تازہ ترین

علیم صبا نویدی کا ایک اور تحقیقی کارنامہ | ’’تمل ناڈو میں اردو افسانہ نگاری‘‘

فن اور فنکار

تاریخ    24 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر مشتاق احمد وانی
اردو زبان وادب کی یہ خوش نصیبی ہے کہ اسے علیم صبا نویدی جیسامحنتی،باذوق اور بے لوث شاعر،محقق،نقاد،افسانہ نگار،تاریخ نویس،مترجم ،مفکر اور ایک نیک انسان نصیب ہوا ہے ۔ وہ تقریباً ساٹھ کتابوں کے مصنف ہیں اوروہ کتابیں ہیں جو زبان وبیان ،فکر واحساس اور حقائق کے لحاظ سے مستند اور حوالے  کا درجہ رکھتی ہیں ۔موصوف کی علمی وادبی جستجو کا یہ عالم ہے کہ وہ شعر وادب کی بیشتر اصناف میں کامیاب طبع آزامائی کرچکے ہیں ۔’’ٹمل ناڈو میں اردو ادب کی تاریخ ‘‘اُن کا ایک عظیم ادبی کارنامہ ہے جو دو جلدوں پہ مشتمل ہے اور تقریباً دوہزار صفحات  سے زائدپہ محیط ہے ۔انھوں نے جہاں ٹمل ناڈو میں اردو نثر نگاری کے بارے میں اردو والوں کو متعارف کرایا تو وہیں اس خطے میں نعت گوئی ،قدیم اردو غزل،جدید اردو غزل،پابند نظم ،آزاد نظم ،سانیٹ اورترائیلے جیسی جدید شعری اصناف کو نہ صرف تاریخی ،تہذیبی اور سماجی پس منظر کے ساتھ پیش کیا بلکہ عملی طور پر ان اصناف میں اپنے جذبات واحساسات، افکار ونظریات اور تجربات ومشاہدات بھی پیش کئے ۔
کافی زمانے سے ایک ایسا موضوع تشنۂ تحقیق تھا کہ جس پر لکھنے کی اشد ضرورت تھی اور وہ تھا ’’ٹمل ناڈو میں اردو افسانہ نگاری‘‘علیم صبا نویدی نے مذکورہ موضوع پر تحقیقی کام کرکے اپنے ادبی کارناموں میں اضافہ کردیا ہے ۔انھوں نے تحقیقی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حقائق کی صحت اور ِ نتائج اخذ کرنے پر خصوصی دھیان دیا ہے ۔تحقیق ایک ایسا صبر آزما اور بہت حد تک دِقت طلب کام ہے جو تحقیق کار کو حقائق کی کھوج او ر اُن کی ترتیب وتہذیب کے سلسلے میں تھکا دیتا ہے ۔لیکن اگر محقق میں تحقیقی اوصاف موجود ہوں تو یہی مشکل کام اُس کے لئے دلچسپ بھی بن جاتا ہے ۔
ادبی تحقیق کا معیار ہمارے یہاں عصر حاضر میں اس لئے پست ہوتا جارہا ہے کیونکہ بہت سی جامعات میں جو طلبہ وطالبات ایم اے کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کی سند حاصل کرنے کی غرض سے جامعات میں آتے ہیں وہ ادبی ذوق وشوق سے عاری ہوتے ہیں ،اصول تحقیق اور زبان وبیان کی باریکیوں کو سمجھنے کی للک اُن میں نہیں ہوتی ۔اُن کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرکے کسی یونیورسٹی ،کالج یاہائر اسکنڈری اسکول کا لیکچرر بننا ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ادبی ذوق وشوق اور مطالعہ ومشق کے فقدان کے باعث وہ سرقہ،توارُد اور ہوبہو نقل جیسی ادبی بددیانتی سے ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ملازمت حاصل کرنے کے بعد وہ پڑھتے ہیں اور نہ لکھتے ہیں ۔اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ عصر حاضر میں چند ایسے نوجوان قلمکار ابھر کر سامنے آرہے ہیں جن میں واقعی علم وادب کے تئیں گہرا لگاؤ ہے ،جن میں لکھنے پڑھنے اور افہام وتفہیم کی صلاحیتیں موجود ہیں ۔ادبی دنیا میں کثیر مطالعہ ،گہرا مشاہدہ اور ذوق وشوق کارگر ثابت ہوا ہے لہٰذا ضرورت ہے کہ زبان وادب کا طالب علم اردو کے بلند پایہ ادیبوں تصنیفات وتخلیقات کا مطالعہ کرے اور اپنے دل ودماغ سے بہتر سوچے اور سماج کو اپنے افکار ونظریات سے متاثر کرے۔اس بیان کی ایک عمدہ مثال ہمارے سامنے علیم صبا نویدی جیسی ہمہ جہت وہمہ رنگ ادبی شخصیت ہے کہ جن کے ادبی کارنامے اردو کی نئی نسل کے لئے ایک خزینے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔شہرت اور مقبولیت دو الگ الگ فطری جذبے ہیں  بہت سے لوگ مشہور ہوجاتے ہیں اور کچھ مقبول ہوجاتے ہیں ۔میرے خیال میں مشہور ہوجانا کمال نہیں ہے بلکہ مقبول ہونا کمال ہے ۔اوراگر کسی شخص کے حصے میں یہ دونوں چیزیں آجائیں تو وہ خوش نصیب ہے۔علیم صبا نویدی کے حصے میں یہ دونوں چیزیں آئی ہیں ۔انھوں نے اپنی ادبی نگارشات میں لفظ ومعنی کی حُرمت کا خیال رکھا ہے ۔تحقیق میں حوالے وحواشی اور حقائق کی بازیافت بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور پھر زبان وبیان کی سحر انگیزی قاری کو ایک الگ ہی لُطف فراہم کرتی ہے ۔زیر نظر تحقیقی مقالے میں انھوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ کوئی بھی بات اور بیان بغیر حوالے اور حواشی کے نہ ہو۔اس کے علاوہ انھوں نے ٹمل ناڈو میں اردو افسانے کی ابتداکا سہرا ایک خاتون عباسی بیگم کے سر باندھا ہے ۔ظاہر ہے موصوف کا مطالعہ وسیع ہے اورتاریخی حقائق کے تناظر میں ہی اپنا موقف بیان کیا ہے ۔علیم صبا نویدی چونکہ بنیادی طور پر ایک کہنہ مشق شاعر ہیں لیکن اُن کی زبان دانی اور شگفتہ بیانی میں فکر وفلسفے کی چاشنی ایک الگ لطف فراہم کرتی ہے ۔مثلاً ایک جگہ وہ افسانے کا رشتہ زمین اور زندگی سے ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’’زمین سے زندگی اور زندگی سے افسانہ کا گہرا تعلق رہا ہے۔کچھ لوگ جب تک بقید حیات ہوتے ہیں اور  سانس لیتے ہیں اُن کے شعور ،فکر اور کردار کا مدوجزر جیتے جی افسانے کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور کچھ لوگوں کو افسانہ مرنے کے بعد تلاش کرتا ہے ۔افسانے کا افسانہ کافی طویل اور فرصت طلب موضوع ہے‘‘
اگر ہم حیات وکائنات پر غور وفکر کریں تو معلوم ہوگا کہ سفرِ زندگی ایک افسانہ ہے اور کائنات کا وجود کب ہوا ؟کیسے ہوا اور کیوں ہوا افسانہ یا کہانی ہی کہلائے گا ۔علیم صبا نویدی نے اپنے مقالے میں افسانے کی نشاندہی داستانوی ادب کے حوالے سے کی ہے جو مختلف مراحل طے کرنے کے بعد افسانہ کی صورت اختیار کرگئی ہے۔انھوں نے انگریز ی ادب کے عظیم افسانہ نگاروں کے بھی نام گنوائے ہیں اور پریم چند کے افسانوں کو عالمی ادب میں شامل ہونے کی بھی بات کی ہے جس میں کوئی بھی مبالغہ نہیں ہے ۔ٹمل ناڈو میں افسانہ نگاری کے حوالے سے مصنف نے ایک خاص بات کاانکشاف یہ کیا ہے کہ پریم چند ہی کے دور میں عباسی بیگم نام کی ایک خاتون نے ٹمل ناڈو میں افسانہ نگاری کاآغاز کیا جو اس اعتبارسے مستحسن بات کہی جاسکتی ہے کہ صنف نازک نے اس صنف کی طرف توجہ دینے میں پہل کی اور مردحضرات اس سعادت سے محروم ہی رہے ۔مثلاً بقول علیم صبا نویدی:
’’یہاں ( ٹمل ناڈو)مختصر افسانہ نگاری کی ابتدا کب ہوئی ؟اس نے کن محرکات وعوامل کی چھاؤں میں مختصر افسانے کو اپنایا اس کی تاریخی شہادتیں بہت کم ملتی ہیں ۔لیکن اصل حقیقت سے بھی اغماض برتنا ممکن نہیں ہےکہ پریم چند ہی کے دور میں عباسی بیگم اور خود اُن کی بیٹی حجاب اسماعیل (حجاب امتیاز علی تاج)وانمباڑی(شمالیآرکاٹ)کے افسانے اُس دور کے مقتدر رسائل ’’تہذیب نسواں‘‘’’مخزن‘‘’’عصمت‘‘’’خاتون‘‘’’زمانہ‘‘’’تاج‘‘اور’’النسا‘‘میںجگہ پاچکے ہیں ۔جناب عبدالرزاق بسمل حیدر آبادی کے ’’تذکرۂ جمیل‘‘(مطبوعہ۱۹۴۰)کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ٹمل ناڈو کی پہلی افسانہ نگار’’عباسی بیگم‘‘ہی ہیں‘‘
  علیم صبا نویدی نے شروع سے اب تک کے اُن تمام افسانہ نگاروں کے نام گنوائے ہیں کہ جنہوں نے ٹمل ناڈومیں اردو افسانے کوفروغ دینے اور اس صنف کواپنے جذبات واحساسات اور حالات وواقعات کے اظہار کا وسیلہ بنایا ۔اس سلسلے میں ۱۹۳۵ء میں مولانا شاکرنا ئطی کی ادارت میں شائع ہونے والے مجلہ ’’مصحف‘‘کا خصوصی طور پرذکر کیا ہے کہ جس میں ٹمل ناڈو کے افسانہ نگاروں کے افسانے شائع ہوئے  ہیں ۔اسی طرح انھوں نے ادیب بھارتی کو بھی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک افسانہ نگار بھی تسلیم کیا ہے کہ جن کے افسانے علیم صبا نویدی کے مطالعے میں رہے ہیں ۔البتہ اس بات پہ دُکھ کا اظہار کیا ہے کہ ادیب بھارتی کی اہلیہ نے اُن کامرتب شدہ افسانوی مجموعہ خودہی تباہ وبرباد کردیا تھا۔فاضل مصنف نے ادیب بھارتی اور اُن کے ہم عصروں میں رشید مدراسی،مہرطعت آمبوری اور امیر النساکو۱۹۶۰ء سے قبل کے نمائندہ افسانہ نگاروں میں شامل کیا ہے کہ جن کا تعلق ٹمل ناڈوسے رہا ہے ۔یہ اُس دور کے وہ افسانہ نگار تھے کہ جنھوں نے اپنے افسانوں میں موضوعاتی،فنی اور اسلوبیاتی خوبیوں کا خیال رکھا اور متاثر کن افسانے لکھے۔
علیم صبا نویدی نے تاریخی ترتیب کے ساتھ ۱۹۶۰ء کے بعد جدیدیت کی تحریک سے متاثرہ افسانہ نگاروں کی فہرست بھی تیار کی ہے کہ جنھوں نے خارجی معاملات کے بجائے داخلیت پر زور دیا ۔اس ضمن میں ایس ایم حیات،حسن فیاض،فضل جاوید،فیاض حسین ،صلاح الدّین برق،سبیل عرفان ،یعقوب اسلم ،فخر اعجاز ،کاظم نائطی اورظہیر آفاق کے اسمائے گرامی شامل ہیں ۔
ٹمل ناڈو میں جن جدید افسانہ نگاروں نے اردو افسانے سے اپنا ذہنی وقلبی رشتہ بنائے رکھا ہے اُن میں خواتین کی تعداد بہ نسبت مردوں کے زیادہ ہے ۔جو خوش آئند بات ہے ۔ان افسانہ نگاروں کے بارے میں علیم صبا نویدی نے اُن کے افسانوں کا ہر زاویے سے جائزہ لینے کے بعد واضح الفاظ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اُن میں ہوش مندی اورجہاں بینی وخود بینی کے ساتھ ساتھ لطیف علائم کے سہارے قدیم اسالیب کی پاس داری بھی نظر آتی ہے ۔اس لئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس قبیل کے افسانہ نگار افسانوی ادب کو ایک نیا موڑ دے رہے ہیں ۔ اس سلسلے میںجہاں تک خواتین افسانہ نگاروں کا تعلق ہے اُن میں منور رشید،عرفانہ تزئین شبنم،فہمیدہ فارحہ تبسم،نگار سلطانہ جلیلی،نزہت نازنین،ساجدہ زریں اور قمر جلیلی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔یہ وہ خواتین افسانہ نگار ہیں جن کے افسانے ’’پاکیزہ آنچل‘‘مشرقی آنچل’’مشرقی دُلہن ‘‘ہلال‘‘بتول‘‘ا ور’’ نُور‘‘جیسے ادبی رسائل کی زینت بنے ہیں ۔ان خواتین نے موضوعاتی اعتبار سے اپنے سماج کی عورت ،اُس کی نفسیات اور بہت سی بھونڈی رسموں ،رواجوں ، غلط عقائد اور المناک مسائل کو اپنے افسانوں میں جگہ دی ہے۔
بہرحال علیم صبا نویدی کی تحقیق کے مطابق ٹمل ناڈو میں اردو افسانہ نگاری کی روایت کسی حد تک روشن رہی ہے۔ انھوں نے ربط وتسلسل کے ساتھ جن حقائق کی روشنی میں اپنے علاقے میں افسانہ نگاروں کی خدمات کا ذکر کیا ہے اُس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوسری ریاستوں کی طرح ٹمل ناڈومیں بھی اُردو افسانے کا مستقبل تابناک ہے ۔فن کیا ہوتا ہے اور فن کار کی کیا ذمہ داری ہے اس کے بارے میں بھی انھوں نے ایک جگہ بہت پتے کی بات لکھی ہے وہ لکھتے ہیں:
’’فن کارپہلے فن کار ہوتا ہے ،فرد وسماج کی اصلاح ،تزکیہ نفس،طہارت باطن اور تہذیب کا فروغ اُس کا کام  نہیں بلکہ وہ احساس کے سہارے مقدم سمجھتا ہے ۔یہ کام پیشوان مذہب کا ہے کہ وہ گناہ وثواب کی حدیں متعین کرتے ہوئے معاشرے کو تخریبی عناصر سے پاک اور محفوظ رکھیں ۔یہ ضروری نہیں کہ ٹمل ناڈوکے افسانہ نگاروں  کے افسانے بہت اعلیٰ ترین ثابت ہوں بلکہ ہمارے افسانہ نگاروں کے چند ایک افسانے بھی کوئی اچھا تاثرچھوڑیں تو یہی ٹمل ناڈوکے افسانوی ادب کی کامیابی کی ضمانت ہے‘‘
یہ صحیح ہے کہ فن کار اور بالخصوص ادیب وشاعر کو مبلغ نہیں ہونا چاہئے یہ کام مذہبی رہنماؤں کا ہے لیکن ادیب کی ادبی ذمہ داریوں میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنے فن پارے سے عوام الناّس کے دلوں میں بصیرتوں کے چراغ جلائے اور مخرب اخلاق باتوںسے پرہیز وگریز کرنے کی حتی الامکان کوشش کرے ۔مجھے یہ کہنے میں کوئی بھی پس وپیش نہیں کہ علیم صبا نویدی نے اپنی ادبی کائنات میں اس بنیادی ذمہ داری کو بحسن وخوبی انجام دیا ہے ۔اُن کاتحقیقی کارنامہ’’ٹمل ناڈو میں اردو افسانہ نگاری‘‘ادب کے طالب علموں ،محققین وناقدین کے لئے معلوماتی اور مفید ثابت ہوگا ۔اس کا مجھے پورا یقین ہے ،ان شااللہ۔
7889952532
صدر شعبۂ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں وکشمیر
 
 

تازہ ترین