تازہ ترین

وزیر اعظم کا ماہانہ' من کی بات پروگرام'

زیادہ سے زیادہ لوگ15اگست کو قومی ترانہ گائیں ،پانی کی ایک ایک بوند بچائیںاور ہینڈلوم مصنوعات خریدیں

تاریخ    26 جولائی 2021 (00 : 12 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودی نے زیادہ سے زیادہ لوگوں سے 15 اگست کو قومی ترانہ گانے کی اپیل کی۔اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں مسٹر مودی نے اتوار کے روز کہا کہ اس بار 15 اگست کو ملک آزادی کے 75ویں سال میں داخل ہورہا ہے ۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم آزادی کے 75سال دیکھ رہے ہیں جس کے لئے ملک نے صدیوں سے انتظار کیا۔ آپ کو یاد ہوگا آزادی کے 75 سال منانے کے لئے ‘امرت مہوتسو’ کا آغاز 12 مارچ کو باپو کے سابرمتی آشرم سے ہوا تھا۔ اس دن باپو کی ڈانڈی یاترا کو بھی زندہ کیا گیا تھا ، تب سے جموں و کشمیر سے پڈوچیری تک ، گجرات سے شمال مشرق تک ‘امرت مہوتسو’سے متعلق پروگرام پورے ملک بھر میں جاری ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے پانی کے تحفظ پر ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کا ایک ایک بوند بچایا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ بارش کے لیے ترستے تھے اور اس لیے پانی کی ایک ایک بوند بچانا ہمارے تمدن کا حصہ ہے ۔ اب ‘عوامی حصہ داری سے پانی کا تحفظ’ اصول نے وہاں کی تصویر بدل دی ہے ۔ پانی کی ایک ایک بوند کو بچانا، پانی کی کسی بھی طرح کی بربادی کو روکنا، یہ ہماری طرز زندگی کا ایک خوشگوار حصہ بن جانا چاہیے ۔ مودی نے سات اگست کو منائے جانے قومی یوم ہینڈ لوم کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ہینڈ لوم کی مصنوعات خریدنی چائیں۔ انہوں نے کہا کہ کاریگروں اور بنکروں کی حمایت کرنا ہمارے فطری مزاج ہونا چاہئے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی سے بنائے جانے والے مکان نہ صرف جلد تیار ہوتے ہیں بلکہ یہ مضبوط بھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب چھوٹے چھوٹے تعمیراتی کام میں برسوں لگ جاتے تھے لیکن آج ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہندوستان میں صورتحال بدل رہی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے منی پور میں سیب کی پیداوار پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے کچھ نیا کرنے کے جذبے سے ایسا ہو سکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگ عام طور پر ہماچل پردیش ، جموں و کشمیر اور اتراکھنڈ میں سیب کے باغات کے بارے میں جانتے ہیں ۔ اس فہرست میں منی پور کو شامل کر دیجئے تو آپ حیرت زدہ ہوجائیں گے ۔ کچھ نیا کرنے کے جذ بے سے بھرے نوجوانوں نے منی پور میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے ۔ مودی نے کیلے کے ریشہ کی پیداوار اور اس کے آٹے سے مٹھائیاں بنانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے ۔ مودی نے کہا کہ اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں بھی ایک کوشش کے بارے میں پتہ چلا ہے ۔ کووڈ کے دوران ہی لکھیم پور کھیری میں ایک انوکھا اقدام ہوا ہے ۔ وہاں خواتین کو کیلے کے تنوں سے فائبر(ریشے ) بنانے کی تربیت دینے کا کام شروع کیا گیا۔ کیلے کا ریشہ مشین کی مدد سے تنے کو کاٹ کر بنایا جاتا ہے ، جو جوٹ یا پٹ سن کی طرح ہوتا ہے ۔ اس فائبر سے ہینڈ بیگ ، چٹائیاں ، قالین سمیت دیگر بہت سی چیزیں بنتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کیلے کے آٹے سے ڈوسہ اور گلاب جامن جیسے مزیدار پکوان بھی تیار کئے جارہے ہیں۔ کرناٹک کے شمالی اور جنوبی کنڑ اضلاع کی خواتین یہ انوکھا کام انجام دے رہی ہیں۔ اس کا آغاز کورونا دور میں ہی ہوا ہے ۔ ان خواتین نے کیلے کے آٹے سے نہ صرف ڈوسہ ، گلاب جامن جیسی چیزیں بنائیں بلکہ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیں۔ جب زیادہ لوگوں کو کیلے کے آٹے کے بارے میں معلوم ہوا تو اس کی طلب میں اور ان خواتین کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔
 
 
 
 

کرگل کے بہادروں کو یاد کیا

نئی دہلی//یو این آئی// وزیر اعظم نریندر مودی نے کارگل کے بہادرجوانوں کو سلام پیش کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حب الوطنی کا جذبہ ہم سب کو جوڑتا ہے ۔مسٹر مودی نے کہا کہ جو ملک کے لئے ترنگا اٹھاتا ہے ، اس کے احترام میں جذبات سے لب ریز ہونا فطری بات ہے ۔ حب الوطنی کا یہ جذبہ ہم سب کو جوڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 26جولائی کو ‘کارگل وجئے دوس’ ہے ۔ کارگل جنگ ہندوستانی افواج کی بہادری اور تحمل کی ایسی علامت ہے ، جسے پوری دنیا نے دیکھا ہے ۔ اس بار یہ دن ‘امرت مہااتسو’ کے درمیان منایا جائے گا ، یہ اور بھی خاص ہوجاتا ہے ۔ میں چاہوں گا کہ آپ کارگل کی جوش سے بھر دینے والی کہانیاں ضرور پڑھیں اور کارگل کے بہادروں کو ہم سب سلام پیش کریں ۔