ہوں یا صحیح پہ، اُنہیں کبھی یہ برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی ان کے بچے کو آنکھ بھی دکھلائے۔ اب وہ دن گئے جب محلہ کا کوئی بڑا کسی بچے کو اگر طمانچہ بھی رسید کردیتا تھا تو گارجین ان سے سبب پوچھنے کے بجائے اُلٹا اپنے بچے پر ہی برس پڑتے تھے ۔
چونکہ مجھے اپنے دوست سےبے لوث محبت ہے اور محبتیں سامنے والے کو صرف خوش رکھنے کے لیے کسی پہ نچھاور نہیں ہوا کرتی ہیں۔ آدمی اگر کسی کے تعلق سے مخلص ہوتا ہے تو اس بات کی کم پرواہ کرتا ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا بلکہ وہ وہی کہتا اور کرتا ہے جو ایک دوسرے کے حق میں مفید ثابت ہو، ان ہی جذبوں کے پیشِ نظر میں نے اپنے دوست سے مسکراتے ہوئے بڑی سنجیدگی کے ساتھ کہا:بھائی صاحب!  ایک بات بولوں؟ انہوں نے کہا:فرمائیے؟ میں نے بغیر کسی لاگ لپیٹ کے ان سے کہنا شروع کیا:دیکھیے آپ کی بائک تو آگئی ہے، ضرورتیں بھی پوری ہو رہی ہیں، گرچہ آپ کے علاقے کی سڑکیں مخدوش ہیں۔ بائک آپ کے بھائیوں کے ہاتھوں میں بھی جائے گی، بہت ممکن ہے محلہ کے لوگ بھی بوقتِ ضرورت مانگ بیٹھیں لیکن مجھے کسی سے کسی طرح کا کوئی اندیشہ نہیں ہے ۔سب سے زیادہ مجھے آپ کے بچوں سے ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں یہ کمبخت اپنی اُچھل کود میں خود کو بائک سے زخمی نہ کر بیٹھیں، کیونکہ ان کی حرکتیں کچھ عجیب سی ہیں، جب سے گاڑی آئی ہے میں دیکھ رہا ہوں اس کی مصروفیت کا پورا وقت بائک ارد گرد ہی گھوم رہا ہے۔ میرے دوست نے کہا: اللہ نہ کرے کچھ ہو۔ میں نے کہا: میں بھی اللہ سے دعا گو ہوں کہ کسی طرح کی کوئی بات نہ ہو پھر بھی سختی سے تنبیہ کیجیے لیکن میرے دوست نے بہت سیریس ہونے کے بجائے فطری طور پر اپنے نرم لہجے میں تنبیہ کردی،جس سے ان کے بچوں کے چہرے پہ کوئی ایسا خاص تائثر نہیں اُبھرا جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ ان کی باتوں کا کوئی ان پہ گہرا اثر ہوا ہے۔
دوسرے روز یہ ہوا کہ میرے دوست اپنے گھر میں آرام فرما رہے تھے،بائک باہر کھڑی تھی اور میں ان کے گھر سے متصل ہی دروازے پہ دیوار کی اوٹ میں ان کے بھائی کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھا،اچانک بچوں نے ان کے بچے کا نام لیکر شور کیا کہ ان کے چھوٹے بیٹے نے بائک گرادی ہے اور اپنے ننھے ہاتھوں سے بائک اٹھانے میں مصروف ہے جو بلاشبہ اس کی بساط سے باہر کا عمل تھا، جلدی جلدی میں باہر آیا اور میں نے زور لگاکر ان کی بائک کھڑی کردی،اسی بیچ شاید بچوں کا شور سن کر میرے دوست بھی باہر نکل آئے، میں نے ان سے کہا:لیجیے صاحب ''جس سے ڈرتے تھے وہی بات ہوگئی'' ابھی ابھی آپ کے پیارے صاحبزادے نے وہی کارنامہ انجام دیا ہے جس کا قبل از وقت مجھے ڈر لاحق تھا وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ اسے کچھ نہیں ہوا ورنہ ایک نئی مصیبت کے آپ شکار ہوجاتے۔ میرا جواب سن کر خلاف توقع میرے دوست بروقت بچے کی تنبیہ کے بجائے غصہ ہوکر اپنے بھائی سے ہی کہنے لگے:گاڑی ڈھنگ سے لگایا کرو، یہ کرو وہ کرو وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔اور مجھ سے مخاطب ہوکر انہوں نے کہا: جانے دیجیے دو اولاد ہے ایک چلا ہی جائے گا تو کیا ہوا، مجھے ان سے اس طرح کے غیر سنجیدہ جواب کی توقع نہیں تھی، میں سوچنے لگا کہ:استغفراللہ جب بات اپنی اولاد کی آجائے تو اس حد تک پڑھے لکھے، تجربہ کار اور متواضع اور سلجھے ہوئے انسان کے شعور کی سطح بھی غصے کی حالت میں کہاں پہونچ جاتی ہے؟۔
یہ ایک کردار ہے زندگی کا، ہمارے سماج کا، معاشرے میں نظر آتی مختلف تصویروں کا، ہمارے سامنے روز پیش آنے والے مناظر کا ۔میرا مقصد اپنے دوست کا مذاق اُڑانا یا انہیں نیچا دکھانا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ ہم آج اپنی زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق سنجیدہ ضرور ہیں، ہمارا نہ کوئی معیار ہے، ایک لائحہء عمل ہے، ایک ویژن ہے، لیکن بچوں کی تربیت کے حوالے سے ہمارے پڑھے لکھے والدین کے پاس بھی شب وروز کا باضابطہ کوئی لائحہ عمل نہیں ہوتا۔ آپ جذبات میں اپنی زبان سے نکلنے والے الفاظ اور صادر ہونے والے اعمال کو معمولی مت سمجھیے کیونکہ اس سے ہماری آنے والی نسلوں پہ بہت گہرا اثر پڑتا ہے، ٹھیس اگر پیر میں لگ جائے تو ہمیں پتھر کو بُرا کہنے کے بجائے آنکھیں کھول کر اور پھونک پھونک کر قدم رکھنے کا عادی ہونا پڑے گا کیونکہ اگر ہم پتھر کو موردِ الزام ٹھہرانے کی حماقت کرتے رہیں گے ، ہمارے پیروں کے لہولہان ہونے سلسلہ تھمے گا نہیں جاری رہے گا۔ اپنے بچوں سے ضرور محبت کیجیے، ٹوٹ کر محبت کیجیے اتنا کیجیے کہ ان کی اور آپ کی دھڑکنیں ایک ساتھ دھڑکتی رہیں لیکن یہ مت بھولیے کہ زندگی کی راہوں میں جہاں اُنہیں آپ کے پیار کی ضرورت ہے وہیں آپ کی شفقت آمیز پھٹکار کی بھی ضرورت ہے، وقت پڑنے پہ ہلکی پھلکی سرزنش بھی بُری نہیں ہے کیونکہ پیارے رسولِ جناب محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے یہ بات دلوں کو گُدگداتی ہے اور ایک مومن کی طبیعت رشک سے جھوم اُٹھتی ہے کہ جب حالتِ نماز میں نواسۂ رسول پیٹھ پہ سوار ہوجاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کو اس غرض سے طویل کر دیتے کہ کہیں انہیں چوٹ نہ لگ جائے وہیں ایک بار جب اُسی نواسے نے زکوٰۃ میں آئی ہوئی کھجور کو منہ میں رکھ کر نگلنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق میں انگلی ڈال کر باہر نکال دیا کیونکہ سید زادے کے لیے زکاۃ کا مال کھانا جائز نہیں ہے۔
ذرا سوچیے! کھجور گرچہ زکوٰۃ کی تھی لیکن بنیادی طور پر کوئی نجس چیز تو نہیں تھی،عربوں کی محبوب غذا تھی، خود رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم شوق سے نوش فرمایا کرتے تھے،صحابہؓ کو کھانے اور کھلانے کی تلقین بھی کیا کرتے تھے لیکن جب اُسی کھجور کی نسبت زکوٰۃ سے جُڑ گئی اور وہ سید زادے کے منہ میں جارہی تھی، بچہ تو بچہ ہی ہوتا ہے وہ کیا جانے حلال کیا ہوتا اور حرام کیا؟ لیکن چونکہ تربیت کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں ہوتی، اسی لیے ضرورت پڑی تو ہادی انسانیتؐ نے حلق میں انگلی ڈال کر باہر کردیا۔ اسی طرح ہمیں بھی بچوں کے عمل کے حساب سے سختی کا معیار متعین کرنا چاہیے کیونکہ ہم گرچہ ابتدائی لمحوں میں بچوں کے کسی عمل کو فرطِ محبت کی بنیاد پر معمولی سمجھتے ہیں لیکن گزرتے دنوں کے ساتھ بچوں کا وہی عمل والدین کے لیے دردِ سر بن جاتا ہے ،اِسی پر بس نہیں بلکہ زندگی رسوائیوں اور ذلتوں کی نذر ہوکر رہ جاتی ہے۔
رابطہ:9973234929