تازہ ترین

خانہ بدوش لوگوں کی بدحالی | وجوہات اور تدارک

فکروادراک

تاریخ    24 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


ملک منظور
خانہ بدوش جو حرف عام میں بکروالوں کے نام سے جانے جاتے ہیں  جموں وکشمیر کے پشتنی باشندے ہیں اور تقریباً ہر ضلعے میں پائے جاتے ہیں ۔پہاڑوں ،ڈھوکوں ،مرگوں ،دروں اور چراگاہوں سے جونہی برف پگھلتی ہے تو یہ لوگ جموں کے مختلف اضلاع خاص کر راجوری ،ریاسی ،پونچھ اور ادھمپور  سے  مال مویشی سمیت وادی کشمیر کی طرف رخ کرتے ہیں ۔بیشتر لوگ دشوار ترین  پہاڑی راستوں سے گزر کر وادی کشمیر کی مرگوں اور ڈھوکوں میں وارد ہوتے ہیں ۔ان کا یہ سفر کوئی تفریح نہیں بلکہ مجبوری ہوتی ہے ۔یہ لوگ غربت کے شکار تو ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی بیکار بھی ۔
ان کی بدحالی اور کسمپرسی ہماری سوچ سے زیادہ ہے ۔بھیڑ، بکریاں ، گھوڑے ،بھینس وغیرہ رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ ان چوپایوں کے لئے غذا کی فراہمی ہمیشہ ایک چلینج بنا رہتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انہیں سال بھر جگہ جگہ گھومنا پڑتا ہے ۔مال مویشی کو ڈھوکوں اور بہکوں میں چرانا ان کا پیشہ بھی ہے اور درد سر بھی ۔جب ہم ان کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ آج بھی قدیم انسان کے طرز پر زندگی گزارتے ہیں اور جدیدیت کے تقاضوں سے بہت دور ہیں ۔مفلسی کے پنجوں میں پھنسے یہ لوگ فاقہ کشی کے شکار ہوتے ہیں ۔پہاڑی علاقوں میں غزائی اجناس کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے گھروں میں خوردنی کی شدید قلت ہوتی ہے ۔بیشتر خانہ بدوش لوگ بہت زیادہ غریب ہیں ۔ان کے خیمے پھٹے ہوئے  ہیں اور جگہ کی لحاظ سے بہت تنگ ۔اس میں صرف بوڑھے اور بچے رہ سکتے ہیں باقی لوگوں کو کھلے آسمان تلے رات گزارنی پڑتی ہے ۔ ان کی یہ پناہ گاہ محض ایک تارپولین ہوتی ہے ۔اس تارپولین کے بھی کئی پیوند لگے ہوتے ہیں ۔جب تیز ہوا آتی ہے تو اس تمبو کے پرکھچے اڑاتی ہے ۔یوں یہ لوگ بےبسی کے عالم میں ٹھٹرتی سردی میں یا تو بیمار پڑتے ہیں یا موت کے شکار ہوتے ہیں۔ ان خیموں میں اتنے پیوند لگے ہوتے ہیں کہ اصل‌ متن نظر ہی نہیں آتا ۔بارش روکنے کا تو سوال ہی نہیں ہے ۔بس یوں سمجھئیے کہ یہ خیمے سکونت کے نشان ہیں اور کچھ نہیں ۔سرکار کی جانب سے اگر ان لوگوں کو مضبوط خیمے مل جاتے تو بہتر ہوتا ۔اس کے علاوہ ڈھوکوں اور مرگوں کے قریب راشن کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھانے کی بھی سخت ضرورت ہے ۔
  موسم کی تبدیلی ان کے لئے ہمیشہ ایک آفت ہوتی ہے ۔آفت اس لئے کیونکہ یہ لوگ پہاڑوں کے ٹیلوں یا جنگلوں کے دامن میں سکونت پزیر ہوتے ہیں اور بھیڑ بکریاں کھلے آسمان کے نیچے ہوتے ہیں سو جونہی بارش یا برف باری ہوتی ہے تو یہ بھیڑ بکریاں یا تو بیمار ہوجاتے ہیں یا سردی کی شدت سے مرجاتے ہیں ۔بھیڑ بکریوں کا یوں مرنا ان کی زندگی کا سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے ۔اس نقصان کی تلافی کرنے میں ان کی پوری عمر گزر جاتی ہے ۔اور اس نقصان سے بچنے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہے ۔یہ لوگ قدرت کے بھروسے پر ہی گھر چھوڑ کر نکلتے ہیں اور قدرت کے رحم کرم پر ہی جیتے ہیں ۔یوں قدرت کے ہاتھوں یہ لوگ آباد بھی ہوتے ہیں اور برباد بھی ۔ اس ضمن میں خاطرخواہ انتظامات کی ضرورت ہے تاکہ ان غریب خانہ بدوشوں کی بدحالی کا تدارک ہوسکے ۔
ان میں سینکڑوں بھیڑ بکریاں رکھنے والے بہت کم خاندان ہیں ۔اکثر خاندان چند ہی گھوڑے ،بھیڑ اور بکریوں کے مالک ہوتے ہیں ۔ان کی اصل زندگی قابل رحم ہوتی ہے ۔گھر میں زیادہ تر کھانے کی چیزیں نایاب ہوتی ہیں ۔دوپہر کا کھانا کبھی کبھی ہی نصیب ہوتا ہے ۔۔یہ لوگ صبح سویرے بھیڑ بکریوں  کے ساتھ چلے جاتے ہیں اور دن بھر بھوکے پیاسے ان کی رکھوالی کرتے ہیں ۔پھر شام ہوتے ہی اپنے اپنے ڈھیروں پر لوٹ کر چائے اور سوکھی روٹی کھاکر گزارا کرتے ہیں ۔ان کے بچے بھی کم خوراک کی وجہ سے کمزور اور بیمار  ہوتے ہیں ۔ان‌بچوں کی تفریح کے لیے کوئی انتظام نہیں ہوتا وہ معصوم اپنے والدین کی بدحالی میں ہی بڑے ہوجاتے ہیں اور ان ہی کے نقشے قدم پر چل کر اپنے زندگی کی دشواریوں کا سامنا کرتے ہیں یوں غربت اور افلاس نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے ۔
تعلیم کا ان لوگوں کو کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔والدین انپڑھ ہیں تو بچے بھی انپڑھ  رہتے ہیں ۔اسکول نام کی چیز بچوں کے زہن میں ہی نہیں ہے ۔حالانکہ تعلیم ہی وہ ہتھیار یا زریعہ ہے جو ان لوگوں کو پسماندگی کے ساتھ ساتھ جہالت کے اندھیروں سے نکال سکتی ہے اور فہم کی وسعت کو بڑھا سکتی ہے ۔بچوں کا جنم لینا ان کے لئے خوشی کا باعث اسلئے ہوتا ہے کیونکہ یہ بچے چند سال بعد ہی ان کے کام کاج میں ہاتھ بٹانا شروع کرتے ہیں اور پھر بڑے لوگ آذاد ہوکر ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارتے ہیں ۔اس طرح بچے کھیلنے کودنے کے بجائے زمہ داری اٹھاتے ہیں ۔اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو یہ طبقہ جو کہ ہماری تہزیب اور ثقافت کا حصہ ہیں کبھی بھی ترقی نہیں کریں گے ۔اگر سماج کے اس طبقے کو ہم قومی دائرے میں لانا چاہتے ہیں تو پھر ضروری ہے کہ ان کی آنیوالی نسلوں کو تعلیم کے نور سے منور کیا جائے ۔ان بچوں کے لئے ہوسٹل تعمیر کرنے ہونگے جہاں یہ والدین کے بغیر رہ سکیں گے اور گورنمنٹ کی مختلف اسکیموں جیسے دوپہر کا کھانا ، مفت کتابیں اور وردی کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی حاصل کر سکیں گے ۔
  یہ لوگ چونکہ پہاڑوں کے ٹیلوں اور جنگل بیابانوں میں رہتے ہیں تو کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں ۔جیسے پانی کی قلت ایک بہت بڑی سمسیا ہے ۔پانی کے لئے یہ لوگ پہاڑوں سے نیچے اتر کر کسی چشمے یا تالاب کا پانی یا تو گھوڑوں پر لے جاتے ہیں یا پھر زیادہ تر عورتیں سر پر ہنڑیاں اٹھا کر پہاڑوں کے خطرناک ڈھلانوں کو مات دے کر پانی کا انتظام کرتی ہیں ۔اس روزمرہ کے کام میں دن کا بیشتر حصہ چلا جاتا ہے اور پھر جلانے کے لئے لکڑی اکٹھا کرنی پڑتی ہے تاکہ کھانا تیار ہوسکے ۔یہ سب کام تھکا دینے والے ہوتے ہیں ۔ستم ظریفی دیکھئے پانی لانے کے لئے ان کے پاس موزوں برتن بھی نہیں ہوتے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کبھی کبھی گھوڑے ہونے کے باوجود بھی یہ ان کا استعمال نہیں کرسکتے ۔اگر ہر بکروال گھر کو گورنمنٹ چھوٹے چھوٹے ڈرم فراہم کرتی تو شاید پانی لانے کا یہ دشوار عمل آسان ہوجاتا یا کوئی دوسرا راستہ نکال کر جیسے مختلف جگہوں پر پانی سے بھری ٹنکیاں رکھ کر ان کی سختی کو دور کرنے کی کوشش کرتی تو بہتر ہوتا ۔
دن کے اجالے میں تو یہ لوگ خوشی خوشی زندگی گزار ہی لیتے ہیں لیکن جونہی رات کا اندھیرا بڑھنے لگتا ہے تو خوف و دہشت کا ماحول بھی بڑھنے لگتا ہے ۔گھروں میں روشنی کا معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اپنے سائے سے بھی کانپنے لگتے ہیں اور پھر جنگلی جانوروں کا لازمی خطرہ ان کو رات بھر سونے نہیں دیتا ۔بھیڑ بکریوں کی حفاظت کرتے کرتے ان کی نیند تک حرام ہوجاتی ہے ۔اس طرح ان کی زندگی میں سکون بھی نصیب نہیں ہوتا ۔شمسی توانائی پر چلنے والی بیٹریاں ، بلب، لالٹین اور دوسرے آلات سے اس کی بھرپائی کی جاسکتی ہے ۔مال مویشی کی حفاظت کے لئے ہنر مند کتوں کی فراہمی شاید سب سے بڑی امداد ہوگی کیونکہ کتے کو یہ لوگ اپنے اہل و عیال کا حصہ مانتے ہیں اور اس کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔اگر کتا مرجاتا ہے تو یہ لوگ بےبس ہوجاتے ہیں اور بے بس بھی ۔بھیڑ بکریوں کی ویکسینیشن کے لئے خاطرخواہ انتظامات کرنے کی ضرورت ہے ۔معصوم بچوں کی ایمیونئیزیشن کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ان کی کئی بچے پولیو کے شکار ہوئیے ہیں ۔ایک طرف جہاں ملک میں پولیو کو ختم کرنے کی مہم جاری ہے تو دوسری طرف گجر اور بکروالوں میں ابھی بھی یہ بیماری موجود ہے ۔
سرکار کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات سے یہ لوگ نہ صرف ناواقف ہیں بلکہ محروم بھی ہیں ۔طبعی معاملات کو ہی دیکھ لیجیے ماں بننے والی عورتوں کو آنگن واڑی کے زریعے فراہم ہونے والا پوشن یا مقوی غزا نہ بچوں کو ملتا ہے اور نہ ہی حاملہ عورتوں کو ۔جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ صحت مند بچے کو جنم نہیں دے پاتے ہیں ۔ہسپتالوں میں مہیا مختلف سہولیات کا فائدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں ۔اس ضمن میں اگر مختلف جگہوں پر ان کے لئے آنگن واڑی میلے  اور طبعی جانچ کے کیمپ لگائے جائیں تو بہتر ہوگا ۔
دور دراز علاقوں میں سڑکوں کا فقدان ہونے کی وجہ سے یہ لوگ بیماروں یا حادثوں کے شکار افراد کو ہسپتال نہیں پہنچا پاتے ہیں نتیجتاً ان کی بے وقت موت ہوجاتی ہے اور کئی قیمتی جانیں ضائع بھی ۔
محکمہ سماجی بہبودی کی طرف سے دیے جانے والے مختلف وضائف سے نہ صرف ان کے بچے محروم ہیں بلکہ بوڑھاپے کی پینشن سکیم سے بھی یہ لوگ استفادہ نہیں اٹھا پارہے ہیں ۔الغرض یہ لوگ نہ صرف مالی لحاظ سے پسماندہ ہیں بلکہ سوچ و بچار کے لحاظ سے بھی یہ لوگ بہت پیچھے ہیں ۔غربت ، افلاس ،بیماریاں ،قدرتی آفتیں اور زندگی کی دشواریوں نے ان لوگوں کو مفلوک الحال اور مایوس بنا دیا ہے ۔ان کی زندگی میں کوئی رنگ نہیں ،کوئی خوشی نہیں ،کوئی تمنا یا امنگ نہیں ،کوئی امید نہیں اور نہ ہی انہیں خود کو بدلنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔
خانہ بدوش لوگ ہمارے سماج کا ایک اہم حصہ ہیں ۔یہ ہماری تہزیب و تمدن اور ثقافت کا اٹوٹ انگ ہیں سو ان کی تہزیب اور ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور ان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے موثر ترین اقدامات اٹھانے کی بھی اشد ضرورت ہے ۔تاکہ تعلیمی ،اقتصادی اور ثقافتی لحاظ سے پچھڑا یہ قوم ترقی کی راہوں پر گامزن ہو اور ان کی نئی نسل خوشحال زندگی گزار سکے۔
کوڑ انیس کی ویکسینیشن مہم کو ان لوگوں تک پہنچانے کی بھی ضرورت ہے ۔
کھُل کولگام  990659816

تازہ ترین