تازہ ترین

راجہ یوسف کی افسانہ نگاری

تجزیہ

تاریخ    25 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری
  راجہ یوسف کشمیر کے اسلام آباد ضلع اننت ناگ سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ ضلع میٹھے چشموں‘ صحت افزا مقام ’’پہلگام‘‘ اور دریائے جہلم کے منبع’’ ویری ناگ‘‘ کی بدولت کافی مشہور ہے۔راجہ یوسف افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ تھیٹر آرٹسٹ اور ڈراما نگار بھی ہیں۔اردو اور کشمیری میں لکھتے ہیں۔کشمیری زبان میںان کی ایک اہم ضخیم کتاب’’ویتھ‘‘ کے نام سے ۲۰۱۷؁ء میںمنظر عام پر آئی ہے‘جسے ادبی حلقوں میں کافی پزیرائی ملی۔ اس کتاب میں کشمیر کے اہم تاریخی واقعات کو تخلیقی پیرایہ میں تمثیلی روپ دیا گیاہے جوکہ ایک تو قاری کو کشمیر کی تاریخ سے متعلق جستہ جستہ واقفیت بہم پہنچاتاہے اور دوسرا تمثیلی اسلوب کی دلکشی سے بھی نواز تا ہے۔ تاریخی واقعات کو تمثیلی یا ڈرامائی روپ دینا اور تخلیقی پیکر میں ڈالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ فنکارانہ اسلوب کسی تخلیق کار کی تخلیقی صلاحیت کا جواز فراہم کرنے میں کارآمد ثابت ہوتا ہے اور راجہ یوسف صاحب اس کسوٹی پر کھرا اترتے نظر آتے ہیں کیونکہ انہوں نے کتاب میں کشمیر کی تاریخ کے اہم حصوں کوبڑی فنی مہارت سے تمثیلی روپ دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ان کے افسانے مؤقر اردو رسائل وجراید اور اخبارات میں شائع ہوکر اور سوشل سائٹس کے ادبی فورمز پر آکر قارئین کو محظوظ کرتے رہتے ہیں۔ان باتوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ راجہ یوسف افسانوی ادب کی تخلیق کا اچھا تجربہ رکھتے ہیں۔ان کی افسانہ نگاری آغاز ۱۹۸۳؁ء سے ہوا ہے کیونکہ اسی برس پہلا افسانہ ’’دیوار کے اس پار‘‘ رسالہ’’ قاشیں‘‘ میںشائع ہوا تھا۔
   راجہ یوسف کی کتاب’’ نقشِ فریادی‘‘  افسانوں کا وہ انتخاب ہے جو مختلف رسائل اور اخبارات کی زینت بنتے آئے ہیں۔افسانوں کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ یہ متنوع موضوعات پر تخلیق ہوئے ہیں‘جو کہ رومانوی‘ سیاسی‘سماجی ‘معاشی ‘معاشرتی اور عائلی موضوعات کی دلچسپ فنی عکاسی کرتے ہیں۔دراصل ادب اور سماج کے مابین ایک مشاہداتی‘ فکری اور تخلیقی رشتہ ہوتا ہے۔ ایک ادیب سماجی مشاہدہ کو احساس کی بنیاد پر فکر کا حصہ بناتا ہے اور پھر تخلیقی پیرائیہ میں شعر وفکشن کی صورت میں قاری کے سامنے لاتا ہے۔ اس میں حقائق کے ساتھ ساتھ تخیل کا تخلیقی اشتراک (Creative Collaboration) بھی شامل ہوتا ہے ۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو وہ عمل کسی واقعہ یا صورتحال کی تحریری ترسیل تک ہی محدود رہے گا۔ ادب ‘ ادیب کا اظہارعمل (Action of expression)ہوتاہے۔تاہم تخلیقی ادب کا خاصہ تخلیقی تخیل (Creative Imagination ) ہوتا ہے۔ جس طرح کتاب کے نام ’’ نقشِ فریادی‘‘کی ترکیب سے ظاہر ہے جو کہ غالبؔ کے مشہور شعرسے مستعار ہے اور یہ شعر غالبؔ کے تخلیقی تخیل کا مثالی ثبوت فراہم کرتا ہے:
نقشِ فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
   راجہ یوسف کے بیشتر افسانوں میں سماجی مشاہدہ کو تخلیقی پیرایہ میں ڈھال کر کہانیوں کاروپ دیا گیا ہے‘اور کہیںکہیں پر تجربے کے ساتھ تخیل کی آمیزش سے کہانی بُنی گئی ہے‘تاہم دونوں جگہ عمدہ فن کاری نظر آتی ہے جو کہ افسانہ نگار کی ایک اہم خوبی قرار دی جاسکتی ہے۔ 
راجہ یوسف کے بیشتر افسانوں میں مشاہدات کا تخلیقی اظہار اور اظہار عمل کا تخلیقی بیانیہ موجود ہے ۔جن میں خصوصی طور پر ’’نقشِ فریادی‘‘’’بند کھڑکی کا کرب‘‘’’ سبیل‘‘ ’’چیل ‘چنار اور چوزے‘‘ ’’دیوار کے اس پار‘‘’’کن فیکون‘‘’’روشنی کے لٹیرے’’تاجو قصائی‘‘ مکڑی‘‘ ’’کلونت کور کی واپسی‘‘وغیرہ افسانے شامل ہیں۔
افسانہ کبھی کسی سماجی یا زندگی کے کسی واقعہ یا واقعات کا فنی اظہار ہوتا ہے جو ایک طرح سے مقصدی پہلوکی غمازی کرتا ہے اور کبھی تخیل کی بنیادپر کوئی کہانی بُنی جاتی ہے جس میں فن کاری کا ہی زیادہ تر مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ راجہ یوسف کے افسانوں میں فن کے دونوں پہلو موجود ہیں۔ افسانہ''نقش فریادی''کا متن افسانویت کی عمدہ عکاسی کرتاہے کیونکہ کہانی کا کردارحسیاتی طور پر نفسیاتی اور ذہنی پیچ وخم کی گردش میں زندگی کا سفر طے کرتا نظر آرہا ہے۔اور اس کی حساسیت ہمیشہ احتجاج کی دھیمی آنچ سے سلگتی رہتی ہے۔ لیکن یہ احتجاج بزور قوت نہیں بلکہ نفسیاتی احتجاج کی صورت میں نمودار ہوتا ہے جیسا کہ ابتدا میں ہی کردار کی زبان سے ظاہر کیا گیا ہے کہ اسے اگرچہ اسکول کی طرف لئے جارہا تھا لیکن یہ سب کچھ اس کی مرضی کے خلاف ہورہا تھا۔وہ سمجھتا تھا کہ اسے اس کی ماں سے دور کیا جارہا ہے۔: ’’جب میرے ہاتھ میں کھانے کا ٹفن دیاگیا اور کندھے پر کتابوں کا بوجھ لادا گیا تو میرے دل میں جوپہلا احساس جاگا وہ احتجاج ہی تھا۔مجھے میری ماں سے دور کیا جارہا تھا۔‘‘اس طرح سے افسانے کی شروعات ہی نفسیات کے طفلانہ احتجاج سے ہوئی ہے پھر بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ یہ طفلانہ احتجاج پختہ صورت اختیار کرجاتا ہے اور کہانی کا روپ دھار کر رومان انگیز احساس میں تبدیل ہوجاتا ہے لیکن آخر پر یہی احتجاج احساس محرومی کا نقش فریادی بن کر فکری کینوس کی صورت میں ابھر کرسامنے آتاہے۔ افسانے کامتن نیم تجریدی اسلوب کی دلکش منظر کشی کررہا ہے اور فنی ٹریٹمنٹ کا خوبصور ت نقش پیش کررہا ہے۔ 
اسی طرح افسانہ’’مکڑی‘‘ کا متن بھی تجریدی اسلوب کاحامل ہے۔ اس کے بیانیہ میں فلسفیانہ  لہجہ جگہ جگہ نظر آتا ہے اور خیال فلسفہ کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ اس طرح کا انداز گہری سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے یعنی جب تخلیق کار کسی موضوع پر گہرائی کے ساتھ سوچتا ہے تو فلسفیانہ اثر در آتا ہے ۔جیسے افسانے کا ابتدائی فلسفیانہ انداز دیکھیں:
’’ احساس؟ ،  تہہ دارسوچ میںفکر کے دھاگوںسے بنا مکڑی کاجالا۔ اورمکڑی؟  دھاگوں کی اُلجھتی گرہ سلجھانے  اور سلجھی گرہ کو اُلجھانے کا ہنر۔  جو کبھی احساس کو جگانے کا کام کرتا ہے اور کبھی اسے گہری خاموشیوں کے سپرد کرکے میٹھی نیند سلادیتا ہے ۔  ہنرنچوڑ ہے۔ سوچ، فکر اور احساس کی تکمیل کا۔ہنرسے فعل لازم ہے اور جو فعل سرزد ہوجاتا ہے،  اُسی کی سرزنش ہوتی ہے یا  ستائش۔ ‘‘‘
افسانہ نگار انسانی سوچ کو مکڑی کے الجھے دھاگوں سے تشبیہی دے رہا ہے اور نتیجہ عمل کو قرار دیتا ہے جس کی تعریف ہوتی ہے یا مذمت۔ اس کے بعدکہانی پررومانی فضاچھا جاتی ہے۔ کردار محبوبہ کی خاطر اپنی جان کی پروا کئے بغیر بارود بھرے ہاتھوں سے بھی لڑپڑتا ہے اور اپاہج ہوجاتا ہے۔آخر پر کردار کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے لیکن وہ سوچ کے دھاگوں میں ہی الجھتا رہتا ہے کیونکہ جس کے لئے اس نے یہ سب کچھ کردیا تھاوہ اس کے جذبات اور وفاداری کا مذاق اڑاتی رہتی ہیں۔فنی طورپر افسانہ دلچسپ ہے البتہ تکنیکی طور پر کہانی میں اتنا الجھاؤ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ افسانہ نگار خیالات کی گہرائی میں خود بھی درمیان میں کہانی کے مرکزی تصور کوپیش کرنے میں الجھن کا شکار ہوا ہے۔جس کی وجہ سے افسانے میں احساس کی رو ہی بہتی نظر آتی ہے۔  اس کے برعکس افسانہ’’ کلونت کور کی واپسی ‘‘ میںماہرانہ بنت اور کہانی کے متاثر کن ڈرامائی انداز نے افسانے کو چار چاند لگا دے ہیں۔ منٹو کے کردار کو اس ڈھنگ سے کہانی میں پیش کرنااور کلائمکس میں نیا پن لانا کوئی آسان کام نہیں۔ اس میں افسانہ نگاربخوبی کامیاب ہوا ہے۔ 
کیونکہ دونوں افسانوں میں انتقام کی تند وتیز لہریں دوڑ رہی ہیں۔رومانوی موضوعات کے افسانوں کی بات کریں توافسانہ ’’ ناقابل تنسیخ‘‘ ایک اچھا رومانی افسانہ ہے۔ افسانے کی ابتدا میں شعری اسلوب کا حامل ایک استعاراتی خیال یعنی ''میں روئی جیسے گالوں سے بنے بادلوں کا باشندہ''دیکھ کر معروف فارسی شاعر کلیم کاشنانی کا خوبصور ت شعر یاد آیا:
گر بمستی آرزوئے ابر و باراں می کنم
سنگ می بارد ز ابر ِ پنبہ بر مینائے ما
(اگر کبھی عالم مستی میں ابر وباراں کی آرزو کرتا ہوں تو روئی کے گالوں جیسے بادلوں سے بھی میرے جام پر پتھر برسنے لگتے ہیں۔)
لیکن افسانے کی کہانی پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کہانی کے فرضی کردار کا جام پتھروں سے نہیں بلکہ پھولوں سے بھر گیا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردارایک تخلیق کار ہے اور کہانی کا تانا بانا رومانی زندگی کی اضطراری کیفیات اور دلکش لمحات سے بُنا گیا ہے‘ جو کہ دورجدید کے برقی وسیلے یعنی سوشل سائٹس کی جدید مکتوب نگاری یعنی چیٹنگ کی فنی عکاسی کرتی ہے۔ افسانے کا پہلا حصہ استعاراتی اور ابہامی نوعیت کا ہے جس میں مرد کردار ابہامی انداز سے اپنی محبوبہ کے حسن وجمال اور عشق کی سحر آمیز کیفیات کا تخلیقی اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔اس کے بعد کہانی سیدھا سوشل سائیٹ کی تعلق داری کی طرف مڑجاتی ہے۔ جس کے دوران کہانی میں ڈرامائی اندازکی کشمکش پیدا ہوتی ہے‘ جس میںعاشق اور معشوق کی جدائی کا قصہ در آتا ہے۔اور افسانے کا آخری حصہ پھر افسانوی انداز سے دونوں کو ملا دیتا ہے۔اس حصے میں افسانہ نگارکی گرفت بڑی مضبوط نظر آتی ہے۔کیونکہ نصف افسانے کے بعد افسانوی اسلوب‘ زبان و بیان اورکردار نگاری کی عمدہ تخلیقی منظرکشی سامنے آتی ہے جبکہ افسانے کا پہلا حصہ تھوڑا بہت علامتی اسلوب کے چکر میں ہی گھومتا رہتاہے۔یہاں پر خود افسانہ نگار بھی شاید سمجھ نہیں پایا ہے کہ خیالات کے 
جنگل میں وہ کہاں کہاں بھٹک گیا ہے۔۔اور چاندنی و شہزادی کی خیالی گردان تک ہی محدود رہتا ہے۔ افسانے کا یہ مکالمہ بڑا اہم ہے کیونکہ اس میں قصہ آدم و حوا اور ایک تخلیق کار کی سوچ کو بڑی عمدگی سے موضوع متن بنایا گیا ہے:
’’میں تیرے فعل کی مرتکب گردانی جاؤں گی۔ تجھے جنت سے نکال باہر کردیا جائے گا۔ پھر مجھے تیرے ساتھ تیری خواہشوں کی تکمیل میں سرگرداں رہناہوگا۔۔۔ نہیں نہیں میں کبھی تیرے قریب بھی نہیں پھٹکوں گی۔ تیرے تصور میں بھی نہیں۔۔۔ تیرے تخیل میں بھی نہیں‘‘
’’میں تخلیق کار ہوں۔ اولاد ا ٓدم ہوکر بھی وہ حرکات نہیں دہراؤں گا جن سے تم بے زار ہو۔ مجھ سے بدظن ہو۔ تجھے تراش خراش کر من موہک بنادؤں گا۔ ایک تخلیق کار کی امر پریمیکا۔ جس کی بس پوجا ہوگی۔‘‘
مجموعی طور پرافسانہ اپنی ترسیل قاری تک پہنچانے میں کامیاب ہے۔اب افسانہ’’ برا آدمی‘‘پر نظر ڈالیں توافسانہ ''برا آدمی'' کی اٹھان رومانی فضا کی حامل ہے۔ ماہی اور اس کی سہیلی کا مکالمہ دلچسپ ہے جس میں ساجد کے بارے میں گفتگو سے ظاہر ہے کہ واقعی کئی قسم کے چھچھورے لڑکے لڑکیوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر خود کی عزت بھی مٹی میں ملا دیتے ہیں۔ اس کے بعد کہانی ماہی کے کردار میں ایک سماجی ایشو خصوصا لڑکیاں جننے کے مسائل کی طرف مڑ جاتی ہے جو بالاخر طلاق تک پہنچتی ہے۔ یہاں پر افسانہ نگار نے اچھے ڈھنگ سے موضوع کو برتا ہے۔ پھر آخر پر افسانہ دوبارہ ابتدائی موضوع کی طرف پلٹتا ہے اور ایک خوشگوار تاثر چھوڑ کر ختم ہوجاتا ہے۔ افسانے کا تھیم دیکھ کر حضرت علی کا قول یاد آتا ہے ‘مفہوم یہ ہے کہ برے دوست سے بھی مکمل رشتہ منقطع نہیں کرنا چاہے کیونکہ پانی کتنا بھی گدلا کیوں نہ ہوجائے پھر بھی آگ بجھانے کے کام آتا ہے اور ماہی کی زندگی کی مصیبتوں کی آگ کو واقعی برا ساجد بجھا ہی دیتا ہے۔ فن اور کرافٹ کی بات کریں تو پلاٹ کئی جگہ منتشر ہوا ہے۔ ابتدا کو چھوڑ کر بعد کا طویل مکالمہ اتنا الجھا ہوا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کس کردار کا کونسا مکالمہ (Dialouge)ہے۔ کرافٹ میں ڈرامائی تکنیک استعمال ہوئی ہے جو کہ بہتر ہے لیکن آخر پر ساجد اور ماہی کا واقع عجلت پسندی کا شکار ہواہے۔ کیونکہ اچانک ساجد کے گھر لوٹنے سے ہی اشارہ ملتا ہے کہ اب برا آدمی اچھا ثابت ہوگا۔
عصر حاضر کا تخلیق کار اگرکسی خطے کے جنگی ماحول میں سانسیں لے رہا ہو تووہ مار دھاڑ‘ لوٹ کھسوٹ‘ اور بم و بارود جیسی جنگی فضا میں نفسیاتی طور پر داخلی کرب اور خارجی دباؤ کی زد پر رہتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اس کے لئے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ وہ کس قدر حقیقت کو فن کے قالب میں ڈھال سکے تاکہ پڑھنے والے کے سامنے اس خطے کی صورتحال بھی سامنے آئے اور خود اس کو جان کے لالے بھی نہ پڑیں۔اس قسم کے ادب میں علامتی اور استعاراتی اسلوب برتا جاتا ہے اور کبھی کبھی راست بیانیہ میں بھی حقیقت کو فن کے قالب میں ڈھالا جاتا ہے۔کشمیر چونکہ پچھلی تین دہائی سے جنگی علاقہ (Combat zone)بنا ہوا ہے ۔اس لئے کشمیر کے تخلیق کار بھی شعر وفکشن کے کسی نہ کسی اسلوب میں یہاں کی گھٹن زدہ زندگی‘ ماردھاڑ‘لوٹ کھسوٹ اور بم و بارود سے معصوم انسانوں کو ختم کرنے کے واقعات وحادثات کو کرب انگیز کیفیت کے ساتھ سامنے لاتے ہیں۔راجہ یوسف کے کئی افسانے کشمیر کے ان کرب ریز حالات کو کہانی کا روپ دیتے نظر آتے ہیںجن میں ’’چیل ‘چنار اور چوزے‘‘’’بند کھڑکی کا کرب‘‘’’روشنی کے لٹیرے‘ ‘’’سبیل‘‘ ’’تاجو قصائی‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔
افسانہ ’’ چیل ‘چنار اور چوزے‘‘ایک علامتی افسانہ ہے۔جس میں چیل‘چنار اور چوزے کہیں پر اپنی اصلی معنویت اور کہیں پر علامتی تفہیم کی مرکب معنوی عکاسی کرتے ہیں۔افسانے کا ابتدائی حصہ ایک پُرتناؤ ماحول کی علامتی عکاسی کرتا ہے۔افسانے کا مرکزی کردار’’نیلوفر‘‘ جب صبح صادق کے قریب ’’ہول ہول‘‘ کی خوفناک آواز سنتے ہی نیند سے بیدار ہوجاتی ہیں تو وہ اس قسم کی خوفناک مانوس آواز سے خوف 
زدہ ہوکر  پہلے اپنے دونوں بچوں کو نیند میں دیکھ کر اطمینان کی سانس لیتی ہیں اور پھرکھڑکی سے باہر دیکھتی ہیں ۔باہر بستی کے لوگوں کی چیخ وپکار سنائی دیتی ہے اور وہ جب شور والی جگہ پر پہنچتی ہیں تو اسے پتہ چلتا ہے کہ چیل چوزے کو اٹھا کر لے اڑی ہے۔افسانہ نگار نے اس سارے تناؤ شدہ منظر کو عمدہ علامتی اسلوب میں پیش کیا ہے:
’’تب تک چیل چوزے کو لیکر اُڑ چکی تھی اور عورتیں  چیختی چلاتی اور شور مچاتی ادھر اُدھ دوڑ رہی تھیں۔ بوڑھی عورتیں ایک طرف بین کررہی تھیں۔ جبکہ مرد غصے میںہونٹ کاٹ رہے تھے یا عورتوں کوڈانٹ رہے تھے۔عبدالرحمن کا جسم جیسے شل ہوچکا تھا۔ اس کی بیوی سینہ کوبی کررہی تھی۔ نیلوفر اور دوسری عورتیں آنسو ب بہاتے اس کو دلاسہ دے رہی تھیں۔ وہ غمگین ہوکرواپس صحن میں آگئی اور چنارکی طرف دیکھنے لگی۔ پو پھٹنے کے باوجود اس کی گھنی چھائوں میںابھی بھی اندھیرا ہی اندھیرا تھا اور سنائی دے رہی تھیںتو چوزے کی دلخراش چیخیں ۔‘‘
   اقتباس میں بظاہر چیل ‘چنار اور چوزے اور ہول ہول کی آواز مانوس لفظ ومعنی معلوم ہوتے ہیں ۔ ہول ہول وہ احتجاجی آواز ہے جو زیادہ تر کشمیر کی عورتیں اس وقت منہ سے نکالتی ہیں جب کوئی چیل اچک کر چوزے کو لے اڑتی ہے یا چنار یا کسی درخت پر گھات لگائے ہوتی ہے کہ کب چوزے پر پنجہ مار کر اسے
 لے اڑے اور اپنا شکار بنائے‘ تو عورتیں’ ہول ہول‘ کرکے اسے بھگاتی ہیں۔ افسانے میں نیلوفر کے کردار میں ایک جگہ چیل‘چنار اور چوزے اور ہول ہول کو ان کے اصلی معنی میں بھی استعمال کیا گیا:
’’تب نیلوفر بہت چھوٹی تھی جب ماں نے اس کو چوزوں کی رکھوالی پر رکھ دیا تھا ۔ ساتھ ہی چاق و چوبند  رہنے کے لئے اکثر اُسے جھڑکتی بھی رہتی تھی۔ لیکن پھر بھی چنار سے دو چیلیں اُتر آتیں۔‘‘
 راجہ یوسف کا ایک افسانہ’’کن فیکون‘‘ سائنسی فکشن کے زمرے میں آتا ہے۔افسانے میں تین موضوعات یعنی خالق‘تخلیق اور مخلوق کو موضوع گفتگو بنایا گیا ہے۔افسانہ نگارموضوعاتی سطح  پر قاری کے سامنے یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں کہ اللہ تعالی (خالق)نے یہ کائنات (تخلیق) انسان (مخلوق)کی آرام وآسائش کے لئے بنائی تھی لیکن انسان نے اس کے نیچرل ماحول کو اس طرح سے بگاڑ دیا کہ وہ اب خود اس دنیا سے تنگ آکر خالق کائنات سے اس کو ختم کرنے کی گزارش کرتا ہے۔ اس طرح سے افسانہ نگار نے ایک موضوعاتی پیش کش میں ایک سائنسی موضوع (جو سائی فی کے دائرے میں آتا ہے)کے توسط سے افسانے کو ڈرامائی انداز میں پیش کرنے کی احسن کوشش کی ہے۔ 
مجموعی طور پر راجہ یوسف کی افسانہ نگاری کااحاطہ کریں تو تین دہائی سے زیادہ عرصہ اس فن سے منسلک رہ کر وہ شعوری طور پر افسانہ لکھنے کے تخلیقی اسلوب کو برتنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔جس کی مثال ’’ 
نقشِ فریادی‘‘’’ چیل ‘چنار اور چوزے‘‘’’ مکڑی‘‘’’سبیل‘‘’’تاجو قصائی‘‘ وغیرہ افسانے ہیں۔ان کے افسانوں کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ان میں کہیں کہیں پر ڈرامائی تکنیک کا استعمال اس انداز ہوا ہے کہ یہ تکنیک پلاٹ میں کہانی کے فنی استحکام میں کارگر ثابت نظر آتی ہے۔راجہ یوسف تخلیقی طور پر کسی بھی موضوع کو افسانوی قالب میںپیش کرنے  کاماہرانہ اسلوب رکھتے ہیںاور ان کے افسانے‘ قاری کو کسی بھی الجھن میں ڈالنے کے بجائے راست انداز سے اپنا پیام پہنچانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔
���
وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر
موبائل نمبر؛7006544358
 

تازہ ترین