تازہ ترین

آکسیجن کی کمی،موت کا سبب،45دنوں میں500لوگ مرے ؟

جائزہ رپورٹ

تاریخ    26 جولائی 2021 (00 : 12 AM)   


اختر جمال عثمانی
یہ سچ ہے کہ کروناوبا کے دوسرے دور کا زور کچھ ٹوٹا ہےاور ملک نے راحت کی سانس لی ہے۔ اپریل اور مئی کے اخبار اٹھا کر دیکھ لیں توشائد ہی کوئی دن گذرا ہو جب آکسیجن نہ ملنے سے ہوئی اموات کا تذکرہ نہ ہو۔ آکسیجن کی حصولیابی کے لئےلوگ ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال کی طرف بھاگ رہے تھے اور سڑکوں پر غش کھا کر گر رہے تھے۔ آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال مریضوں کو داخل کرنے سے انکار کر رہے تھےاورلوگ اپنے پیاروں کی جان بچانے کے لئے آکسیجن سلنڈر کے لئے لمبی قطاروںمیں لگ رہے تھے۔ ایسے میں کچھ خود غرض لوگ وزیر اعظم کے مشورے ’ آپدا میں اوسر‘ پر عمل کرتے ہوئے کرونا وبا کے علاج کے لئے ضروری انجکشن، دوائوں اور آکسیجن سلنڈر کی قیمت کئی گنا وصول کر رہے تھےاور اسپتالوں کی تو گویا لاٹری ہی نکل آئی تھی۔ چند روز کے علاج ، جس میں اکثر مریض کی موت ہی واقع ہو جاتی تھی، ا سپتال کئی کئی لاکھ کے بل تھما دیتے تھے۔ آکسیجن کی سپلائی کو لیکر دہلی ہائی کورٹ میں چودہ دن تک سنوائی چلتی رہی تھی اور سپریم کورٹ سے آکسیجن کی سپلائی یقینی بنانے کے لئے احکامات جاری کئے جا رہے تھے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک رٹ پٹیشن پر حکم صادر کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’ ہمیں یہ کہتے ہوئے بہت تکلیف محسوس ہو رہی ہے کہ اسپتالو ں میں صرف آکسیجن کی فراہمی نہ کرنے کی وجہ سے کووڈ- 19   مریضوں کی موت ہو رہی ہے جو کہ ایک مجرمانہ فعل ہے اور ان لوگوں کے ذریعہ نسل کشی سے کم نہیں، جن کو یہ کام سونپا گیا ہے۔  
ڈیٹا میٹ ایک ادارہ ہے۔ اس کے مطابق اپریل سے سولہ مئی تک پینتالیس دنوں میں پانچ سو سولہ لوگوں کی موت ہوئی۔ جگہ جگہ سے آکسیجن کی کمی سے یا عدم فراہمی سے اموات کی اطلاع آ رہی تھیں ۔ مئی میں ایک اتوار کو انڈین ایکسپریس میں رپورٹ شایع ہوئی، اس میں ان افراد کی تفصیل دی گئی جن کی موت آکسیجن کی کمی سے واقع  ہوئی تھی۔ مہاراشٹر ، گجرات سے لیکر مدھیہ پردیش تک ہر جگہ آکسیجن کی قلت تھی لیکن اب ذرا سرکار کا رویہ دیکھیں۔ راجیہ سبھا میں کانگریس کے ایم پی کے سی وینو گوپال نے سوال پوچھا تھا کہ’ کیا یہ حقیقت ہے کہ بہت سے مریضوں نے آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سڑکوں اور اسپتالوں میں دم توڑ دیا ‘۔سرکار کا جواب ملاحظہ فرمائیں ۔ ڈاکٹر  پروین بھارتی پوار ،جو کہ مرکزی وزیر مملکت برائے صحت ہیں، نے جواب دیاکہ صحت کا معاملہ صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ۔سبھی صوبائی حکومتیں اور مرکزی زیر انتظام  علاقے مرکزی  حکومت کی مفصل گائیڈ لائین کے مطابق اموات کے اعداد و شمار فراہم کرتے ہیں اور ان اعدادو شمار کے مطابق آکسیجن کی کمی سے کسی موت کی اطلاع نہیں موصول ہوئی ہے۔ جب کہ وبا کے دوران ڈزاسٹر مینجمینٹ ایکٹ کے مطابق مرکز ی حکومت کو سارے اختیارات حاصل ہیں۔ یہ ایسا جواب ہے جسے پا کر ملک کے عوام ہکا بکا ہیں ۔ پہلے تو اموات کی تعداد پر تنازعہ رہا، حکومت نے صرف سوا چار لاکھ اموات کا اعتراف کیا جب کہ بہت سی ایجنسیوں نے اموات کی تعداد چالیس لاکھ سے بھی اوپر بتائی ہے۔ ہر طرف ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ یہ سچ ہے کہ عوام کی یاد دشت کمزور ہوتی ہے مگر اتنی بھی کمزور نہیں کہ صرف چند روز میں ایسی عدیم المثال قیامت خیزی فراموش ہو جائے۔ بہت سے اسپتالوں کے باہر’’ آکسیجن آئوٹ آف اسٹاک‘‘  کا بورڈ تک لگا دیا گیا تھا۔پورے ملک میں قیامت کا منظر تھا ۔ یاد کریں، آگرہ کی ایک تصویر جس میں رینو دیوی نام کی ایک عورت اپنے شوہر کی جان بچانے کی کو شش میں اسکو  اپنے منھ سے سانس دینے کی کوشش کر رہی تھی۔لوگ سڑکوں پر ، گاڑیوں میں آکسیجن کی تلاش میں ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال کے چکر لگاتے ہوئے کس طرح دم توڑ رہے تھے۔ لیکن حکومت کے مطابق آکسیجن کی کمی سے کوئی موت نہیں ہوئی۔ یہ ان خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے جیسا ہے جن کے اپنے آکسیجن کی کمی کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مر گئے ۔ پورے ملک میں شائد ہی کوئی ایسا شخص ہو جسکا کوئی عزیز، کوئی دو ست یا کوئی پڑوسی موت کا شکار نہ ہوا ہو۔ آکسیجن کے پلانٹ کم تھے۔ اس کے ٹرانپورٹیشن کے لئے ٹرک ہی نہیں تھے۔ اس کے علاوہ حکومت نے اپنے ملک میں ضرورت کا صحیح اندازہ نہ کر کے آکسیجن کی بڑی مقدار اکسپورٹ کر دی تھی۔آکسیجن کا زیادہ استعمال صنعتوں میں خصوصاََ اسٹیل  کی انڈسٹری میں ہوتا ہے ،میڈل آکسیجن کی اتنے بڑے پیمانے پر ضرورت اچانک آ پڑی تھی۔ اسکے ٹرانسپورٹیشن کے لئے وسائل کی کمی تھی ۔کرونا کی افتاد پڑنے پر دوسرے ملکوں سے مدد کے طور پر آکسیجن بھیجی گئی اور در آمد بھی کی گئی۔ ساری کوششوں کے باوجود بے شمار لوگ آکسیجن کی کمی سے موت کا شکار ہوئے۔ اب آتے ہیں سرکار کے جواب کی طرف کہ ’ آکسیجن کی کمی سے کسی کی موت نہیں ہوئی‘۔ یہ جواب سرکاروں کی اسی عادت کی مثال ہے جو اعداد و شمار کی بازی گری سے اندھیروں کو اُجالے میں تبدیل کرتی رہی ہے۔ موجودہ معاملہ بھی اسی قسم کا ہے۔کسی بھی ڈیتھ سر ٹیفیکیٹ میں موت کی وجہ  مرض لکھی جاتی ہے اور رپورٹ کے لئے جو فارمیٹ دیا گیا تھا اس میں بھی موت کی وجہ کے خانے میں مرض ہی لکھا گیا۔ اس فارمیٹ میں آکسیجن کی کمی سے موت کے اندراج کا ذکر نہیں ہونا تھا اس لئے مرکزی حکومت کو بھیجے گئے اعداد و شمار میں آکسیجن کی کمی سے موت کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ مرکزی حکومت کی طرف سے آکسیجن کی کمی سے ہونے والی اموات کے لئے الگ سے اعداد و شمار دینے کے لئے ہی کہا گیا تھا۔ اس طرح سے آکسیجن کی کمی سے ہونے والی بے شمار اموات جن سے نہ صرف پورا ملک بلکہ سارا عالم واقف ہے، کے بارے میں وزیر موصوفہ کا نہایت معصومانہ جواب سامنے آیا کہ آکسیجن کی کمی سے کوئی موت نہیں ہوئی۔ جواب کے بعد جو طوفان اٹھا اور اعتراض سامنے آئے تو حکومت تکنیکی بنیادوں اپنے بیان پر قائم رہنے کی کوشش میں ہے۔کیا حکومت کے اراکین آکسیجن کی عدم فراہمی سے ہونے والی موتوں سے نا واقف ہیں پھر وہ لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے منظور نظر بابا رام دیو کا ایک مضحکہ خیز بیان پہلے ہی آ چکا ہے کہ ماحول میں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں ہے یہ تو لوگوں کے پھپھڑے کمزور ہیں جو آکسیجن کھینچ نہیں پاتے۔ ایک اور حیرت انگیز مماثلت سامنے آئی صوبائی حکومتوں کے رویے میں، وہ یہ کہ بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس پارٹی، عام آدمی پارٹی اور دیگر کسی بھی پارٹی کی صوبائی حکومت نے آکسیجن کی عدم دستیابی سے ہونے والی اموات کی کوئی اطلاع نہیں دی اور صوبوں کے وزراء بھی لگاتار اس طرح کی اموات سے انکار کرتے رہے۔ دہلی کی کیجری وال حکومت نے آکسیجن کی کمی سے ہونے والی اموات پے پانچ لاکھ معاوضہ کا اعلان بھی کیا۔حیرت کی بات ہے کہ با ضابطہ طور پر آکسیجن کی کمی سے کی اموات کا اعتراف دہلی کی صوبائی حکومت نے بھی نہیں کیا۔یہ سچ ہے کہ سیاست سچائی پر حاوی ہے لیکن اس بے حسی کے دور میں منوج جھا نے راجیہ سبھا میں دئے گئے تفصیلی بیان میں کہا ’کہ ساری تباہی کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ اس بیان کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ابھی اُمید کی شعائیں موجود ہیں۔
فون نمبر۔9450191754
Email: akhtar.jamal.usmani@gmail.com
 

تازہ ترین