تازہ ترین

جعلی اسلحہ لائسنس فراہمی معاملہ | CBIکی بیک وقت40مقامات پر تلاشیاں

آئے اے ایس ، کے اے ایس افسران، سابق ضلع و ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ اور20اسلحہ ڈیلر شامل

تاریخ    25 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// مرکزی تحقیقاتی ایجنسی( سی بی آئی )نے جعلی گن لائسنس سیکنڈل کے سلسلے میں جموں وکشمیر اور دہلی میں قریب40مقامات پر تلاشیاں لیں۔یہ تلاشیاں جاری تحقیقات کا ایک حصہ ہیں۔ایک بیان میں سی بی آئی نے کہا کہ جموں ، سرینگر،ادہمپور،راجوری،اننت ناگ، بارہمولہ اور دہلی میں تقریباً 40 مقامات پر چھاپے ڈالے گئے اور تلاشیاں لیں گئیں۔یہ تلاشیاں سابق سرکاری افسران یا لائسنس اجرا کرنے کے وقت تعینات اعلیٰ سینئر افسران کے دفاتر اور انکی رہائش گاہوں پر ڈالے گئے۔ان میں آئی اے ایس ، کے اے ایس افسران،سابق ضلع مجسٹریٹ، ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ کے علاوہ 20 گن ہاوسس اور ڈیلر شامل ہیں۔ تحقیقات کے سلسلے میں جموں کشمیر کے 22مقامات پر چھاپے مارے گئے جس دوران کئی اہم دستاویزات اپنی تحویل میں لی گئیں ۔بیان کے مطابق سی بی آئی نے جموں کشمیر حکومت کی در خواست پر مرکزی سرکار کی نو ٹیفکیشن کے تحت اس معاملے کے حوالے سے جعلی گن لائسنس کے دوکیس 2018 میںدرج کئے ۔اس حوالے سے ریاستی ویجی لینس آرگنائنزیشن نے بھی کیس درج کیا تھا۔الزم لگایاگیا تھا کہ 2.78لاکھ  اسلحہ لائسنس اجرا کی گئیں جو غیر مستحقین کیے حق میں دی گئیں جن میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں عمل میں لائی گئیں۔فراڈ طریقے سے یہ اسلحہ لائسنس 20اضلاع میں دی گئیں۔تحقیقات کے دوراناہم دستاویزات، گن ڈیلروں کے رول،سرکاری افسران کی ملی بھگت سابق ضلع مجسٹریوں و ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹوں کی جانب سے بھی فراڈ طریقے سے لائسنس اجرائی میں غفلت شعاری کی تصدیق ہوچکی ہے۔ہزاروں کی تعداد میں ایسے افراد کے حق میں لائسنس اجرا کی گئیں جو ان علاقوں کے باشندے بھی نہیں تھے، جہاں کی سکونت دکھائی گئی تھی۔