تازہ ترین

میرا سب کچھ لٹ گیا‎

افسانہ

تاریخ    25 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


سبزار احمد بٹ
جون کا مہینہ چل رہا تھا اورگرمیاں اپنے شباب پر تھیں اور یونیورسٹی میں کافی گہما گہمی تھی۔ شعبۂ اردو کی ٹھیک دائیں جانب جو چھوٹی سی پارک تھی نوید نہ جانے کون سی کتاب ہاتھ میں لیے بڑے آرام سے مطالعے میں مشغول تھا۔ اسی اثناء میں سفینہ کا گزر وہاں سے ہوا۔ کلاس ختم ہونے کے بعد سفینہ پھر  اسی راستے سے واپس آئی لیکن نوید اس سب سے بے خبر کسی من پسند تصنیف کا مطالعہ کر رہا تھا۔ سفینہ روز وہاں سے گزرتی تھی اور روز نوید کو مطالعے میں مشغول پاتی تھی وہ اکثر سوچتی تھی کہ یہ لڑکا اتنا گم سم اور تنہا سا کیوں رہتا ہے؟ لیکن اسے کیا خبر کہ وہ سوچوں کے کس سمندر میں ڈوبا رہتا تھا۔ شام کو نوید گھر پہنچا تو بوڑھی ماں نے پھر وہی جملہ دہرایا ۔بیٹا! میری بات مانو اور اسلم چاچا کی بیٹی سے شادی کر لو اور نوید نے وہی پرانا جواب دہرایا۔ماں چھوڑو ان باتوں کو بہت بھوک لگ چکی ہے۔کچھ کھانے کو ملے گا ۔دن گزرتے گئے ایک دن وہ ہاتھ میں کوئی کتاب لیے پارک میں حسبِ معمول بیٹھا تھا کہ اسے کچھ شور سنائی دیا وہ کتاب ہاتھ میں لیے پارک سے نکلا اور یہ دریافت کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ شور کیسا ہے؟سفینہ نے موقع غنیمت جانتے ہوئے نوید سے  ڈرتے ڈرتے کہا ۔کہاں جا رہے ہیں آپ؟ یہ یونیورسٹی کے چند بد مزاج لڑکے ہیں جو ریگنگ کے نام پر نئے طلباء کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ مت پڑیئے اس جھمیلے میں۔ چلئے بیٹھ کر کچھ باتیں کرتے ہیں ۔ نوید بنا کچھ کہیے پھر سے اپنی جگہ پر  بیٹھ گیا۔ اتنے میں سفینہ نے نوید کے ہاتھ سے کتاب تقریباً تقریباً چھینتے ہوئے کہا اوؤ۔شاعری کی کتاب ہے  آپ شاعر ہیں ؟
نوید آنکھیں جھکاتے ہوئے ۔نہیں میں کوئی شاعر نہیں ہوں۔ ہاں! کبھی کبھی اپنا من بہلانے کے لئے  شاعری کا سہارا لیتا ہوں ۔کیوں؟ ایسا کون سا دکھ ہے جسے چھپانے کے لیے آپ شاعری کا سہارا لیتے ہیں ؟۔سفینہ نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا ۔
اس وقت بہت دیر ہو چکی ہے پھر کبھی بتاؤں گا۔ ماں میرا انتظار کر رہی ہوگی۔ خدا حافظ۔ نوید ہاتھ ہلا کر یونیورسٹی کے احاطے سے نکل گیا اور گاڑی کا انتظار کرنے لگا ۔نہ جانے آج اُس کو کیا ہوگیا کہ اس کے دماغ سے سفینہ کا دھیان ہی نہیں ہٹ رہا تھا۔ رات بھر سفینہ کی سوچوں میں گم تھا کیونکہ وہ پہلی ایسی لڑکی تھی جس نے نوید کے اداس چہرے سے  بھانپ لیا تھا کہ کوئی غم اسے اندر سے کھائے جا رہا تھا ۔نوید کا بھی من کرتا تھا کہ کل میں سفینہ کو اپنی ساری کہانی بتائوں گا ۔اگلے دن نوید یونیورسٹی پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سفینہ پہلے سے انتظار میں بیٹھی تھی۔اُس کی بے قراری دیکھ کرو ہ ایک بات سمجھ گیا کہ یہ لڑکی بھی ضرور کسی الجھن کی شکار ہے جو یہ میری داستان سننے کے لیے اتنی بے تاب ہے۔ خیر نوید حسب معمول پارک میں بیٹھ گیا اور ہاتھ میں موجود کتاب کے پننے پلٹنے لگا، سفینہ نے ہاتھ سے کتاب لی اور بہت نرم لہجے میں پوچھا
نوید تم اتنے گم سم کیوں رہتے ہو؟ نوید شاید آج بھی کوئی بہانہ بناتا لیکن سفینہ نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔ تمہیں میری قسم آج کوئی بہانہ نہیں بنانا۔ اُسے جیسے سفینہ سے محبت سی ہو گئی۔ اس  نے ایک سرد آہ بھری اور کہا تو سنو۔دراصل میرے والد صاحب ایک جواری تھے جس نے جواں کھیل کر اپنی ساری جائداد گنوا دی، اور اگر جائداد کا کچھ حصہ بچا بھی تو وہ اسلم چاچا کے ہاں گروی ہے، جس کی شرط ہے کہ میں اس کی بیٹی سے شادی کر لوں۔ ماں بھی یہی چاہتی ہے،جو میں بالکل بھی نہیں کر سکتا۔سفینہ بڑے غور سے اُس کی داستان سن رہی تھی ۔نوید کی آنکھیں بھیگ گئیں اور وہ کچھ پل کے لیے خاموش ہو گیا۔ سفینہ بول پڑی کہ نوید تم اسلم چاچا کی بیٹی سے شادی کیوں نہیں کرتے؟  باپ کی تھوڑی سی بچی جائداد بھی واپس ملتی اور ماں کا سپنا بھی پورا ہوتا۔نوید نے ایک سرد آہ بھری اور آ نسو صاف کرتے ہوئے بولا
دراصل اسلم چاچا کی بیٹی اپاہج ہے اور ذہنی معذور بھی۔
او مائے گاڑ۔ سفینہ کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ ادا ہو گئے ۔پھر آپ کی ماں آپ کو اس شادی کے لیے کیوں کہہ رہی ہے؟ کیونکہ اس کی نظر میں اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس کا ایک بیٹا پہلے ہی اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا ہے اور دوسرا کراس فائرنگ میں مارا گیا ۔اس کو ڈر ہے کہ کہیں اسلم چاچا کی وجہ سے مجھے بھی نقصان نہ پہنچے  کیوں کہ وہ بہت شاطر ہے ۔نوید نے مفصل جواب دیا۔
خیر چھوڑو ان باتوں کو اپنی سناؤ، آپ بھی تو اکثر پریشان ہی رہتی ہو ۔نوید میری بھی کچھ اسی طرح کی کہانی ہے ۔سفینہ نے لمبی سانس لیتے ہوئے کہا۔میری ماں بچپن میں ہی مجھے چھوڑ کر چلی گئی اور باپ عیاشیاں کر رہا ہے ۔میں پچھلے ایک سال سے بیمار ہوں لیکن۔۔
سفینہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ ٹپ آنسوں گرنے لگے ۔دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔اتنے میں یونیورسٹی کے کسی چوکیدار  نے آواز لگائی ۔کہ چار بج چکے ہیں میں یونیورسٹی کا گیٹ بند کرنے جا رہا ہوں ۔دونوں حیرت سے ایک دوسرے کو تکتے ہوئے یونیورسٹی سے باہر نکل کر اپنے اپنے گھروں کی جانب روانہ ہوئے ۔نوید گھر پہنچا تو آج اس کے چہرے پر خوشی دیکھ کر ماں بے حد خوش ہوئی ۔نوید کو بھی لگ رہا تھا کہ سفینہ کے ساتھ باتیں کر کے اس کا من ہلکا ہوگیا۔نوید بے خیالی میں نہ جانے اپنی ڈائری پر کیا لکھ رہا تھا کہ اچانک سے ماں کی آواز سنائی دی۔بیٹا چاے ٹھنڈی ہوگی ۔کیا سوچ رہے ہو؟ کچھ ۔۔کچھ نہیں ماں۔میں میں۔۔
بیٹا ایک بات پوچھوں ۔۔ماں نے اداس لہجے میں کہا۔
ہاں ماں پوچھو کیا پوچھنا ہے؟ 
نوید تم اسلم کو جانتے ہو کہ وہ کتنا شاطر اور اثررسوخ والا آدمی ہے.  میں نے پہلے ہی جعفر اور ساجد کو کھو دیا۔ میں تمہیں نہیں کھونا چاہتی۔میرا سب کچھ لٹ گیا۔ بس تم ہی میرا آخری سہارا ہو ۔میری بات مان لو اور اسلم کی بیٹی نزہت سے شادی کر لو ۔تھوڑی سی جائیداد بھی واپس ملے گی اور تمہاری جان بھی بچ جائے گی ورنہ، نہ جانے۔۔۔۔
ماں بس پی ایچ ڈی مکمل کر لوں ۔پھر تمہیں جواب بتاؤں گا۔نوید نے ماں کا دل رکھتے ہوئے کہا۔اگلے دن اتوار تھی نوید نے یہ دن بہت بے چینی میں گزارہ۔ سفینہ سے ملنے کے لیے بے تاب تھا ۔خیر سوموار کی نو بجے سے ہی یونیورسٹی کے گیٹ پر سفینہ کا انتظار کرنے لگا ۔اتنے میں سفینہ آئی اور بجھے ہوئے قدموں سے یونیورسٹی کے احاطے میں  داخل ہوئی ۔نوید اس کی یہ حالت دیکھکر پریشان ہوگیا ۔سفینہ کیا ہوا۔ تمہارے چہرے پر یہ پسینہ کیوں؟ خیریت ہے۔ خدا کے لئے کچھ کہو میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔
سفینہ یونیورسٹی گیٹ کی دائیں جانب لگے ہوئے بینچ پر بیٹھ گئی اور تھوڑا سستانے کے بعد کہنے لگی۔نوید میں بہت بیمار ہوں ۔نوید نے آٹو والے کو بلا کر سفینہ کو آٹو میں بیٹھنے کے لیے کہا اور ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے ۔ایمرجینسی میں داخل ہونے سے پہلے ہی نوید کو روک دیا گیا ۔نوید شام چار بجے تک ایمرجنسی کے دروازے پر انتظار کرتا رہا ۔ڈاکٹر صاحب کے نکلتے ہی نوید کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔ڈاکٹر صاحب سفینہ کی کیا حالت ہے۔ڈاکٹر نے نوید کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ کہ کل تک اُس کے ٹیسٹ آجائیں گے، تب تک کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔آپ دونوں اس وقت گھر جائیں ہم آپ کو فون پر ان ٹیسٹس کے بارے میں بتائیں گے ۔نوید نے سفینہ کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے اسے آٹو میں بٹھایا اور اس کے گھر تک چھوڑ آیا۔نوید گھر پہنچا لیکن اس کی تو جیسے کمر ہی ٹوٹ چکی تھی۔ رات بھر کروٹیں بدلتا رہا ۔اگلے دن یونیورسٹی کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجنے لگے ۔نوید نے سہمے ہوئے انداز میں فون اٹھایا ۔۔ہیلو ہیلو
جی میں مہربان ہسپتال سے ڈاکٹر سریش بول رہا ہوں۔
جی ڈاکٹر صاحب! بولیے نوید نے کہا۔
ڈاکٹر سریش۔۔آپ سفینہ کے شوہر ہیں ؟
نوید ۔جی جی جی نہیں ۔خیریت ہے کیا بات ہے؟ ہاں ہاں میں ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سریش ۔۔بے حد افسوس ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں سفینہ کینسر کے آخری مرحلے سے گزر رہی ہے اور چند دنوں کی مہمان ہے ۔
او مائی گاڑ۔نوید کے ہاتھ سے فون گر گیا 
ماں یہ آواز سن کر فوراََ نوید کے پاس آئی اورکہنے لگی۔نوید کیا ہوا خیریت ہے ۔
نوید ۔۔ماں میں اسلم چاچا کی بیٹی سے شادی کرنےکے لیے تیار ہوں ۔۔آج میرا بھی سب کچھ لٹ گیا ۔ میرا سب کچھ لٹ گیا ماں ۔اتنا کہنا تھا کہ نوید دھڑام سے گر کر بیہوش ہوگیا ۔
اویل نورآباد، کشمیر