تازہ ترین

مزید خبریں

تاریخ    26 جولائی 2021 (12 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک

سوپور میں احد بب کا سالانہ عرس آج 

سرینگر//وادی کے معروف صوفی قلندر احد بب کاسالانہ عرس آج یعنی سوموار کوسوپور میں منایاجارہاہے تاہم عالمی وبا کورونا وائرس کو دیکھتے ہوئے محدود عقیدت مندوں کی شرکت متوقع ہے۔ 
 
 
 

قانون کے طالب علموں کیلئے انٹرنشپ | لیگل سروسز اتھارٹی چندی گڑھ کے اہتمام سے تقریب

سرینگر//ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی چندی گڑھ نے جون کے مہینے میں قانون کے پیشہ ور افراد کے لئے ای انٹرنشپ پروگرام کا انعقاد کیا جہاں 2 ہفتوں کے پروگرام کے تحت آرینز کالج آف لاء کے تقریبا 50 طلباء کا انتخاب کیا گیا تھا۔ڈی ایل ایس اے کے پروگرام میںاشوک مان سی جے ایم و سکریٹری اور نیل رابرٹس چیف کوآرڈی نیٹر ڈی ٹی ایس چندی گڑھ نے اسناد سے نوازا۔ مان نے قانون کے طلباء سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قانونی انٹرنشپ قانون طلبہ کو قانونی تعلیم کے ذریعہ پیش کردہ مواقع کی کثرت سے اپنی دلچسپی کے شعبوں کا فیصلہ کرنے میں مدد کرتی ہے ۔ڈاکٹر انشو کٹاریہ ، چیئر مین آریانز گروپ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو تجربہ انٹرنشپ سے حاصل ہوتا ہے وہ قانون میں اپنے کیریئر میں اضافے کیلئے قیمتی ہے۔
 
 

اساتذہ کو جدید تقاضوں سے روشناس کرانے کی مہم |  کولگام میں یتیم فائونڈیشن کی جانب سے 5روزہ ورکشاپ کا انعقاد

سرینگر// جے اینڈ کے یتیم فانڈیشن کے زیراہتمام الہلال ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ نے چولگام کولگام میں ہفتے کے روز پانچ روزہ اساتذہ ورکشاپ کا آغاز کیا۔ورکشاپ کا مقصد الہلال ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ میں موجود اساتذہ کو تعلیم کے شعبے میں جدید رجحانات ، تقاضوں اور طریق کار سے عملی طور پر روشناس کرانا اور اسے کلاس روم میں عملی طور اپنانے کیلئے راغب کرانا ہے۔ورکشاپ میں مصنف اور ماہر تعلیم بشیر طالب ، ڈاکٹر نسیم شاہ ، سابق ڈین اکیڈمکس کشمیر یونیورسٹی اور جی ایم لون سابق فائنانشل ہیڈ این ایچ پی سی بحیثیت ریسورس پرسن پانچ روزہ پروگرام کے مختلف سیشنوں میں حصہ لیں گے۔افتتاحی سیشن کے دوران مقررین نے اساتذہ کی انگریزی تدریسی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ پروگرام میں اساتذہ کی انگریزی مواصلات اور گفتگو کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ دی گئی ۔پانچ روزہ ورکشاپ کا مقصد اساتذہ کی تدریسی صلاحیتوں میں بہتری ،کمپیوٹر ، انٹرنیٹ اور ایل سی ڈی پروجیکٹر کے استعمال کے ذریعہ تعلیم کے جدید طریقہ کار کو متعارف کرانے اور ان آلات کی مدد سے بچوں کو بہتر سے بہتر تعلیم فراہم کرنا ہے۔اس کے علاوہ سائنس کلب کے ذریعے بچوں کو عملی سائنس سے متعارف کرانا ہے۔چیئرمین فائونڈیشن محمد احسن راتھر نے طلبا کی تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوے تمام متعلقین کی اس ضمن میں کی گئی کاوشوں کی سراہنا کی۔ انہوں نے تعلیمی ماہرین سے اپیل کی کہ وہ طلبا کو اس شعبے میں نئے رجحانات کی تلاش میں مدد فراہم کرنے کے لئے اپنے نظریات کے ساتھ آگے آئیں۔ 
 

 سید عزیزاللہ حقانی کا یوم وصال  | حقانی ٹرسٹ کا آن لائن پروگرام

سرینگر//پیر سید عزیزاللہ حقانی کے عرس پر سویہ بگ میںایک مجلس کا انعقاد ہوا ۔اس سلسلے میں حقانی ٹرسٹ نے ایک آن لان سیمپوزیم کا انعقاد کیا جس میں مولاناشوکت حسین کینگ ،ڈاکٹر رفیق مسعودی، پروفیسر بشر بشیر ،پروفیسر شاد رمضان،مولانا خورشید احمد قانونگو،پروفیسر فاروق فیاض ،غلام محمد ڈار ، شہباز ہاکباری اور مولانا نورانی نقشبندی نے شرکت کی ۔ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ سید حمید اللہ حقانی نے افتتاحی کلمات میں سید عزیزاللہ حقانی کوخراج عقیدت پیش کیا۔ سرکردہ عالم دین مولانا شوکت حسین کینگ نے صدارتی خطاب میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہمہ جہت شخصیت بر صغیر میں معروف و مشہور ہے ،وہ عالم دین ، مصنف اور مورخ ہونے کے ساتھ ساتھ برگذیدہ صوفی تھے۔ ڈاکٹر رفیق مسعودی نے مشترکہ صدارتی خطاب میں کہا کہ ان کے نعت پڑھنے یا سننے کے بعد قاری ایک عجیب لذت محسوس کرتا ہے ۔ مرکز نور کشمیر یونیورسیٹی کے سابق سربراہ پروفیسر بشر بشیر نے مرحوم کی شخصیت اور کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری زبان و ادب کے مورخ عبدالاحد آزاد کا ماننا ہے کہ کشمیری زبان نے غزل میں محمود گامی کے بعد اگر کوئی مطلق العنان شاعر پیدا کیا ہے تو وہ عزیز اللہ حقانی ہیں۔ ان کی غزلیں اور مثنویاں فن کے بہترین نمونے گردانے جاتے ہیں۔کشمیری زبان کے معروف شاعر اورکشمیر یونیورسٹی کے شعبہ کشمیری کے سابق سربراہ پروفیسر شاد رمضان نے کہاکہ کشمیری زبان میں نعت گوئی کی صنف میں حقانی مرحوم سب سے عظیم شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔
 

 کرناہ اور ٹنگڈار میں طبی کیمپ 7 اور 8 اگست کو 

سرینگر//جی آر بیگ میموریل ٹرسٹ کی جانب سے ضلع کپوارہ کے کرناہ اور ٹنگڈار میں 7 اور 8اگست کو مفت طبی کیمپ منعقد کئے جارہے ہیں۔کیمپ میں مریضوں کا علاج و معالجہ اور مفت ادویات بھی تقسیم کی جائیں گی۔ اس موقع پر سیاحت کے فروغ کے حوالے سے ایک کلچرل پروگرام کا بھی انعقاد کیا جائے گا جس میں وادی کے نامور گلوکار گلزار گنائی اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے ۔ اس کے علاوہ ینگ لائرس فورم سے وابستہ ایڈوکیٹ خرم قریشی کے علاوہ دیگر اہم شخصیات بھی شرکت کررہی ہیں۔ اس پروگرام کے انعقاد کرنے میں ایڈیشنل کمشنر کشمیر قاضی سرور بھر پور تعاون کررہے ہیں ۔
 

ہندوارہ میں منشیات فروش گرفتار

 
 
ہندوارہ//منشیات کے خلاف مہم کے دوران پولیس نے ہندوارہ میں ایک منشیات فروش کو گرفتار کیااوراس کے قبضے سے ممنوعہ اشیاء ضبط کی۔پولیس چوکی زچلڈارہ کے اہلکاروں نے سلطان پورہ پل پر ایک ناکے پرایک شخص کو مشکوک حالت میں روکاجس نے موقعہ سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اُسے پولیس نے چابکدستی سے دھرلیا۔فاروق احمد ڈار ولدمحمد سلطان نامی اس شخص سے پولیس نے190گرام چرس ضبط کیا۔اُسے گرفتار کرکے پولیس تھانہ منتقل کیا گیا جہاں وہ بند ہے۔پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔
 
 
 

مابعدوزیراعظم سے ملاقات | زمینی سطح پرکوئی نتیجہ خیز پیروی نہیں کی گئی:ڈاکٹرفاروق

سرینگر//جموں کشمیرکے مین اسٹریم رہنمائوں سے وزیراعظم نریندرمودی کی ملاقات کے ایک ماہ بعد نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ زمینی سطح پراس کے بعد اس کی کوئی پیروی نہیں کی گئی۔عبداللہ نے یہ بات وزیراعظم نریندر مودی کے24جون کی ملاقات میں اُن کے اِن ریمارکس کے حوالے سے کہی جس میں وزیراعظم نے بتایا تھا کہ وہ جموں کشمیر کے لوگوں کے دلوں کو جیتنا چاہتے ہیں اور ’’دلی کی دوری ‘‘اور’’دل کی دوری‘‘ کومٹانا چاہتے ہیں ۔ تین بار جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ رہ چکے فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ ایک خوش آئندبیان تھا لیکن زمینی سطح پر لوگوں کے دل جیتنے کیلئے کوئی کوششیں نہیں کی گئیں۔لوگ بند ہیں اور اختلاف کوبرداشت نہیں کیاجاتا۔ہم زمینی سطح پر بدلائو دیکھنا چاہتے ہیں ،لوگوں جو ان کی ریاست کوبکھیرنے ،اس کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے زخم سے گزرے ہیں،کا دل جیتنے کیلئے ایک عیاں کوشش دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی ہم نے پیروی کے نتائج نہیں دیکھے۔انہوں نے مزیدکہا، ’’بھروسہ کوئی ایسی چیز ہے جو دونوں اطراف(دہلی اور سرینگر)میں ناپیدہے ۔متواتروزرائے اعظم جواہر لال نہرو،نرسیمارائو،اٹل بہاری واجپائی،نے وعدے کئے لیکن بھروسہ کافقدان برابر قائم ہے۔83برس کے کہنہ مشق سیاستدان نے کہا کہ انہوں نے اور ان کی جماعت نے دہلی کی میٹنگ میں اس لئے حصہ لیا کیوں کہ اس کی دعوت وزیراعظم نے دی تھیاگرچہ انہیں اس سے کوئی توقعات وابستہ نہیں تھیں ۔لیکن انہیں امید تھی کہ لوگوں کے دلوں اوراذہان کو جیتنے کیلئے اقدام کئے جائیں گے لیکن کچھ نہیں کیاگیا۔ فاروق عبداللہ نے ریاست جموں کشمیر کی مکمل اور غیرمنقسم بحالی کا مطالبہ کیااوراس کے بعد ریاستی اسمبلی کیلئے انتخاب کرائے جانے چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس کی سبھی پارٹیوں نے مانگ کی ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا نیشنل کانفرنس الیکشن میں حصہ لے گی اگر جموں کشمیرکاریاستی درجہ بحال نہیں کیا گیا،انہوں نے کہا،’’الیکشن کا بگل بجنے کے بعدہم فیصلہ کریں گے،ہم بیٹھے گے اور فیصلہ کریں گے کہ ہمیں کیا کرناچاہیے‘‘۔عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ،’’ یہ اتحاد قائم ہے اور ہم اکٹھے ہیں۔۔ہم سب وہاں ہیں ،ہم نے چھوڑانہیں ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019 کو جب جموں کشمیرکاخصوصی درجہ ختم کیاگیا تواُس وقت جلدی میں اس اتحاد کو قائم کیا گیا،ہم سب یکساں ذہن کی جماعتیں ہیں جنہوں نے بحالی کیلئے اتحاد کیا،یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس حکومت میں یہ بحال ہونے والانہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری اورقانونی طوراس کیلئے جدوجہد کریں گے ۔ہمارے بعد بھی لوگ اس کیلئے جدوجہد کریں گے اور اس کی بحالی کیلئے کام کریں گے۔ عبداللہ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ گزشتہ ماہ حدبندی کمیشن جموں کشمیرآیااور کوئی بھی رکن پارلیمان جواس کے معاون ممبر ہیں،مدعو نہیں کئے گئے تاکہ وہ اس کی کارروائی کا مشاہدہ کرتے۔فاروق عبداللہ جو سرینگر حلقہ انتخاب سے پارلیمنٹ کے لئے ،منتخب ہوئے ہیں نے قومی اپوزیشن  جماعتوں پرزوردیا کہ وہ اپنے’’منصوبوں‘‘کو بھول جائیں اور جمہوریت کے ستون کومضبوطی کے ساتھ تھامیںکیوں کہ وقت تیزی کے ساتھ ختم ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا المیہ یہ ہے کہ حزب اختلاف تقسیم کاشکار ہے اور جب تک نہ وہ متحد ہوجائیں اوراپنی جماعتوں کے منصوبوں کو بھول جائیں ،ہم کبھی اپنے جمہوری ڈھانچوں کو واپس حاصل نہیں کرسکتے۔ 
 
 

جنگ کا عمل بے نتیجہ | ہندپاک مذاکرات ضروری

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھارت پاک کے درمیان مسلسل اورنتیجہ خیز مذاکرات پرزوردیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتے۔لامڑ اور دیوسرمیں دو الگ الگ پارٹی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو مذاکرات میں نیک نیتی سے شامل ہونا چاہیے۔انہوں نے دونوں ملکوں سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر اور لداخ کے لوگوں کو ختم نہ ہونے والی مصیبتوں سے مبرا زندگی گزارنے کویقینی بنائیں۔ اس بات پرزوردیتے ہوئے کہ مذاکرات کو کوئی متبادل نہیں ہے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ حالیہ اقدامات سے دونوں ملکوں کے درمیان یخ پگھلنے لگی ہے اور تنائو میں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتے اور جتنی جلدی ان دونوں کی سمجھ میں یہ بات آئے گی ،اتناہی بہتر ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان بامعنی اور نتیجہ خیزمذاکرات پرزوردیتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس سے جموں کشمیرکے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ میں یہ باربار کہہ چکاہوں کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ جینا ہے اور یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ دشمن کے طور جیئے یا دوست کے طور رہے۔دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ترقی کریں گے۔سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا ہے توانہیں اپنے ’’خول‘‘ سے باہر آنا ہوگااور آپسی رنجشوں کو بھلانا ہوگااورجموں کشمیرکی تاریخی حیثیت ،انفرادی تشخص اور سیاسی وسماجی پیچیدگیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے اس کے سیاسی وقار کوبحال کرنا ہوگا۔
 
 

پاکستان ڈرون کے ذریعے جنگجوئوں کو ہتھیارپہنچارہا ہے:دلباغ سنگھ 

لشکراورجیش پر پولیس کادبائو،ہتھیاروں کی کمی دورکرنے کی کوششیں

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//جموں کشمیرپولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے انکشاف کیا ہے کہ ڈرون کے ذریعے پاکستان جموں کشمیر میںسرگرم جنگجوئوں کو ہتھیار اور دیگر ساز و سامان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے پر عملدر آمد کے بیچ پاکستان جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں کو ہتھیار اور دیگر سپلائی پہنچانے کیلئے سرگرم عمل ہے ۔ انہوںنے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور جموں کشمیر پولیس نے عسکری تنظیم لشکر اور جیش محمد کے بالائے زمین نیٹ ورک کو تباہ کرکے ان کی نکیل کس لی ہے جس کے نتیجے میں اُنہیں اسلحہ و گولی بارود کی کمی محسوص ہو رہی ہے اور اب پاکستان اس کی بھرپائی کیلئے ڈرون کا استعمال کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ گزشتہ سال ماہ ستمبر سے کچھ لوگ جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوںکو ہتھیار اور پیسہ بھیجنے کیلئے ڈرون کا استعمال کر رہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ 23جولائی کو کنٹرول لائن کے نزدیک ڈرون کے ذریعے پھینکا گیا پانچ کلو وزنی بارودی مواد ضبط کر لیا گیا اور انٹیلی جنس رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی کہ جیش محمد تنظیم اس بارودی مواد کو جموں کے بھیر بھاڑ علاقے میں استعمال کرنے کی کوشش میں تھا ،تاکہ وہاں ہلاکتیں ہو سکیں ۔ پولیس سربراہ دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال سے جموں کے علاقوں میں ڈرون کے ذریعے پہنچائے گئے اسلحہ و دیگر سامان کو ضبط کر لیا گیا اورا س سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان ڈرون کے ذریعے اب اپنی کارروائیاں جاری رکھے  ہوئے ہیں ۔ دلباغ سنگھ نے کہا کہ ڈرون سرگرمیاں اب سیکورٹی کیلئے نیا چیلنج بن چکا ہے اور اب اس چیلنج سے بھی نمٹنے کیلئے کار آمد کوششیں کی جا رہی ہے ۔ 
 
 
 

کشمیری ہنر مندی کی وراثت کامحافظ مقبول جان

ایک برس کی محنت سے کپڑے پرسرینگر شہر کا نقشہ بنایا

عظمیٰ نیوز
 
سرینگر//پائین شہر کے ایک 50سالہ کاریگر محمد مقبول جان نے کپڑے پر سیاہی سے شہر سرینگر کا نقشہ بنایا ہے ۔اپنے اس شوق کو پورا کرنے میں اسے ایک سال لگ گیا اور مستقبل میں وہ دنیا کا نقشہ بنانے کا سوچ رہا ہے ۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے محمد مقبول جان نے بتایا کہ کشمیر کی پرانی وراثت جسمیں جھیل ڈل ،دریائے جہلم اور دیگر کچھ مقامات ،جو اب دھیرے دھیرے اپنی شان رفتہ کھو رہے ہیں ،کو اس کپڑے پر Fabricرنگ سے کشمیر کا نقشہ بنانے کا خیال آیا اور پھر ہر روز 3سے4گھنٹے اس پر کام کرتا رہا اور اس طرح یہ نقشہ ایک سال میں تیار ہوا ۔محمد مقبول جان کے اس نقشے کو دیکھنے کیلئے گذشتہ کئی دنوں سے کافی لوگ اس کے گھر آئے اور اس نقشے کی تصاویر کھینچی۔محمد مقبول پیپر ماشی کے کاری گر ہیں اور انہیں آج تک 4سٹیٹ ایوارڈ اور گولڈن ایوارڈ ملا ہے ۔اس کے علاوہ انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی ایک اعزاز سے نوازا گیا ہے ۔محمد مقبول کے بقول ’’یہ میرا شوق ہے کہ کشمیر کی پرانی وراثت کو زندہ رکھا جائے ‘‘۔
 
 

جموں و کشمیر میں 58لاکھ سے زائد افراد کی ٹیکہ کاری

46لاکھ78ہزار 40 نے پہلا اور11لاکھ29ہزار 647افراد نے دونوں ٹیکے لگوائے  

پرویز احمد 
 
سرینگر //جموں و کشمیر میں 16جنوری لیکر 24جولائی  2021تک مجموعی طور پر 58لاکھ 7ہزار 687افراد کو کورونا مخالف ویکسین لگایا گیا ہے جن میں 46لاکھ 78ہزار 40افراد کو پہلا جبکہ 11لاکھ 29ہزار 647افراد کو دوسرا ڈوزد یا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اننت ناگ ضلع میں مجموعی طور پر 3لاکھ 86ہزار 84افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا جن میں 3لاکھ 18ہزار 718کو پہلا ڈوز جبکہ 67ہزار 366کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ بارہمولہ ضلع میں4لاکھ 49ہزار 571افراد کو ٹیکہ لگائے گئے جن میں 3لاکھ 67ہزار228کا پہلا اور82ہزار 343کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ بانڈی پورہ ضلع میں 1لاکھ 59ہزار 811افرادکوٹیکہ لگائے گئے جن میں 1لاکھ 31ہزار 273افراد کو پہلا جبکہ 28ہزار 538افراد کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔  گاندربل ضلع میں مجموعی طور پر 1لاکھ 45ہزار 993کو ٹیکہ لگائے گئے جن میں 1لاکھ 15ہزار410کو پہلا جبکہ 30ہزار 583افراد کو سیکنڈ ڈوز دیا گیا ہے۔ کپوارہ ضلع میں 3لاکھ 4ہزار 679افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ لگائے گئے جن میں 2لاکھ 64ہزار 854افراد کو پہلا جبکہ 39ہزار 825افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ کاری کا دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ پلوامہ ضلع میں مجموعی طور پر 2لاکھ 61ہزار 213افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ لگائے گئے جن میں 2لاکھ 10ہزار 742افراد کو پہلا  جبکہ 50ہزار 471افراد کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ کولگام ضلع میں 2لاکھ 17ہزار 183افراد کو کورون مخالف ٹیکہ لگائے گئے جن میں 1لاکھ 79ہزار 581افراد کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ شوپیان ضلع میں 1لاکھ 27ہزار 475افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ لگائے گئے ہیں جن میں 98ہزار 367افراد کو پہلا جبکہ 29ہزار 168افراد کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ سرینگر شہر میں 5لاکھ 21ہزار 616افراد کوکورونامخالف ٹیکہ لگایا گیا ہے جن میں 4لاکھ 27ہزار 979افراد کو پہلا جبکہ 93ہزار 637افراد کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ جموں صوبے کے ڈوڈہ ضلع میں مجموعی طور پر 1لاکھ 83ہزار 626افراد کو ٹیکہ لگائے گئے جن میں 1لاکھ 50ہزار 618کو پہلا جبکہ 33008کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ جموں ضلع میں سب سے زیادہ 8لاکھ 75ہزار 387افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ لگائے گئے جن میں 6لاکھ 20ہزار 410افراد کو پہلا جبکہ 2لاکھ 54ہزار 972افراد کو دونوں ڈوز لگائے گئے ہیں۔ کشتواڑ ضلع میں 1لاکھ 18ہزار 398افرادکو کورونا مخالف ٹیکہ لگائے گئے ہیں جن میں 1لاکھ 96ہزار 852افراد کو پہلا جبکہ 21ہزار 546افراد کو دونوں ڈوز لگائے گئے ہیں۔ پونچھ ضلع میں مجموعی طور پر 2لاکھ 33ہزار 891افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ لگائے گئے ہیں جن میں 2لاکھ 4ہزار 413افراد کو پہلا جبکہ 29ہزار 478افراد کو دونوں ڈوز لگائے گئے ہیں۔ راجوری ضلع میں 3لاکھ 20ہزار 726افراد کو ٹیکہ لگائے گئے جن میں 2لاکھ 76ہزار 927کو پہلا جبکہ 43لاکھ 799افراد کو دونوں ڈوز لگائے گئے ہیں۔ رام بن میں 1لاکھ 77ہزار 43افراد کیٹیکہ لگائے گئے جن میں 1لاکھ 42ہزار 70افراد کو پہلا جبکہ 34ہزار 973افراد کو دوسرا ڈوز لگایا گیا ہے۔ ریاسی ضلع میں 1لاکھ 77ہزار 81افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ لگایا گیا ہے جن میں 1لاکھ 50ہزار 970کو پہلا جبکہ 26ہزار 111افراد کو دوسرا ڈوز لگایا گیا ہے۔ سانبہ ضلع میں 1لاکھ 95ہزار 384افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ لگائے گئے جن میں 1لاکھ 49ہزار 21کو پہلا جبکہ 45ہزار 863افراد کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ ادھمپور ضلع میں 3لاکھ 15ہزار 395افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ لگایا گیا جن میں 2لاکھ 58ہزار 947افراد کو پہلا جبکہ 56ہزار 448افراد کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ کٹھوعہ ضلع میں 3لاکھ 5ہزار197افراد کو کورنا مخالف ٹیکہ لگائے گئے جن میں 2لاکھ 47ہزار 103کو پہلا جبکہ 58ہزار 94افراد کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ 
 
 
 

لداخ میں کورونا وائرس کے سات نئے معاملے سامنے

لیہہ//لداخ میں اتوار کو کورونا وائرس کے سات نئے معاملے سامنے آئے اوراس طرح مرکزی زیرانتظام اس علاقے میں کووِڈ متاثرین کی مجموعی تعداد20296تک پہنچ گئی ہے۔ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ سا ت مریضوں کو ٹھیک ہونے کے بعد اسپتال سے چھٹی دیدی گئی اوراس طرح اس مرکزی زیرانتظام علاقہ میں صحتیاب ہوئے مریضوں کی تعداد 20021 ہوگئی ہے۔لداخ میں کل فعال معاملوں کی تعداد68تک گرگئی ہے جن میں53لداخ اور15کرگل ضلع میں ہیں۔سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ نئے معاملوں میں لیہہ لداخ میں چھ اور کرگل میں ایک سامنے آیاہے۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران خطے میں کووِڈ سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی ۔خطے میں کووِڈ سے مرنیوالوں کی مجموعی تعداد207ہے جن میں 149لداخ اور58کرگل میں ہوئیں۔اتوار کومرکزی زیرانتظام علاقے میں کل 2,625نمونوں کی کووڈجانچ کی گئی جن میں1081لداخ سے اور 1544کرگل سے تعلق رکھتے تھے اور وہ منفی تھے۔
 
 

کورونا رہنماخطوط کی خلاف ورزیاں

4494افراد سے606450روپے جرمانہ وصول

سرینگر//گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا کی دوسری لہر کاتوڑ کرنے کیلئے پولیس نے 4494افراد سے606450روپے جرمانہ وصول کیا۔اس کے علاوہ شوپیان میں کوروناگائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے پرسات گاڑیاں بھی ضبط کی گئیں۔کووِڈ - 19رہنماخطوط کی پاسداری نہ کرنے والوں کے خلاف پولیس کی مہم پوری وادی میں جاری ہے۔ایک بیان میں پولیس نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ کووِڈ- 19گائیڈ لائنز کی سختی سے پیروی کریں۔
 
 

پاکستانی زیرانتظام کشمیرکی قانون سازاسمبلی انتخابات کے دوران تشدد،2ہلاک

اسلام آباد//پاکستانی زیرانتظام کشمیرمیں ووٹروں نے اتوار کوووٹنگ میں حصہ لیکر خطے کی قانون سازاسمبلی کو منتخب کیا۔اس چنائو کے دوران ایک دوسرے پرالزامات عائد کئے گئے اور تشدد کے دوران عمران خان کی جماعت کے دوارکان مارے گئے۔پانچ بجے پولنگ مراکز کے دروازے نئے ووٹروں کیلئے بند کئے گئے تاہم جو ووٹر پولنگ مراکزمیں موجود تھے ،انہیں ووٹ ڈالنے دیاگیا۔پولنگ صبح8بجے شروع ہوئی تھی،اور5بجے شام کوختم ہوئی۔ پولنگ ختم ہونے کے بعدووٹ شماری شروع ہوئی۔بھارت نے قبل ہی پاکستان کے اُس فیصلے کو رد کیا ہے جس کے تحت گلگت بلتستان میں الیکشن کرائے گئے اورکہا کہ فوجی طاقت کے بل پر قبضے میں لئے گئے خطے کی ہیت کو تبدیل کرناغیرقانونی ہے۔اسمبلی میں53 ممبران ہیں لیکن صرف45براہ راست منتخب ہوتے ہیں جبکہ پانچ سیٹیں خواتین کیلئے مخصوص ہیں اور تین ٹیکنوکریٹس کیلئے محفوظ ہیں۔پاکستان مسلم لیگ(ن)،پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سخت تکونی مقابلہ آرائی ہونے کاامکان ہے ۔کوٹلی ضلع کے چرہوئی پولنگ مرکز پرپاکستان تحریک انصاف جماعت کے کم سے کم دوورکرپی پی پی کے ساتھ تصادم آرائی میں مارے گئے۔ دوافراد کو نامعلوم افراد نے گولی ماردی۔ایک اورواقعہ میں پولیس کے پانچ سپاہی زخمی ہوگئے جب جماعت اسلامی کے کارکنوں نے اُ ن پر جہلم وادی میںحملہ کیا۔خطے کے چیف الیکشن کمشنرجستس(ر)عبدالرشیدسلہریانے ان ہلاکتوں کی مذمت کی اور کہا کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔تشدد کے واقعات کے بعد کئی انتخابی حلقوں کے پولنگ مراکز پر ووٹنگ کو معطل کرناپڑا۔متعدد لوگ جھڑپوں میں زخمی ہوگئے اور بہت سے سیاسی کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کیا۔امن برقرار رکھنے کیلئے سیکورٹی کے معقول انتظامات کئے گئے تھے اوت فوج کو بھی تعینات کیا گیاتھا۔اس دوران پاکستان پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف پارٹی پرالزام عائد کیا ہے کہ اس کے ورکروں نے طاقت کا استعمال کرکے ووٹرو ں کو ڈارنے کی کوشش کی۔پاکستان مسلم لیگ نوار کی نائب صدرمریم نوازنے کہا کہ ان کی جماعت کے ورکرمضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ ووٹ چوروں کو بے نقاب کریں گے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ فاروق حیدرنے دعویٰ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پاکستان تحریک انصاف امیدواروں کے ساتھ سازبازکئے ہوئے ہیں ۔
 
 

بیروہ میں اُستانی کی خودکشی

ارشاداحمد
 
بڈگام//بڈگام کے علاقہ بیروہ میں ایک27 سالہ استانی نے مبینہ طور پر گھر پر خودکشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔پولیس کے اعلی حکام نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ بیروہ سے ملحقہ علاقہ یوسف آباد میں27سالہ خاتون نے مبینہ طور پر گھر میں انتہائی غلط قدم اٹھاتے ہوئے خودکشی کرتے ہوئے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ علاقہ میں ہی موجود نجی اسکول کی استانی تھی،اگرچہ اسے فوری طور پر نزدیکی طبی مرکز منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے وہاں اُسے مردہ قرار دیا،پولیس نے قانونی کارروائی مکمل کرکے لاش پسماندگان کے سپرد کردی۔ پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی۔ 
 
 

مشن یوتھ ایل جی سُپر 75 سکالرشپ کیلئے درخواستیں طلب

ایک لاکھ روپے کاوظیفہ،2اگست2021درخواست دینے کی آخری تاریخ

سری نگر//مشن یوتھ جموںوکشمیر نے ہونہار طالبات کے لئے لیفٹیننٹ گورنر سکالرشپ کے لئے درخواستیں طلب کی ہیں۔یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پوسٹ گریجویٹ کورسوں کے لئے ایک لاکھ روپے کے وظیفے فراہم کئے جائیں گے۔ سی اِی او  مشن یوتھ اور سیکرٹری قبائلی اَمور محکمہ ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے کہا کہ محکمہ خزانہ سے منظوری حاصل کرنے کے بعد مشن یوتھ سوسائٹی نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے پسماندہ لڑکیوں کے لئے سکالر شپ لیفٹیننٹ گورنر کے جاری کردہ اَعلان کے مطابق ایل جی سپر 75 سکالر شپ کے لئے رہنما خطوط اور ہونہار طالب علموں سے درخواستیں طلب کی ہیں۔ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے مزید کہا کہ 75  طالب علموں کو سرکاری تسلیم شدہ کالجوں اور یونیورسٹیو ں میں پوسٹ گریجویشن اور اَیڈوانس سٹیڈی کورسوں کو کرنے پر ایک ایک لاکھ روپے کے وظیفے دئیے جائیں گے ۔اُمید واروں کی سکریننگ مشتہر کئے گئے تاریخ تک موصول ہونے والی آن لائن درخواستوں کی بنیاد پر کی جائے گی۔واضح رہے کہ ایل جی سپر 75 سکالر شپ کا مقصد معاشرے کے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت طالبات کو اِن کی تعلیمی خواہشات پر عمل پیرا ہونے کے لئے مالی مدد فراہم کرنا ہے ۔ اہلیت کے معیار میں جموںوکشمیر یوٹی کا رہائشی 30 برس سے کم عمر ، خطہ افلاس سے نیچے / ترجیحی گھریلو زُمرے سے تعلق رکھتا ہو۔ طلباء کو پی جی کورسوں کے لئے سکالرشپ فراہم کی جائے گی جس میں مطالعہ اور تحقیق شامل ہیں۔ اس سکیم کے تحت صرف باقاعدہ وضع کورسوں کا احاطہ کیا جائے گا۔مشن یوتھ نے مزید مطلع کیا ہے کہ والدین یا روٹی کمانے والے خاندان کے کسی فرد کو کھو جانے والی طالبات کے لئے 10فیصدسکالرشپ کوٹا مختص کیا گیا ہے تاکہ اہلیت کے دیگر معیار کو پورا کیا جاسکے۔ مزید برآں خاندان کی آمدنی سے قطع نظر 40فیصد یا جسمانی طور معذور PwDs (معذور افراد) کے تحت خصوصی طور پر اہل لڑکیوں کے لئے 4فیصدسکالرشپ مخصوص کردی گئی ہیں۔درخواست گزار مشن یوتھ پورٹل http://www.jkyouthportal.inپر رجسٹریشن کرسکتے ہیں۔تعلیم اور اہلیت سے متعلق معاون دستاویزات اَپ لوڈ کرنے کے لئے آن لائن درخواست کو پُرکرنے کے لئے پورٹل پر ایک خصوصی فارم تشکیل دیا گیا ہے۔ سکالرشپ کے لئے اِندراج کی آخری تاریخ 2اگست 2021 ء ہے۔سپیشل ڈیوٹی آفیسر مشن یوتھ ، تابِش سلیم کو سکالرشپ سکیم کے لئے نوڈل آفیسر نامزد کیا گیا ہے۔
 
 
 
 
 

جسمانی طور خاص افراد نے ٹنگمرگ کی سیر کی 

مشتاق الحسن
 
ٹنگمرگ//جسمانی طور خاص افراد کے ایک گروپ نے اتوار کوٹنگمرگ کی سیر کی۔گزشتہ دو برس سے لاک ڈائون کی وجہ سے وادی کے مختلف علاقوں کے جسمانی طورخاص افراد کے دس افراد پر مشتمل گروپ نے تپتی گرمی سے راحت پانے کیلئے ٹنگمرگ کی سیر پر جانے کافیصلہ کیااور مخصوص سکوٹیو ں پر سوار ہوکرٹنگمرگ پہنچے ۔اگر چہ ہفتہ وار لاک ڈائون کی وجہ سے ٹنگمرگ کی سیر پرآنے کی پابندی تھی تاہم پولیس نے جسمانی طور خاص لوگوں کو تنگمرگ میں کسی بھی جگہ جانے کی اجازت دی جس  پر اُنہوں نے اطمینان کااظہارکیا۔جموں کشمیرہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن کے صدرطارق احمد نے نامہ نگار کو بتایا کہ  گزشتہ دو سال سے وہ لاک ڈوان کی وجہ سے گھروں میں محصور ہوکے رہ گئے تھے تاہم جوں ہی لاک ڈاون میں نرمی کی گئی تو ہم نے دوسال کے بعد گھروں سے باہر قدم رکھکر ٹنگمرگ کی سیر پر آنے کا فیصلہ کیا۔ 
جموں و کشمیرمیں چمڑے کی صنعت تقریباً ختم 
 
 

پہلی بار قربانی کے جانوروں کی کھالیں لوگوں نے ضائع کردیں

سرینگر// جموں و کشمیر میں چمڑے (لیدر)کی صنعت تقریباً ختم ہوئی ہے جبکہ پہلی بار قربانی کے جانوروں کی کھالیں فروخت کرنے کے بجائے پھینک دی گئیں جس سے اسصنعت کی تباہی کا علم ہوتا ہے ،جبکہ ماضی قریب میںہر سال اس صنعت سے وابستہ لوگ اس چمڑے کو گائوں دیہات تک خریدنے کے لئے پہنچتے تھے تاہم امسال ایسا بالکل نہیں ہوا ۔ کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر میں  امسال عید الضحیٰ کے موقعے پر پہلی بار قربانی کے جانوروں کی کھالوں کولوگوں نے فروخت کرنے کے بجائے  ضائع کیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہاں اس سال اس کار وبار سے وابستہ افراد اورکچھ دینی اداروں نے اسے مفت میں بھی نہیں لیا ، جس کے بعد لوگوں نے ان کھالوں کو پھینک دیا یا کچھ لوگوں نے احتراماً دفن بھی کیا ہے ۔مختلف علاقوں سے ملی اطلاعات کے مطابق وادی ہر عید الضحیٰ کے موقعے پر ہزاروں جانوروں کو قربان کیا جاتاتھا جبکہ قربانی کے فوراً بعد یہاں ہر سال چمڑے کے کارو بار سے وابستہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد جگہ جگہ پہنچ کر ان کھالوں کو خریدتے تھے جبکہ اکثر دینی مدارس اور باقی اداروں کی گاڑیا ںہر علاقے میں گھومتی نظر آتی تھیں جہاں لوگ عطیہ کے طور ان کھالوں کو درسگاہوں کو پیش کرتے تھے ۔تاہم مقامی لوگوں نے بتایا اب کی بار ایسا بالکل بھی نہیں ہوا ، نہ ہی کوئی کارو باری فرد اُنہیں خریدنے آیا اور نہ ہی کوئی دینی ادارہ مفت میں لینے آیا، جس کے بعد لوگوں نے ان کھالوں کو پھینک دیا یا اختراماً زمین میں دفن کردیا ۔
 
 

کنزر میںدلدوز حادثہ | ایس پی او کرنٹ لگنے سے ہلاک

ٹنگمرگ//مشتاق الحسن//کنزر پولیس کا ایک اسپیشل افسربجلی کرنٹ لگنے سے فوت ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق کرالہ ویٹھ کنزر میں اتوار شام نوبجے اُس وقت ایک ایس پی اوبجلی کی تار سے چھوجانے کی وجہ سے بیہوش ہوگیا۔اُسے فوری طور پرائمری ہیلتھ سینٹر کنزر لیجایا گیاجہاں ڈاکٹروں نے اُسے مردہ قرار دیا۔