تازہ ترین

شاہ عبداللہ پر پھر امریکی نظرِ عنایت

ندائے حق

تاریخ    26 جولائی 2021 (00 : 12 AM)   


اسد مرزا
جارڈن کے شاہ عبداللہ جنھیں کہ گزشتہ امریکی انتظامیہ نے بالکل حاشیہ پر رکھ دیا تھا، وہ ایک مرتبہ پھر امریکہ کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر مسلم مسائل پر صدر بائیڈن کے ساتھ کام کرتے نظر آئیں گے۔ شاہ عبداللہ عرب سربراہان میں پہلیقائد ہیں جنھیں امریکی انتظامیہ نے صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے لیے واشنگٹن مدعو کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات گزشتہ ہفتے19جولائی کو عمل میںآئی۔ تاریخی طور پر امریکہ اور جارڈن کے تعلقات ہمیشہ نہایت قریبی اور دوستانہ رہے ہیں۔ ملاقات کے بعد صدر بائیڈن نے شاہ عبداللہ کو ایک مہذب اور قریبی دوست قرار دیا۔
گو کہ صدر بائیڈن کی خارجہ پالیسی کا محور چین اور روس تصور کیے جاتے ہیں، لیکن انھیں بھی یہ معلوم ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ اور عرب سیاست کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ نئی انتظامیہ نے اب تک جو اشارے دیے ہیں ان کے مطابق وہ چاہتا ہے کہ علاقائی سیاست اور عرب- اسرائیل تنازعہ پر علاقائی رہنما اپنے طور پر متحرک رہیں لیکن عملی طور پر ایسا ہوناممکن نہیں ہے۔ ناچاہتے ہوئے بھی امریکہ کو عرب مسائل پر بامعنی اقدامات لینے کے لیے ہمیشہ تیار اور بگ برادر کی طرح کام کرنا پڑے گا۔
اب تک جارڈن کو عرب ممالک کے درمیان علاقائی مسائل پر صلح کرانے والا اور خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا حمایتی مانا جاتارہا ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی دوستی سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے زیادہ بڑھائی تھی۔ لیکن اب ایک مرتبہ پھر جارڈن اپنے سابق مقام پر آنے میںکامیاب ہوتا نظر آرہاہے۔
شاہ عبداللہ کے ۲۲ سالہ دورِ اقتدار میں انھیں ایک ایسا رہنما مانا جاتا رہا ہے جسے امریکی صدور اپنا معتبر اور لائقِ بھروسہ حلیف مانتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی عرب ممالک انھیں ایک ایسا رہنما مانتے رہے ہیں جو کہ با آسانی عرب نقطہ نظر امریکی صدور کے سامنے رکھنے میں اور علاقائی سطح پر تصفیہ کرانے میں ماہر ہیں۔ گزشتہ چار سال میں امریکی بے رخی کے علاوہ شاہ عبداللہ کو بغاوت کا بھی سامنا کرنا پڑا جو کہ ان کے سوتیلے بھائی نے گزشتہ اپریل میں مبینہ سعودی حمایت پر کی تھی۔ سعودی عرب اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے لیکن اس بغاوت میں پرنس ہمزہ کے ساتھ شامل باسم عواد اللہ کو سعودی ولی عہد پرنس ایم بی ایس کی قریبی اعتمادکاروں میں مانا جاتا ہے اور ان کو نظر بند کیے جانے کے بعد اعلیٰ سعودی حکام اسے سعودی عرب لانے کے لیے عمان گئے بھی تھے۔
جارڈن - سعودی تعلقات
حالیہ عرصے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کافی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے ہیں۔ گزشتہ چار سالوں میں امریکی انتظامیہ کے سعودی ولی عہد کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی کی وجہ سے جارڈن اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں کشیدگی میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ جہاں اس کی ایک وجہ جارڈن کے داخلی امور میں سعودی دخل اندازی اور مداخلت کو مانا جاسکتا ہے، وہیں دوسری جانب بیت المقدس کے مسئلے اور الحرم الشریف کی دیکھ بھال میں کسی سعودی شرکت کی تجویز نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کافی اضافہ کیا ہے۔
تاریخی طور پر بیت المقدس یا یروشلم میں موجود اسلامی مقامات کی دیکھ بھال کی ذمہ داری جارڈن کی رہی ہے جو کہ وہ ایک وقف کے ذریعے ادا کی جاتیہے۔ لیکن حالیہ عرصے میں پرنس ایم بی ایس کی ایما پر اس کام کے لیے سعودی مالی امداد کی تجویز پیش کی جاچکی ہے۔ اپریل 2018میں دہران سعودی عرب میں منعقد ہونے والے عرب اجلاس میں شاہ سلمان نے اس وقف کو 150ملین ڈالر کا عطیہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ جہاں ایک جانب اس طرح سے سعودی عرب جارڈن اور ترکی کی بالادستی ختم کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے  وہیں عملی طور پر اس کا اثر یہ ہوگا کہ وہ مسلم دنیا کا بے تاج قائد بن سکتا ہے کیونکہ پھر مسلم دنیا کے تمام اہم ترین مقامات ان کی زیرِ نگرانی آجائیں گے۔
جارڈن اس سعودی مداخلت کی ہمیشہ مداخلت کرتا آیا ہے ساتھ ہی وہ بیت المقدس کے مسئلے پر سعودی موقف اور امریکہ کی Deal of the Centuryکے بھی سخت مخالف رہا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ بیت المقدس یا یروشلم مستقبل میں قائم ہونے والی کسی بھی فلسطینی مملکت کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔ جارڈن کی آبادی کا تقریباً 40فیصد فلسطینی عوام پر مشتمل ہے اور وہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا کوئی بھی ایسا حل نہیں چاہے گا جو اس کی آبادی کے بڑے حصے کو قبول نہ ہو۔
دوسری جانب اگر ہم غیر جانبداری سے اس مسئلے کو دیکھیں تو یہ ظاہر ہوگا کہ سعودی عرب کی یہ کوشش خود اس کے خلاف بھی جاسکتی ہے۔ اگر وہ بیت المقدس میں موجود مقامات کی نگاہ داشت کسی عالمی ادارے کے ذریعہ کرانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی الحرمین الشریفین کی دیکھ بھال میں کسی عالمی کو کے مطالبات ہوسکتے ہیں اور ان میں ترکی پیش پیش رہ سکتا ہے۔سعودی کے عالمی مسائل کے ماہر ایک وکیل ملک دہلان کے مطابق اگر الحرم الشریف کے انتظامی امور کی ذمہ داری کسی عالمی ادارے کو دے دی جاتی ہے تو پھر مکہ اور مدینہ کے انتظامی امور بھی اسی عالمی ادارے کو دینے کے مطالبات شروع ہوسکتے ہیں اور آخر میں یہ کوشش سعودی عرب کے لیے نقصان کا سودا ثابت ہوسکتی ہے۔
جارڈن اور دیگر علاقائی طاقتیں
امریکی صدر کے ساتھ اپنی ملاقات میں شاہ عبداللہ نے جو بائیڈن سے عراقی وزیر اعظیم مصطفی الکادیمی کی حمایت کرنے پر بھی زور دیا۔ کادیمی اس ہفتے امریکی صدر سے ملاقات کریں گے اور متوقع ہے کہ وہ بھی ایک جانب ان سے عراق سے مصلح امریکی فوجی واپس بلانے پر زور دیں گے وہیں وہ فوجی تربیت، خفیہ اداروں کی مدد اور دیگر مالی امداد جاری رکھنے کے لیے بھی اصرار کریں گے۔
علاقائی حفاظتی امور کے ماہرین کے مطابق اگرکوئی ملک علاقے میں ایرانی اثر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے تو وہ عراق اور اس کی موجودہ قیادت ہے۔ ایک بڑی حد تک کادیمی انتظامیہ کو بیشتر عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ جن میں مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب کے علاوہ جارڈن بھی شامل ہے۔ شام کے ضمن میں بات کرتے ہوئے شاہ عبداللہ نے صدر بائیڈن کو باور کرایاکہ  اس مسئلے پر ان کی حکمت عملی کے مطابق شام کی صورت حال کو نارمل کرنے میں امریکہ، روس، اسرائیل اور دیگر ممالک کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر بائیڈن نے اس تجویز پر کوئی بھی ردِ عمل ظاہر کرنے سے گریز کیا کیونکہ ان کے مطابق امریکہ کو روس اور صدر بشرالاسعد کے ساتھ اشتراک کرنا ہوگا جو کہ اب تک کی امریکی پالیسی کے خلاف ہے۔
جارڈن -اسرائیل تعلقات پر بھی بامعنی مذاکرات اور تبادلہ خیال ہوا اور اطلاعات کے مطابق شاہ عبداللہ نے نئے اسرائیلی وزیر اعظم بینیٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے رضا مندی ظاہر کی، جب کہ صرف آنے والا وقت ہی یہ بتاپائے گا کہ یہ اشتراک کتنا کامیاب رہتا ہے۔
دونوں قائدین کے درمیان اس کے علاوہ جو موضوع زیرِ بحث رہا وہ جارڈن- سعودی تعلقات تھے۔ شاہ عبداللہ نے بائیڈن کو یقین دہانی کرائی کہ وہ پرنس ایم بی ایس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ جارڈن کے لیے امریکی حمایت ہوسکتی ہے۔ کیونکہ فی ال وقت شاہ عبداللہ امریکی پشت پناہی کے سبب اپنے پرانے حریفوں کو صاف کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں اندازہ ہے کہ جارڈن کی کسی بھی اسرائیلی- فلسطینی پالیسی اور امریکہ-فلسطین تعلقات میں بھی ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور ساتھ ہی دوسرے علاقائی مسائل پر بھی ماضی کی طرح امریکہ دوسرے ممالک کے بجائے جارڈن کے موقف اور کردار کو زیادہ اہمیت دے گا۔
مجموعی طور پر جارڈن-امریکہ تعلقات کی بحالی کا اثر مختلف علاقائی مسائل پر مرتب ہونے کے امکانات کافی قوی ہیں۔ اس بیانیہ میں غیر خلیجی عرب ممالک کے کسی بھی مسئلے پر کیا موقف رہے گا، وہ کافی اہم کردار ادا کرے گا، کیونکہ اب ایک مرتبہ پھر غیر خلیجی عرب موقف کے عرب سیاست پر اثر انداز ہونے کے علاوہ ایک مرکزی کردار ادا کرے گا اور اس میں جارڈن کے ساتھ عراق اورشام بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ شاہ عبداللہ نے خطے میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرانے میں کسی بھی حکمت عملی میں جارڈن کے مرکزی کردار کا اشارہ بھی دیا ہے۔ اپنے ۲۲ سالہ اقتدار کے دوران شاہ عبداللہ نے امریکہ کے حمایتی کا کردار بخوبی ادا کیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ مستقبل میں کتنے کامیاب رہتے ہیں کیونکہ اس مرتبہ ان کا مقابلہ کم عمر شیخ محمد اور پرنس ایم بی ایس سے بھی ہے۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
www.asad-mirza.blogspot.com