تازہ ترین

کٹرہ ۔ بانہال ریل پروجیکٹ پر کام جاری

سیکٹر کا کام آئندہ تین برسوں میں مکمل ہونے کی امید

تاریخ    25 جولائی 2021 (14 : 11 PM)   


محمد تسکین
بانہال//سنہ 2013 میں بانہال اور قاضی گنڈ کے درمیان ہندوستان کے سب سے بڑے گیارہ کلومیٹر لمبے پیر پنجال ریلوے ٹنل کو قوم کے نام وقف کرنے کے ساتھ ہی وادی کشمیر کو ریل سروس کے زریعے صوبہ جموں کے بانہال ریلوے سٹیشن سے جوڑ کر کشمیر ریل پروجیکٹ پر ایک سنگ میل کو عبور کیا گیا تھا ۔ ابھی کشمیر ریل پروجیکٹ کا اخری پڑاﺅ 110 کلومیٹر لمبے کٹرہ ۔ بانہال ریلوے لائین ہے اور اس سیکٹر میں کئی ڈیڈ لائینوں کے ختم ہونے کے باوجود کام شدو مد سے جاری ہے اور سب کچھ ٹھیک رہنے کی صورت میں ائندہ دو تین برسوں میں اس کے مکمل ہونے کی اُمید ہے۔ فی الحال کووڈ رہنما اصولوں کے تحت بارہمولہ۔ سرینگر اور بانہال تک پانچ اور جموں سے کٹرہ تک مخصوص ریل سروسز چل رہی ہیں اور یہاں ریل سروسز عوام کیلئے سفر کا اہم زریعہ بنی ہوئی ہے۔ جموں سے بارہمولہ تک اس ریلوے لائین کی لمبائی 345 کلومیٹر ہے اور اس پر دو درجن کے قریب اہم ٹنل اور ایک سو پچاس سے زائید چھوٹے بڑے پ±ل اور قریب تیس ریلوے سٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ ہے جن میں سے ادہمپور اور ماتا ویشنو دیوی کٹرہ تک چار اور بانہال اور بارہمولہ کے درمیان 21 ریلوے سٹیشن استعمال میں ہیں۔ریلوے زرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ادہمپور۔ سرینگر بارہمولہ ریلوے لائین یا USBRL پروجیکٹ 272 کلومیٹر لمبا ہے اور 2002 سے کشمیر ریل پروجیکٹ کو مرحلہ وار طور تیار کیا جارہا ہے اور ان 272 کلومیٹروں میں سے 161 کلومیٹر کا حصہ ریل کی آمدورفت کے قابل ہے۔ جس میں سے 118 کلومیٹر طویل قاضی گنڈ۔ بارہمولہ سیکشن کو اکتوبر 2009 میں تیار کیا گیا جبکہ قاضی گنڈ بانہال 18 کلومیٹر لمبے سیکٹر کو جون 2013 میں اور جولائی 2014 میں 25 کلو میٹر لمبے ادھم پور کٹرہ ریلوے لائین کو شروع کیا گیا تھا۔ ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کٹرہ اور بانہال کے درمیان 110 کلومیٹر لمبے ریلوے ٹریک پر کام جاری ہے اور اُسے کونکون ریلوے کنسٹریکشن اور ارکان انٹرنیشنل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ادہمپور اور بانہال کا سیکٹر جغرافیائی طور دشوار ہے اور اس سیکٹر میں کچھ پہلی چیزیں بن رہی ہیں جن میں ضلع ریاسی میں دریائے چناب پر ریلوے کا 359 میٹر اونچا پ±ل (کونکون ریلوے) ، کھڑی آڑپنچلہ کے سرن اور سمبڑھ کے درمیان قریب 13 کلومیٹر طویل ہندوستانی ریلوے کا سب سے لمبا ریلوے ٹنل (ارکان انٹرنیشنل ) زیر تعمیر ہے ، دونوں پروجیکٹ ریلوے انجینئرنگ کے شاہکار ہیں اور دونوں پروجیکٹ اپنی تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کٹرہ بانہال سیکٹر میں چالیس سے زائد چھوٹے بڑے پل تعمیر کئے جارہے ہیں جن میں سے کئی بڑے اور کئی چھوٹے پ±لوں کو مکمل کیا گیا ہے اور باقیوں پر کام جاری ہے ۔انہوں نے کہا کٹرہ اور بانہال کے درمیان ریل لائین پہاڑی سلسلے کو چیر کر تعمیر کی جارہی ہے اور یہ اب تک دشوار گزار پروجیکٹ ثابت ہوا ہے کیونکہ یہاں پہاڑوں تک پہنچنے کیلئے پہلے سڑکیں بنائیں گئیں اور پھر کام شروع کیا گیا۔ انہوں کہا کشمیر ریل پروجیکٹ کے کٹرہ۔ بانہال سیکٹر میں 111 کلومیٹر میں سے 97 کلومیٹر کا حصہ ریلوے ٹنلوں پر مشتمل ہے اور قریب 84 کلومیٹر طویل ریلوے ٹنل قریب مکمل ہیں اور دیگر زیر تعمیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ سمبڑھ ، بجمستہ، ورنال ، ہنگنی ، اندھ اور کوڑی کے علاقوں میں ریلوے ٹنلوں اور پلوں کی رسائی کیلئے تعمیر کی گئی دو سو سے زائد کلومیٹر لمبی سڑکوں سے ہزاروں لوگوں کو راحت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہنے کی صورت میں سیکٹر آئند دو تین سالوں میں مکمل کرنے کی اُمید ہے ۔