آئی آئی ٹی روپڑ کا کارنامہ

آکسیجن بچانے والی اپنی قسم کی پہلی مشین تیار

تاریخ    21 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی// طبی آکسیجن کے سیلنڈروں کی مدت کارکردگی میں تین گنا اضافہ کرنے کی غرض سے ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی روپرنے اپنی قسم کی پہلی آکسیجن راشننگ ڈیوائز [؟]اے ایم ایل ای ایکس تیارکی ہے ۔ یہ مشین مریض کے سانس لینے کے دوران مطلوبہ مقدارمیں آکسیجن سپلائی کرتی ہے اورجب مریض اپنے سانس کے ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتاہے ، تو یہ بندہوجاتی ہے ۔ اس عمل کے ذریعہ اس آکسیجن کی بچت کی جاتی ہے ، جو دوسرے طریقوں میں غیرضروری طورپر ضائع ہوجاتی ہے ۔اب تک ، یہ ہوتاتھا کہ سانس چھوڑنے کے دوران آکسیجن کے سیلنڈر یاپائپ میں موجود آکسیجن مریض کے ذریعہ سانس کے ساتھ چھوڑے جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ باہرچلی جاتی تھی ۔ اس بناپرآکسیجن کی ایک بڑی مقدار آخرکاربیکارچلی جاتی تھی ۔ اس کے علاوہ آکسیجن کی ایک بڑی مقدار سانس لینے اورسانس چھوڑنے کے درمیان ماسک کے کھلے ہوئے حصے سے ماحول میں شامل ہوجاتی ہے ۔ ہم نے دیکھا ہے کووڈ 19کی دوسری لہرکے دوران طبی آکسیجن کی مانگ میں کئی گنا اضافہ ہوگیاہے اوریہ مشین آکسیجن کو برباد ہونے سے بچائے گی ۔آئی آئی ٹی روپر کے ڈائرکٹرپروفیسرراجیو آہوجہ نے بتایا کہ یہ مشین قابل منتقلی بجلی کی سپلائی اور لائن سپلائی دونوں پرکام کرسکتی ہے ۔یہ مشین ادارے کے بائیومیڈیکل انجیئنرنگ ڈپارٹمنٹ کے پی ایچ ڈی کے طلباء مہت کمار ، رویندرکماراور امن پریت چندرنے ڈپارٹمنٹ آف بائیومیڈیکل انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹراشیش ساہنی کے نگرانی میں تیارکی ۔ڈاکٹرساہنی نے بتایاکہ یہ مشین آکسیجن سپلائی لائن اورمریض کے ماسک کے ساتھ آسانی سے جوڑی جاسکتی ہے ۔ اس میں ایک سینسرہوتاہے جوکسی بھی ماحول میں مریض کے سانس لینے اورسانس چھوڑنے کا پتہ لگالیتاہے ۔پروفیسرراجیو ارورانے بتایاکہ ملک کو اب کووڈ19کا مقابلہ کرنے کے لئے تیز رفتارلیکن محفوظ تدابیرکی ضرورت ہے ۔
 

تازہ ترین