تازہ ترین

ہمت ِمرداں | نوجوان محنت اور ہمت سے کام لیکر اپنے آپ پر یقین کرنا سیکھیں

شور نشور

تاریخ    28 جولائی 2021 (00 : 12 AM)   


شاہ عباس
پوری دنیا کے ساتھ ساتھ کشمیر کے متوسط گھرانوں کی اقتصادی حالت گذشتہ تین برس سے دگرگوں بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف مہنگائی کا ا ژدہاپھن پھیلائے ہے اور دوسری طرف یہاںپرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کی کمائی میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ ہمارے یہاںپرائیویٹ سیکٹر نام کی چیز کبھی موجود تھی ہی نہیں بلکہ جس کو پرائیویٹ سیکٹر کہا جاتا ہے وہ چند سرمایہ داروں کی ذاتی جاگیریں تھیں اور وہ بھی اب معلوم اور نا معلوم وجوہات کی بنا پر اپنی سرگرمیوں کو محدود کئے ہوئے ہیں۔ان اداروں میں کام کرنے والوں کو کبھی انکی نوکری کا تحفظ حاصل نہیں تھا۔اب کیا مزدور اور کیا ہنر مند، 2019سے کشمیر میںنجی سیکٹر سے وابستہ ہر شخص حالات کی مار جھیل رہا ہے یہاں تک کہ اس سیکٹر کے مالکان یا سرمایہ کاروں کا حال سہما سہما ہے اور وہ جانے انجانے ایسے فیصلے لے رہے ہیں جن سے لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں وہ غیر مقامی سرمایہ داروں کے سامنے خود سپردگی کرنے والے ہیں۔
 حالانکہ نجی سیکٹر کے ملازمین نے ہمیشہ اس سیکٹر کو عالمی نہیں تو علاقائی رینکنگ میں اول رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے لیکن اب گذشتہ تین برس سے یہی ملازمین انہی مالکان کے ہاتھوں مار جھیل رہے ہیں جن کیلئے وہ دن رات محنت کرنے سے نہیں کتراتے تھے۔ حالات یہاں تک بگڑ گئے ہیں کہ نوجوان طبقہ مایوسی کے دلدل میں دھنستا جارہا ہے۔اس صورتحال میں بعض نوجوانوں کا آن لائن کاروبار کا رخ کرنا باعث اطمینان ہے کیونکہ آنے والا وقت اسی طرح کے کاروبار کیلئے موزون تصور کیا جاتا ہے۔اس قسم کے کاروبار میں دلچسپی رکھنے والوں کو کام کاتجربہ تو عملی میدان میں ہی حاصل ہوتا ہے لیکن اُن کے پاس جدید ٹیکنالوجی کا علم ہونا اہمیت کا حامل ہے۔ اس طرح کے کاروبار کی طرف مائل یہاں کے نوجوانوں کے سامنے ایک وسیع و عریض دنیا پڑی ہے جس کو صبر و ثبات کے ذریعے ایکسپلور کیا جاسکتا ہے۔
راقم ایک ایسے ہی نوجوان کو جاتا ہے جس نے محض17یا 18سال کی عمر میں اپنی طالب علمی کے زمانے میں آن لائن کاروبار کا آغاز کیا۔اس خوبرو نوجوان کو اپنے محدودحلقے میں کشمیری مصنوعات کا آن لائن سفیر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کا ماہرانہ اپروچ اور پیشہ ورانہ طرز عمل اسے ہر دن کامیابیوں کی نئی بلندیوں تک پہنچارہا ہے۔اس نوجوان نے بھی اپنے ہم عمر ساتھیوں کی طرح خواب سجھائے تھے لیکن اس نے عملی دنیا کا جائزہ لیتے ہی ٹھوس اقدامات کے ذریعے اپنے والدین کیلئے عملی مددگار بننے کا جو فیصلہ کیا وہ اُسے ہر لحاظ سے درست معلوم ہورہا ہے۔آج کل مذکورہ نوجوان اپنے عزیز و اقارب میں ایک محنت کش شخص کے طور ابھر کر سامنے آیا ہے جو مصائب کا مقابلہ کرنے کے ہنر سے لیس اور مشکلات کا سامنا کرنے سے گھبرانے والا نہیں ہے۔  
ماہرین کہتے ہیں کہ ای کامرس بین الاقوامی سطح پر کامیاب کاروبار کا مرکز بن رہا ہے۔ایسے کاروباری کے پاس ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی حکمت عملی ہونا ضروری ہے۔یہ حکمت عملی تیار کرنے والے کاروباریوں کی کامیابی صد فیصد یقینی ہوتی ہے ۔ اس کاروبار میں ایک بار پائوں جم گئے تو کوئی بھی خوشی خوشی نئی نئی سرمایہ کاری کیلئے تیار ہوجاتا ہے۔
 میری جانکاری میںشامل ایک اور کشمیری نوجوان نے اپنے گھرکی مالی مشکلات کا ازالہ کرنے کیلئے کچھ عرصہ سے کشمیری مصنوعات کو ڈبہ بند کرکے دکانداروں کو فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ مذکورہ نوجوان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اپنے کاروبار کی تشہیر کرے البتہ اس کیلئے وہ سوشل میڈیا کا سہارا لیکر کافی حد تک کامیاب ہوا ہے۔ محض ایک سال کے عرصہ میں مذکورہ نوجوان اپنے ضلع کے اندر کشمیری مصنوعات فراہم کرنے میں نام کمانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ پوری وادی کا احاطہ کرے اور اس کیلئے اس نے ابتدائی کام بھی شروع کیا ہے لیکن اسے یہ دیکھ کر مایوسی ہورہی ہے کہ اس کاروبار میں کئی بد دیانت افراد کی موجودگی سے تھوک و پرچون بیوپاریوں کا اعتماد حاصل کرنا کافی مشکل ہے۔ اصل میں کئی افراد ،جو راتوں رات امیر بننے کی کوشش میں جائز اور ناجائز کے تصور سے بھی لاتعلق ہیں، بد دیانتی کرکے دیانت دار اور محنت کش تاجروں کی دنیا بھی خراب کررہے ہیں۔ایسے لوگ بند ڈبوں کو ایک نام پر فراہم کرتے ہیں لیکن ان میں سے جو بر آمد ہوتا ہے وہ کسی بھی طرح دیانتداری کے اصولوں پر پورا نہیں اترتا ہے۔ بہر حال اس نوجوان نے بھی ہمت نہیں ہاری ہے اور وہ تا حال دو اضلاع میں درجنوںتھوک و پرچون کے کاروباریوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔  
ان مثالوں کو پیش کرنے کا مقصد صرف یہ باور کرانا ہے کہ زندگی سے مایوس ہونے کے بجائے مثبت انداز سے سوچنے اور حوصلے کے ساتھ اس پر عمل کرنے سے بڑے سے بڑے مسائل کو بھی آسان بنایا جاسکتا ہے۔ زندگی ایک انمول شے ہے اور اس پر دوست و احباب کے ساتھ ساتھ سبھی تعلق داروں ،خاص کر والدین کا بھی حق ہوتا ہے۔ ہر نوجوان کے اپنے اپنوں نے بچوں کو لیکر کئی خواب سجائے ہوتے ہیں۔ والدین کی خاص کر یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے نہ صرف اپنی زندگیاں کامیابی کے ساتھ گذاریں بلکہ اُن کا بھی سہارا بن کر اُن کے بڑھاپے کی لاٹھی بن جائیں لیکن کہیں کہیں بد قسمتی سے جب اُن کے بچے شاید غلط صحبت میں پڑکر یا مشکلات سے گھبراکر خودی کشی جیساغلط ، ناپسندیدہ اورانتہائی اقدام اٹھاتے ہیں تو بے چارے والدین اپنی باقی ماندہ زندگی ایک ایسے کرب میںگذارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جہاں اُن کا ہاتھ تھامنے والا بھی مشکل سے ملتا ہے۔بچوں پر ہمیشہ سے ہی ذمہ داریوں کا بوجھ ہوتا ہے۔ یہ ذمہ داریاں خاندان کی اقتصادی صورتحال کی بنیاد پر مختلف ہوتی ہیں لیکن اگر کہیں کوئی لڑکا ذمہ داریوں سے گھبرا کر اور مایوس ہوکر ہمت ہار جاتا ہے تو یہ اس کے گھروالوں کیلئے ناقابل بیان مصائب کی وجہ بنتی ہے۔
پڑھائی میں مصروف بچوں کیلئے بھی ہمت مرداں کا ہی فارمولہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔ مقابلہ جاتی امتحانات ہوں یا عام سکولی اور کالج سطح کے تدریسی امتحانات، ہر وقت تسلسل،ہمت، مثبت سوچ اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا کرنے سے طالب علموں کی نفسیات بھی متاثر نہیں ہوتی ہے ،ہاں ایسی سوچ بنانے کیلئے تاہم والدین کا کردار بڑا اہم ہے۔ بچوں پر بلاوجہ کا بوجھ ڈالنا اور اُنہیں وہ اسٹریم اختیار کرنے کیلئے مجبور کرنا جس میں وہ دلچسپی نہیں رکھتے ہوں، منفی نتائج بر آمد کرتا ہے۔ والدین کو چاہئے کہ بچوں کی محدود آزادی میں خلل نہ ڈالیں۔ اُنہیں اتنی آزادی فراہم کریں کہ وہ اپنے بارے میں فیصلے لینے کی صلاحیت حاصل کرسکیں اور ایسا کرتے ہوئے اُن کے ساتھ شفقت سے پیش آکر اُن کا کام آسان بنانے میں معاونت کریں۔ ایسا کرنے سے بچوں کی شخصیت بھی نکھر جائے گی اور اُن کے اذہان پر منفی سوچ کا غلبہ بھی نہیں ہوگا۔اس سے بچے اپنے آپ پر یقین اور اعتماد پیدا کرنے،ہمت اور حوصلے سے کام کرنے اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کا ہنر سیکھ جائیں گے۔ ویسے بھی ہمارے یہاںکے اکثریتی نوجوان ایسے خصائل جلیلہ سے مالا مال ہیں، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ سخت اور مشکل صورتحال کو آسان بناکر اُن کے اذہان و قلوب کومتاثر ہونے سے بچانے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ اُنہیں اپنے کلچر اور شناخت کا احساس دلاتے ہوئے اس بات کی تلقین کریں کہ وہ اس کی حفاظت کریں ۔ اُمید ہے کہ ایسا کرنے کے بہتر اور مثبت نتائج بر آمد ہونگے اور ہمارا سماج جو بے شمار مسائل سے دوچار ہے، نوجوانوں کو درپیش چیلنجوں کے اس نازک مسئلے پر کامیابی کے ساتھ قابو پاسکیں۔؎
������