تازہ ترین

سود کی ممانیت اور تباہ کاریاں

فکرِ و فہم

تاریخ    24 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


غلام حسن ماکنو۔نورباغ بارہمولہ
ابن ماجہ اور اصبحانی کی ایک روایت جو امامہ غزالی نے اپنی شہر آفاق کتاب مکاشفتہ القلوب میں بھی نقل کی ہے کے مطابق حضور ﷺ کے ایک فرمان میں یہ وضاحت فرمائی گئی کہ معراج کی رات جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میں نے اوپر دیکھا تو مجھے گرج بجلیاں اور شدید اور تند اندھیاں نظر آئیں ۔ پھر میں ایسے لوگوں کے پاس پہنچا جن کے پیٹ مکانوں کی طرح تھے اور باہر سے جھانک کر ان کے پیٹوں میں سے سانپ نظر آرہے تھے۔ جبرئیل ؑ سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں جبر ئیل ؑ نے فرمایا یہ سود خور ہیں ابو سعید خدری ؓ کی ایک اور روایت جو اصبحانی سے نقل کی گئی ہے میں کہا گیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آسمانی دنیا میں دیکھا کہ وہاں پر ایسے آدمی ہیں جن کے پائوں بڑے بڑے مکانوں کی طرح ہیں اور جھُکے ہوئے تھے ال فرعون کی گذرگاہ میں پڑے ہوئے تھے اور ہر صبح و شام جہنم کے کنارے پر کھڑے ہوکر کہتے تھے کہ ائے ہمارے پروردگار قیامت کبھی قائم نہ کرنا ۔ جبرئیل ؑ سے دریافت کیا گیا کہ یہ کون لوگ ہیں ۔حضرت جبرئیل ؑ نے کہا کہ آپ کی امت کے سود خور ہیں ۔ یہ اس طرح کھڑے ہوتے تھے جیسے شیطان نے چھوکر باولا بنا دیا ہو۔ اصبحانی سے مروی ہے کہ جن فرعونیوں کو صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے وہ سود خوروں کو روند کر گذرتے ہیں ۔
قرآن میں رب العزت کا فرمان ہے:
ــ جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ نہیں کھڑے ہونگے مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ جیسے پاگل بنادیا ہو شیطان نے چھُوکر ۔ (البقرہ 275)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد ہوا ـ’’سود کھانے والاسود کھلانے والا ۔ سودی لین دین کا گواہ بننے والا سود کا لکھنے والا جبکہ وہ سود کے مطلق باخبر ہو سب حضور ﷺ کی زبان مبارک سے ملعون قرار پائے ہیں یعنی ان پر اللہ کی لعنت کی گئی ہے۔
بخاری اور ابو داود کی ایک روایت کے مطابق حضور ﷺ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے۔ جسم پر گودنے والے اور گدوانے والے پر لعنت فرمائی ہے ۔ اور کتے کی قیمت وصول کرنے، بدکاری کی کمائی سے منع فرمایا ہے اور تصویریں بنانے والوں پر (جو مصور ہوتے ہیں اور ہاتھ سے تصویریں بناتے ہیں ) لعنت فرمائی ہے۔
بیہقی کی روایت میں سود کے ستر گناہ گنوائے گئے ہیں اور سب سے کم درجہ کا گناہ اپنی والدہ سے بدکاری کرنے کے مترادف ہے۔
عبداللہ بن احمد نے زواتد مسند میں نقل کیا ہے کہ ارشاد پاک ہے کہ اس زات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میری امت کے کچھ لوگ ضرور شر، تکبیر اور لہو لہب میں رات بسر کریں گے۔ سود کھانے، حرام کو حلال کرنے، شراب پینے، گانے والی لونڈیاں رکھنے اور ریشم پہننے کی وجہ سے صبح کو سور اور بندر بن جائیں گے۔
مندرجہ بالا اقتباس کو مدنظر رکھ کر کیا ہم اس بات کی سعی نہیں کرسکتے کہ ہم سے جو کچھ بھی بن پائے ہم سود کی لعنت سے اجتناب کریں اور اپنے معاشرے کو سود کے لین دین سے پاک و صاف رکھنے اور اسکی آگہی ہر ایک متنفس تک پہنچایں تاکہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے اور روز محشر کی رسوائی سے ہم نجات پالیں ۔
 

تازہ ترین