تازہ ترین

بندوق لائسنس گھوٹالہ | سی بی آئی تحقیقات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف :وکرم ملہوترہ

تاریخ    26 جولائی 2021 (12 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//اپنی پارٹی جنرل سیکریٹری وکرم ملہوترہ نے ہندوستان کے سب سے بڑے بندوق لائنسزاجرائی گھوٹالہ میں سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن کی تحقیقات پر سوال اُٹھائے ہیں۔ یہاں جاری ایک بیان میں ملہوترہ نے کہاکہ سی بی آئی اُس گھوٹالہ میں چھاپے اور تلاشی کارروائیاں انجام دی رہے ہیں جوکہ سال 2012-16کے دوران ہوا، کئی سالوں کے بعد آئی اے ایس افسران کی سرکاری رہائش گاہوں پر چھاپے مارنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تحقیقات ایجنسی کتنی سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا’’ایسا لگ رہا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسی قصور وار افسران کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے جوکہ اِس گھوٹالے میں ملوث ہیں، جنہیں ثبوت مٹانے کے لئے بہت زیادہ وقت دیاگیا‘‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ بندوق گھوٹالہ میں جاری تحقیقات میں سی بی آئی نے اُن کی رہائش گاہوں کی کیا تلاشی لی، سی بی آئی کو اِن افسران کے اُن مقامات کا پتہ کرنا چائیے جواِن افسران نے غیر قانونی پیسے سے سرینگر اور جموں شہروں میں لے کر رکھی ہیں۔ اِن مقامات کو لینے کا ذریعہ رقومات کیاتھا، اِس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ اگر سی بی آئی کئی سالوں بعد دستاویزات کیلئے دیکھ رہی ہے تو وہ غلطی پر ہیں، تحقیقات اور پھر چھاپے بظاہر آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اِس گھوٹالے میں جو آئی اے ایس افسران ملوث ہیں، وہ اہم عہدوں پرتعینات ہیں اور کوئی سوال نہیں اُٹھارہا۔ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’ایسے افسران کو فوری طور پر اہم عہدوں سے ہٹا کر اٹیچ کر دیاجانا چاہئے، اگر سی بی آئی واقعی ہی اِس گھوٹالے کی تہہ تک جانا چاہتی ہے تو اُنہیں اُن سبھی آئی اے ایس افسران کے نام وپتہ کی مکمل تفصیلات پیش کرنی چاہئے جو اِس میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بجائے سی بی آئی گھوٹالے کی جانچ کرئے، یہ حیران کن ہے کہ ایک آئی اے ایس افسر تفصیلات کے ساتھ سامنے آتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ جاری بندوق لائسنس جانچ کے دوران اُن کی رہائش گاہ سے کچھ بھی نہیں ملا۔ ایسے افسران کو اہم عہدوں پر رکھنا خطرناک ہے، ہمارا ماننا ہے کہ ایسے افسران کیلئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے جن کی انتظامیہ میں شبہ داغدار ہے کیونکہ وہ عوامی مفاد کے مطابق کام کرنے کے اہل نہیں۔ اپنی پارٹی جنرل سیکریٹری وکرم ملہوترہ نے مزید کہا’’طاقتور بیروکریٹک لابی نے جموں وکشمیر کے اندر حکومت ِ ہند کی ترقیاتی پالیسیوں کو ناکام بنا یا ہے، پچھلے تین سالوں سے بیروکریسی بہت زیادہ طاقتور ہوگئی ہے اور اُن میں جوابدہی نام کی کوئی چیز نہیں جس وجہ سے عوامی مشکلات میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ بندوق لائسنس گھوٹالہ میں باریک بینی سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے تاکہ انتظامیہ سے رشوت خور عناصر کو باہر نکال پھینکا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔