ڈرونوںکا استعمال ایک نیا سیکورٹی چیلنج: دلباغ سنگھ

جموں ائرفورس اسٹیشن حملے میں سرحدپارکاہاتھ ہونے کے اشارے

تاریخ    21 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے جنگجوئوںکی جانب سے ڈرونوںکے استعمال کوایک نیا سیکورٹی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں ائربیس حملے میں پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ جنگجو ملوث ہیں ۔دلباغ سنگھ نے ایک انٹرویو کے دوران کہاکہ جنگجو گروپوںکی طرف سے ڈرونز کااستعمال نے سیکورٹی خطرات میں ایک نئی جہت پیداکی ہے اور گذشتہ ماہ جموں آئی اے ایف اسٹیشن جموں پر حملے کی تحقیقات میں پاکستان کے ریاستی اداروں جیسے آرڈی نینس فیکٹری کے تعاون سے غیرسرکاری عناصرکے ملوث ہونے کے اشارے مل رہے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ماضی میں ، سرحد پار سے ڈرونز کو ہندوستانی حدود میں کرنسی ، اسلحہ اور گولہ بارود گرانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور جنگجوئیانہ کارروائیوں میں بغیر پائلٹ کی فضائی گاڑیاں (یو اے وی) متعارف کروانے کے ساتھ ، اسے دیکھنے کیلئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔دلباغ سنگھ نے کہاکہ پہلے سرحدپار سے ہتھیاروںکویہاں پہنچانے کیلئے ڈرونز کااستعمال کیاجاتاتھا لیکن اب ڈرونز کودہشت گردانہ سرگرمیوں اورحملوں کیلئے بھی استعمال کیاجارہاہے ،جوسیکورٹی خطرات میں ایک نئی جہت کااضافہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ پچھلے سال ڈرونز کے استعمال کی شروعات ہوئی لیکن ہم اس خطرے سے نمٹنے کے لئے اپنے وسائل کو تیار کرنے میں کامیاب رہے۔ ڈی جی پی کاکہناتھاکہ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ اسلحہ اور منشیات اور دیگر دھماکہ خیز مواد لے جانے والے ڈرون کے استعمال کے معاملات میں پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کا ہماری سیکیورٹی گرڈ ، انسداد کارروائیوں میں بہت رولرہ رہا۔دلباغ سنگھ نے کہاکہ ہم لگ بھگ40ڈرونز میں سے تقریبا3232 سواریوں کو روکنے میں کامیاب رہے۔تاہم ، جموں انڈین ایئرفورس (آئی اے ایف) اسٹیشن پر 26 اور 27 جون کی درمیانی رات کے دوران جو کچھ ہوا ، جہاں ڈرون طے شدہ دھماکہ خیز مواد گرانے کے لئے استعمال کئے گئے تھے ، یہ ایک’انتہائی قابل مذمت واقعہ اور بہت ہی غلط قسم‘ کا کام تھا۔ انہوں نے کہا ، غیر ریاستی عناصر (جنگجوئوں) کو ممکنہ طور پر (پاک فوج یا آئی ایس آئی) کی حمایت حاصل ہے۔سرحد کے ساتھ ساتھ کچھ اضافی ٹیکنالوجیز کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔دلباغ سنگھ نے کہاکہ ہم اہم تنصیبات کے حوالے سے اضافی احتیاط برتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 
 
 

اننت ناگ میں14نوجوانوں کو ہتھیار اُٹھانے سے بچا لیا گیا: پولیس

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// اننت ناگ پولیس نے 14نوجوانوں کو عسکری صفوں میں شامل ہونے سے بچا لیا ۔ پولیس کے مطابق ان تمام نوجوانوں کی عمر 18سے 22سال کے بیچ کی تھی اور یہ تمام نوجوان عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطے میں تھے اور عسکری تنظیموں میں بھرتی ہونے کیلئے پاکستان میں مقیم عسکریت پسند لالچ دے کر انہیں آج ڈسٹرکٹ پولیس آفس اننت ناگ میں والدین کے حوالے کردیا گیا ہے۔  یہ نوجوان اننت ناگ ضلع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اس موقع پر ایس ایس پی اننت ناگ نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ رہیں اور یہ یقینی بنائیں کہ برے عناصر کو جرائم پیشہ سرگرمیوں کے لئے نوجوانوںکے ذہنوں پر اثر انداز ہونے کا موقع نہ ملے۔  انہوں نے کہا کہ نوجوان معاشرے کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ 
 
 
 

 

تازہ ترین