تازہ ترین

گجر بکروال خانہ بدوش قبائل | آو بتائیں تجھے کیسے جیتےہیں یہ لوگ

روداد

تاریخ    28 جولائی 2021 (00 : 12 AM)   


شاذیہ چودھری ۔راجوری،جموں
بلا شبہ گجر بکروال خانہ بدوش قبائل پسماندہ طبقہ میں شامل ہےاورآئین ِ ہند کی دفعہ 340 کی رو سے پسماندہ طبقوں کی فلاح وبہبود کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہےتاکہ اُن کی زندگی میں درپیش مصائب و مسائل کا کسی حد تک ازالہ ہوسکےاور انہیں بھی وہ بنیادی ضروریات مہیا ہوںکہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح زندگی گزار سکیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر دور کی سیاسی پارٹیاں ہمیشہ ان خانہ بدوش قبائل کو محض ووٹ بینک کے طورپر استعمال کرتے رہے اوراِن کی باز آبادکاری یا راحت کاری کے لئے  کوئی کام نہیں کیا۔ہندوستان میں پہلا ’’پسماندہ طبقات کمیشن‘‘29 جنوری 1953ء کو صدارتی حکمنامے کے تحت ’’کاکا کیلکر‘‘ کی قیادت میں قائم ہوا تھا۔ جس نے 30 مارچ 1955ء کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 2399 پسماندہ طبقات،قوموں، قبائل یا برادریوں پر ایک مکمل رپورٹ درج کی گئی تھی اور837 طبقات،اقوام، قبائل یا برادریوں کو’’سب سے پسماندہ‘‘ قرار دیا گیا تھا، جن میں جموں و کشمیر کی گجر بکروال قوم بھی شامل ہے۔
’کیلکر کمیشن ‘کی کچھ قابل ذکر سفارشات میں سے کچھ اس طرح ہیں:خواتین کو بطورِ طبقہ پسماندہ سمجھا جائے اور اِن کی تعلیم،تربیت اور ترقی کو اہمیت دی جائے۔ سرکاری نشستوں اور تعلیمی اداروں میں نشستوں کا تحفظ یقینی بنانا، تکنیکی اور پیشہ ورانہ اداروں میں تربیت اور آبادی کے تناسب سے ملازمت میں ان کی مخصوص نشستوں پر تقرری، خالی سرکاری اور مقامی اداروں کی جائیدادوں کوایسے پسماندہ طبقات کے لیے محفوظ کرنا،ایسے طبقات کے لئے رہائشی اسکولوں اور تعلیمی ہوسٹلوں کی تعمیرکرنا وغیرہ شامل  ہے۔لیکن اِس  سلسلے میں کوئی قبل ذکر کام نہیں ہوسکااور ابھی تک اِس پسماندہ قوم کی حالتِ زار میں کوئی بدلائو نہیں آیا ہے۔
گجربکروال قوم کی مادری زبان گوجری ہے اور اِس قوم میں زیادہ تر خانہ بدوش قبیلے ہیں۔ جن کی گزر بسر زیادہ تر مال مویشی اور بھیڑ بکریوں پر ہی منحصر ہے۔ ان کو خانہ بدوش اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے پاس ایسا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ، جہاں پر یہ لوگ اپنے مال مویشی اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ گزر بسر کرسکیں۔ یہ لوگ اپنے مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کے چارہ اور پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے ہیں۔ مال مویشیوں کے لئے تھوڑی دیر وہاں قیام کرتے ہیں جہاں گھاس پھوس اور پتوں کی وافر مقدار میسر ہو،پھر اِن کا پڑاؤ ایسی کسی دوسری جگہ منتقل ہو جاتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں یہ لوگ ملک کے بالائی علاقوں اور پہاڑوں کا رُخ کرتے ہیں اور سردیوں میں میدانی علاقوں کا۔بالائی علاقوں میں چراگاہیں ہوتی ہیں جن کومقامی گوجری زبان میں’’ٹہوک/ ڈھوک‘‘ کہا جاتا ہے۔ جہاں پر یہ لوگ صدیوں سے اپنے مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کو چراتے آ رہے ہیں۔ یوں تو گجر بکروال قوم برصغیر کے علاوہ ایشیا، افریقہ،جنوبی امریکہ، شمالی امریکہ،آسٹریلیا اور یورپ کے مختلف ممالک میں آباد ہے۔ لیکن ہمارے ملک ہندوستان میں ٹرائبل ریسرچ اینڈ کلچرل فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق لگ بھگ 4 کروڑ کے آس پاس گجر بکروال آباد ہیں اور 25 لاکھ کے قریب جموں کشمیر اور لداخ مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں گجر بکروال خانہ بدوش قبائل آباد ہیں۔
مرکزی زیرِ انتظام علاقوں جموں کشمیر اور لداخ کے علاوہ گجر بکروال ہندوستان کی باقی ریاستوں اُتر اکھنڈ، اترپردیش،پنجاب، ہریانہ، راجستھان،دہلی،گجرات،ہماچل پردیش، اور مہاراشٹر وغیرہ میں آباد ہیں اور ان سب کا گزر بسر مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں سے ہی ہوتا ہے ۔یہ سب گرمیوں میں پہاڑوں کی گود میں اپنے مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ پناہ لیتے ہیں اور سردیوں میں میدانی علاقوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ اس کے لیے ان لوگوں کواپنے اہل و عیال،عورتوں اور بچوں سمیت سال میں دو بار بڑی ہجرتیں کرنی پڑتی ہیں اور چارا کی عدم دستیابی کے پیشِ نظر ہفتوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ کئی چھوٹی ہجرتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔  دوران سفر اِن گجر بکروال خانہ بدوش قبائل خصوصاً اِس قبیلے کی خواتین کو اَن گنت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موسم کے تھپیڑوں کو جھیلنا پڑتا ہے، راستے میں خوراک و ادویات کی عدم دستیابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ  آج کل کووِڈ۔ 19 کی دوسری لہر میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا ۔ان میں بالخصوص ان کا ذکر کرنا چاہوں گی۔ آج کل گرمیوں کا موسم چل رہا ہے اور یہ لوگ پانی اور چارے کی تلاش میں اپنے مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ پہاڑی علاقوں کا رُخ کر رہے ہیں۔دوران سفر سب سے بڑی مشکل جس کا سامنا ان لوگوں کو کرنا پڑ رہا ہے وہ ہے ویکسین کی عدم دستیابی ۔ ویکسین سے پہلے اِن لوگوں کا فشارِ خون، حرکتِ قلب، ذیا بطیس،الرجی اور خاص طور پر حمل کی تشخیص کا عمل جس کے لئے کم از کم ایک دن کا وقفہ درکارہے۔ اِس قبیلے کی حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے اور بھی مسائل پیدا ہوتے ہیںاور یہ لوگ مال مویشیوں کو جنگلی جانوروں کے ڈر سے اکیلے نہیں چھوڑ سکتےاور دور دراز پہاڑی علاقوں سے اِن کا سرکاری ٹیکہ مراکز تک آنا بھی ممکن نہیں۔
موسمی ہجرتوں کے اس دورانیے میں اور خاص کر کووِڈ۔ 19کی لہر کے چلتے گجر بکروال خواتین اور سنِ بلوغت میں پہنچنے والی بچیوں کو بہت سارے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔چنانچہ انہیں مہینوں پیدل چلنے میں گزر جاتے ہیں، اس دوران ان بچیوں کو ماہواری کے دور سے بھی گزرنا پڑتا ہے اور شادی شدہ خواتین کو حاملہ ہوتے ہوئے بھی پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ماہواری اور حمل کے دوران یہ بیچاری خواتین اپنی پیٹھ یا سر پہ بوجھ اٹھا کر مِیلوں پیدل سفر کرتی رہتی ہیں۔ جہاں اِنہیں حفظانِ صحت کے کئی مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔ کئی بچیاں اس پیدل سفر کے دوران خون کے زیاں کی زیادتی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں یا پھر ہمیشہ کے لئے ان کے جسم کے اندرونی حصوں میں کئی خطرناک بیماریاں جڑپکڑلیتی ہیں، اور آگے چل کر اِن کی ازدواجی زندگی میں کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ حاملہ خواتین کئی بار دوران سفر ہی بچوں کو جنم دیتی ہیں اور جب یہ دردِ زہ میں مبتلا ہوتی ہیں تو نہ ہی ان کو کوئی دایہ میسر ہوتی ہے اور نہ ہی دوائی، جس کی وجہ سے زچہ اور بچہ دونوں ہی یا تو جان ہی گنوا دیتے ہیں یا پھراگر بچ بھی جائیں تو تاعمر کئی بیماریاں اِن کا مقدر بن جاتی ہیں۔یہ خواتین موجودہ کووِڈ۔ 19کے حالات کے پیشِ نظر نہ ہی ہسپتال جاپاتی ہیں اور نہ ہی کسی کو اپنی حالتِ زار سے آگاہ کرپاتی ہیں کیونکہ تعلیم اور آگاہی کی کمی کی وجہ سے یہ خواتین اور بچیاں بھی تو ہمات، وہم اور افواہوں پر یقین کر لیتی ہیں کہ اگر وہ ہسپتال جائیں گی تو ان کو کووِڈ کی تشخیص کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ اِن کے لئے کوفت کا باعث ہے اوربقول اِن کے جان لیوابھی ثابت ہو سکتا ہے۔ گجر بکروال خواتین میں تعلیمی پسماندگی سب سے زیادہ پائی جاتی ہے، ہمارے ملک میں صرف 11 فیصد گجر بکروال خواتین ہی خواندہ ہیں اور باقی 89 فیصد خواتین نا خواندگی کے بھیانک سائے تلے زندگی گزار رہی ہیں۔ کئی دودھ پلانے والی مائیں وقت پر بچوں کو دودھ بھی نہیں پلا پاتیں اور ماں کا دودھ نہ ہونے کی وجہ سے بچوں میں خواراک اورحیاتین کی کمی کے باعث مستقبل میں کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو بھی غذائیت کی کمی کے باعث کئی مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اِس طرح یہ خواتین اور بچیاں بہت کچھ سہہ رہی ہیں، کبھی سفر کے دوران حادثات کا شکار ہو جاتی ہیں، کبھی موسم کے تھپیڑوں کی زد میں آ جاتی ہیں اور کبھی مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کے چارے اور گھاس پھوس کی تلاش میں پہاڑوں سے گر کر یا تو معذور ہو جاتی ہیں یا پھر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ کئی بار تو جنگلوں میں جنگلی جانوروں کا نوالہ بن جاتی ہیں، ایسے میں کووِڈ۔ 19 کی اس جان لیوا وبائی لہر نے ان کی مشکلات اور مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ظاہر ہےکہ لوگ مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ پیدل سفر کرتے ہیں اور ایسے علاقوں کی طرف رُخ کرتے ہیں جہاں پہ پہلے ہی ایسی سہولیات کی عدم دستیابی ہوتی ہے،ایسے میں ٹیکہ مراکز کا قیام بھی نہ کے برابر ہوتا ہےبلکہ ایسے علاقوں میں یہ مراکز ہیں بھی نہیں۔ اس لئے یہ لوگ ٹیکہ کاری مہم سے مستفید نہیں ہو پا رہے ہیںاور جن علاقوں میں یہ لوگ بسیرا کرتے ہیں وہاں پہ سڑکوں کی عدم دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اور ان علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے کئی کئی دن کا پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے جو کہ محکمہ صحت کے عملے کے لئے مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔ اس طرح یہ گجربکروال خانہ بدوش قبائل کووِڈ۔ 19کو مات دینے میں نا کام ہو رہے ہیںجوکہ تشویش ناک امر ہے، جس کے حل کے لئے کچھ اِقدام اُٹھانے کی اشدضرورت ہے۔ یہ لوگ تو کووِڈ کے ٹیسٹ سے بھی محروم رہتے ہیں ۔ اگرخدا نخواستہ یہ قبائل کووِڈ19سے متاثر بھی ہوتے ہیں تو یہ جان نہیں پائیں گے اور ایسے میں پورے کے پورے خاندانوں کی جان داؤ پہ لگ سکتی ہے۔ گجر بکروال طبقے میں شرح خواندگی کی از حد کمی ہے جس کی وجہ سے بہت سارے لوگوں میں شعور اور آ گاہی کی بھی کمی ہے اور وہ ویکسین نہیں کرواپاتے، کچھ اپنی سادہ طبیعت کی وجہ سے اِدھر اُدھر کی افواہوں پر یقین کرتے ہوئے کووِڈکے مخالف اس ویکسین کو جان لیوا گردانتے ہیں اور ویکسین کروانے سے انکاری ہیں۔
دوسری طرف کووِڈ 19 کے پیش نظر محکمہ تعلیم کی طرف سے اسکولوں کو بند رکھنے کا اعلان کیاگیا ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے سیزنل اسکولوں اور موبائل اسکولوں کو بھی نہیں کھولا جا سکتا، اساتذہ بچوں کو اپنے اپنے گھروں سے ہی آن لائن تعلیم دیتے ہیں ،ایسے میں ان گجر بکروال خانہ بدوش قبائل کے بچوں کی تعلیم بے حد متاثر ہو رہی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بسیرا کرنے والے ان لوگوںتک انٹرنیٹ کی پہنچ نا ممکن ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے بچے آن لائن کلاسیں نہیں لے سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ دوران سفر کووِڈکی اس لہر میں گجر بکروال خانہ بدوش قبائل کے لوگ خوراک اور اشیائے ضروریہ سے بھی محروم ہیں کیونکہ اس جان لیوا وباء کے چلتے حکومت کی سخت ترین ہدایات پر لاک ڈاؤن کی وجہ سے اشیائے خوردنی کی دکانیں بند ہیں۔ ان لوگوں کا گزر بسر مال مویشیوں پرہی ہوتا ہے ،چمڑے،اون، گوشت، اور دودھ کے کارخانے ان ہی لوگوں کے دم سے چلتے ہیں لیکن کووِڈ 19کی اس لہر نے گوشت،اون اور چمڑے کا کاروبار بھی ٹھپ کردیا ہے۔ ان کا مال کہیں بھی نہیں بکتا اور اگر بکتا بھی ہے تو مناسب داموں پہ نہیں۔ جس کی وجہ سے ان لوگوں کا چولہا جلنا مشکل ہو گیا ہےاور جو لوگ دودھ، مکھن بیچ کر گزارا کرتے ہیں ان کو بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے مشکلات  نے گھیر رکھا ہے۔
گو کہ یہ نقصان صرف ان لوگوں کا نہیں ہے بلکہ پورے ملک کی معیشت کا نقصان ہے ۔یہ لوگ ملک کی انڈسٹری چلاتے ہیں لیکن آج ان لوگوں کو کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ دوران ہجرت راستے میں اگر ان لوگوں کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائےیا خواتین کی زچگی کا معاملہ درپیش ہو تو زچہ خانہ اور ڈِسپنسری نہ ہونے کے باعث First-Aid ملنا بھی ناممکن ہوتا ہے، نتیجتاً کسی نزدیکی ڈسپنسری، سب سینٹر یاتحصیل و ضلع ہسپتال تک پہنچتے پہنچتے یہ لوگ اپنی جان گنوا دیتے ہیں، کچھ لوگ اپنی بھینسوں وغیرہ کو بذریعہ گاڑی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں جو کہ آج کل کووِڈ۔ 19 میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے نہیں ہو پا رہا ہےاور پھر یہ لوگ مجبوراً ہجرت نہیں کرتے بلکہ گرمی کے قہر میں پانی اور چارے کی قلت میں گزارا کرنے پہ مجبور ہیں یا پھر مجبوری میں اپنے مال مویشیوں کو کوڑیوں کے دام بیچ کر صرف روزی روٹی کی تلاش میں پہاڑوں ،جنگلوں اور چراگاہوں کا رُخ کر رہے ہیں، جہاں پہ ان کو کھانے پینے کے لالے پڑ تے ہیں۔
اگر اِن گجربکروال خانہ بدوش قبائل کی حفظانِ صحت کو ملحوظ رکھا جائے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِنہیں بھی اِس وباء سے بچانے کی تدبیر سوچی جائے تو ایسے اِقدام اُٹھائے جائیں جہاں اِن کی تمام تر منحصرگزر بسر مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کو متاثر کئے بغیر اِن گجر بکروال خانہ بدوش قبائل کی فشارِ خون، حرکتِ قلب، ذیا بطیس، الرجی اور حمل کی تشخیص اور ٹیکہ کاری کی مہم کے تحت اِنہیں بھی اِس سے مستفید کیا جائے تاکہ ملک کا ہر شہری توانا و تندرست ہو۔(چرخہ فیچرس)
[