تازہ ترین

جس نے غنچوں کو کھلایا اور گل تر کردیا

(بیاد: پروفیسر مجید مضمر)

تاریخ    24 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر فلک فیروز
 
جن کی کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگل سکتے ہیں 
ایک قوم کی تعمیر میں ایسا ہی مقام رکھتا ہے جیسا کہ پیغمبر اپنے مخصوص قوموں کی تعمیر اور تصحیح کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں ایک پائدار اور ترقی یافتہ سماج کا منظر نامہ تب تک قائم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ اس میں اساتذہ کی حیثیت کا مقام مقر ر نہ ہو ۔ استاد ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جو نہ صرف اپنے طلبا ء بلکہ پوری عوام کے دلوں پر اپنے خیالات سے راج کرتے ہیں جن کی روحانی قوت طلبا کی روحانی قوتوں اور صلاحیتوں کو نکھارنے کا کام کرتے ہیں ۔ انہی شخصیتوں میں پروفیسر مجید مضمر ایک ایسے شخص گزرے ہیں جن کی قلندرانہ صفت نے وادی کشمیر کو ہزاروں روحانی سطح پر ایسے افراد تیار کر کے دیے جن کا فیض عام مختلف تدریسی اداروں میں رواں دواں ہے ۔ راقم کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ دوران ایم اے اردو کورس میں میں بھی ایک عام طالب علم تھا پروفیسر مجید مضمر کی کلا س کا ،لیکن دوران تحقیقی کورس یہ شرف خاص حاصل ہوا کہ مجھے ان کی نگرانی میں کام کرنے کا کل وقتی موقع ملا جس کی وجہ سے میری ذات کو بخوبی فیض خاص حاصل ہوا کہ ان کی صحبت میں رہ کر علم و حکمت کی ،فکر و فن کی اور اسی طرح مختلف نوعیت کے موضوعات سیکھنے کو ملے ۔ ان تمام تر تجربات کو صرف اس ایک شعر میں بیان کر سکتا ہوں : 
فکر و فن تہذیب و حکمت بھی شعور و آگہی
گمشدان راہ کو گویا کہ رہبر کر دیا 
سال ۲۰۱۷ء میں پبلک سروس کمیشن کی جانب سے راقم کو انٹر ویو میں بیٹھنے کا موقع ملا جس میں الحمداللہ میری سلکشن محکمہ اعلی تعلیم کے لیے ہوئی ۔ دوران انٹر ویو ماہرین نے جب میری ایک کتاب کا انتساب ’’ پروفیسر مجید مضمر کے نام ‘‘ دیکھا تو انہوں نے اس کی وجہ پوچھی ۔ میں نے اپنے جواب میں ان تمام واقعات کا ذکر کیا جن سے میں موصوف کی وجہ سے مستفید ہوا ۔اور یوں بھی کہہ دیا کہ میں اپنے استاد محترم کی راہ پر چل کر ان کا نام ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں اور ان کے اس تدریسی اسلوب کو اپنانے کی کوشش کرتا رہوں گا جس اسلوب نے مجھ جیسے ایک پتھر کو پگلا دیا ۔ کیوں کہ استاد ہی ایک ایسی شخصیت ہے جن کی تدریس سے پتھر بھی پگل سکتے ہیں اور یہ ہنر پروفیسر مجید مضمر صاحب کو خوب آتا تھا ،جن کی باتوں سے پھول جڑتے تھے ،جن کے ادبی تجزیوں سے نئے ہزار موضوعات نکل آتے تھے ، جن کی تنقید سے فن پارہ سھنبل جاتا تھا ،جن کی تدریس سے دل کا ہر گوشہ گویا آباد ہوجاتا تھا ۔ جس کے بارے میں یہ کہنا ممکن رہے گا : 
دے جزا اللہ تو اس باغبان علم کو 
جس نے غنچوں کو کھلا یا اور گل تر کردیا 
مجید مضمرؔ نہ صرف تحقیق و تنقید کے گلستان کے گل سرسبد تھے بلکہ تخلیقی میدان کے مرد میدان بھی ثابت ہوئے ہیں ۔ اپنے بہت سارے افسانے بھی لکھ چھوڑے ہیں اور نظمیں بھی تخلیق کی ہیں ۔ ’’ماں ‘‘ عنوان کے نام سے ایک نظم موسوف نے شعبۂ اردو کشمیر یونیورسٹی کی گولڈن جبلی تقریب کے مشاعرہ میں پڑھی۔ جو نہایت ہی فنکارانہ اور فکری بصیرت کی عکاس تھی ۔ مضمرؔ نے اپنا پی ۔ ایچ۔ڈی مقالہ’’اردو کا علامتی افسانہ‘‘ کے عنوان سے لکھا اور بعد میں کتابی صورت میں شائع کیا۔ واجح رہے کہ مقالہ کافی سراہا گیا۔ مضمرؔ کے مطابق وایوا (Viva Voce)اردو دنیا کی مشہور ہستی پروفیسر گوپی چند نارنگ نے دہلی میں لیا۔ ان کی دوسری کتاب ’’رنگ باتیں کریں ‘‘ جس میں مختلف قسم کے تنقیدی مجامین شامل ہیں اس کے علاوہ ان کی ایک اور کتاب ’’کشمیر ڈراما اور فکشن‘‘ ۱۹۹۹ء؁ میں منظر عام پر آئی۔ علاوہ ازیں ان کے مکتلف مضامین ملک اور ملک سے باہر نیز ریاستی سطح کے مکتلف رسائل وہ جرائد میں شائع ہو چکے ہیں ۔ جن میں شعور، شیرازہ، تعمیر، بازیافت، ترسیل قابل ذکر ہیں ۔ مضمون رشید امجد کا فن، جوگندپال کی افسانہ نگاری، انور سجاد کا فن انتظار حسین: گمشدہ بازیافت کی تلاش، حکیم منظور کی شاعری، فیض ، سریندر پرکاش کی افسانہ نگاری اقبال مجید کی فن کاری، مگربی ادب میں علامت نگاری، مجتبیٰ حسین کا فن، ساقی نامہ، اقبال مجید کی افسانہ نگاری وغیرہ مختلف رسائل میں شائع ہو چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ کتابوں کے تبصرے بھی حوالہ خامہ کئے جو شائع بھی ہو چکے ہیں۔ 
پروفیسر مجید مضمر سالانہ تحقیقی و تنقیدی مجلہ’’بازیافت‘‘ شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی کے مدیر اعلیٰ نیز مجلس ادارت کے ممبر بھی رہے ہیں ۔ فاصلاتی نظام تعلیم کشمیر یونیورسٹی کے سالانہ اردو رسالہ ’’ترسیل‘‘ کے اداراتی بورڈ کے ممبر بھی موصوف تھے اور یہاں ایم ۔ اے اردو کے نصابی بورڈ کے بھی فعل رکن کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ کشمیر یونیورسٹی کے شعبۂ بہبود طلباء کی جانب سے نکلنے ولے سالانہ رسال میگزین ’’گلالہ‘‘ کے مدیر بھی رہے اور ایڈیٹوریل بورڈ کے عفال ممبر کافی دیر تک رہے ۔ کالج سطح پر شعبۂ اردو کے نصابی بورڈ کے چرمین کی حیثیت سے تادم مرگ کام کرتے رہے نیز کالج سطح کی نصابی کتاب ’’ روح ادب‘‘ سال اوّل ، دوم ، سوم کے ترتیب کار بھی تھے۔ بورڑ آف پوسٹ گریجویٹ اسٹڈیز(BOPS) شعبۂ اردو کے فعل ممبر اور چرمین بھی تادم مرگ رہے۔ 
پروفیسر مجید مضمرؔ وادی کے اعلیٰ دانشوروں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ماہر تعلیم رہے اور قابل منتظم بھی اس کے علاوہ سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی کمیٹیوں کے اعزازی رکن بھی رہے ۔ علمی بصیرت کا عالم یہ تھا کہ ریڈیو کشمیر سرینگر اور دوردرشن سرینگر کے لیے مختلف اسکرپٹ اور ٹاک لکھتے رہے ۔ ترجمہ نگاری میں خاص دسترس رکھتے تھے۔ علم کے معاملے میں ہمیشہ ایمانداری سے کام لیتے رہے کسی بھی سطح پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہ ہوتے تھے ۔ بلکہ ہر دم نئی آن کے ساتھ مطالعے میں مشغول رہتے تھے ۔ شعر فہمی میں کمال کا ذوق رکھتے تھے ۔ شعر پڑھاتے اور سمجھاتے وقت مختلف توجہ کی طرف طلبا کا دھیان مائل کرتے۔ اردو اور کشمیری ادب کے ساتھ ہی طلبا اور ریسرچ اسکالرو ں کو بھی انگریزی ادب کے مطالعے کی تاکید کرتے تھے ۔ تحقیق و تنقید می دل گردہ سے کام لیتے تھے ۔ اکثر بیشتر اسکالرو ں کے داخلی وقت ان سے ان کے صبر کا نہایت ہی وقیع انداز میں امتحان لیتے تھے ۔ تاکہ صحیح اسکالر کوپیدا کر سکے۔ تحقیقی موضوعات برائے ایم ۔ فل ، پی ۔ ایچ۔ ڈی کے حوالے سے کافی سنجیدہ اور فکر مند نظر آتے آتے تھے ۔
پروفیسر مجید مضمر کو ہم سے جدا ہوئے ۸ سال ہوگئے لیکن آج بھی ان کی یادیں ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں موجود ہیں ۔ اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ بہترین استاد کبھی بھی نہیں مر سکتے کیوں کہ انہوں نے اپنے پیچھے خود کو زندہ رکھنے کے لیے جو علم کی شمعیں روشن کی ہوتی ہیں اور آگہی کے جو مینار منور کیے ہوتے ہیں وہ گویا ان کی رہبری کو آگے بڑھاتے ہوئے  قوم کی مستقبل کو حیات بخش بنادیتے ہیں ۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے ۔ میرے لیے گویا ان کی شخصیت یوں رہی : 
خاکہ تصویر تھا میں خالی از رنگ حیات
یوں سجایا آپ نے مجھ کو قیصر کر دیا     
قیصر حیات  
مضمون نگارمحکمہ اعلی تعلیم میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر کام کر رہے ہیں  ۔                                                                 falakfayrooz@gmail.com
 

تازہ ترین