تازہ ترین

یوم ِ عید ، سیرت ِ ابراہیمی کے چند درخشندہ اسباق

تاریخ    21 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


بشارت بشیر
شب و روز کی گردش کے بعد عید الاضحی پھر قدم رنجہ ہے رحمتوں اور برکات کی سوغات لئے ،یہ یوم عظیم اُس رجل عظیم کے ایثار اور مولیٰ کے احکام کی تعمیل میں سر تسلیم خم کرنے کی بے مثال ادائوں کویاد دلاتا ہے جسے کائنات ِ انسانی سیدنا ابراہیم ؑ کے نامِ نامی سے  جانتی ہے ۔ یوں تو اس بطل جلیل کا اپنے فرزند دل بند اسماعیل ؑکو ذبح کرنے کا واقعہ اس عید کا بنیادی پس ِ منظر بھی ہے لیکن مہر نیم روز کی طرح یہ حقیقت بھی چمکتی دھمکتی ہے کہ ابراہیم ؑ کی ساری زندگی اور مبارک سیرت اس عید کی بنیاد بھی ہے اور وجہ بھی!ہاں ذبیحہ کا یہ واقعہ قربانی کا نکتہ عروج ہے۔ دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ کامل طور ایک بت پرست معاشرے میں خلیل اللہ ؑنے آنکھ کھولی اور ساری زندگی آنکھ کھول کر چلے ، آنکھ بند کرکے اس معاشرے کے طرزِ عبادت اور رسوم و رواج کو نہیں اپنایا بلکہ تلاش حق ،جستجو اور تحقیق اس کا شعاررہا ۔ یہاں تک کہ اس کائنات کے مولیٰ کو پا گئے۔ وہ ہوائوں کے رخ پر سوار نہیں ہو ئے کہ جدھر وہ لے چلی اور چلے گئے بالکل نہیں۔ انہوں نے ہواؤوں کے غلط رخ کا ادراک کیا۔ اپنے سفر کی درست سمت کا تعین کیا۔ قرآن کی مبارک آیات اس بارے میں واضح ہیں کہ انہوں نے عقل و دانش اور غور و فکر سے کام لیا پھر منزل مراد کو پا گئے۔ انہوں نے فرمایا :{إِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَٰوَٰتِ وَلْأَرْضَ حَنِیفا وَمَآ أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ}’’میں کہ میں نے یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی جانب کر لیا جس نے اس آسمان و زمین کی تخلیق کی اورمیں مشرکین میں سے نہیں۔‘‘
 اس اصنام پرست معاشرے میں یہ اعلان انہوں نے شعور کی پوری بیداری کے ساتھ یہ جان کر بھی کیا کہ اس پاداش میں کس قدر مظالم و قہر ستم کا سامنا کرنا ہوگا۔ وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوئے اور اصل فوزو فلاح تو حاصل اسے ہی ہوتی ہے جو اس راہ کا راہ رو بنا۔صراط مستقیم ہاں سیدھا راستہ، اسے پانے کیلئے بے حد حساب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مل گیا تو پھر اس پر ثابت قدمی سے چلتے رہنا کو ئی آسان کام نہیں۔ ہر آن ہر معاملہ میں مولا کی مرضی کو دیکھنا ہوتا ہے ۔ نفسانی خواہشات کی تعمیل اور اناپرستی کا  یہاں کوئی عمل دخل نہیں، اس لئے تو قرآن نے خلیل اللہ ؑکوحنیف کہا کہ وہ جس کا ہو گیا پھر ساری زندگی اس کے احکام کی تعمیل میں جٹ گیا۔ یہ نکتہ بھی یہاں بہت اہم ہے کہ اپنی زندگی کے پہلے مرحلے میں ہی اس نے اپنے ’’چمکتے دھمکتے کیریئر ‘‘کو مسترد کیا ۔یعنی وہ اس ریاست کے سب سے بڑے پروہت کا بیٹا تھا جس کا ساری قوم میں ایک نام تھا ۔ دربارِ شاہی میں اسے خاص مقام حاصل تھا اور اس ملک کا سب سے بڑا گدی نشین تھا اور اس گدی سے آنے والی بے پناہ آمدنی اور اثر و رسوخ نے اس کے دل کو بھی پتھر بنا دیا تھا۔ ابراہیم گدی نشین بن جاتا تو دولت کی ریل پل ہوتی۔ وہ چلتے تو ہٹو بچو کی صدائیں ہوتیں وہ مادی بلندیوں کو چھوتے لیکن حق بات دل میں کیا اتری کہ یہ سب’’ شہرتیں اور عزتیں‘‘ ہیچ نظر آئیں اور ثابت فرمایا کہ مردان حق کے سامنے مال و دولت کی کوئی حیثیت نہیں اگر وہ سیدھے راستے سے بہکانے کا موجب ہو۔ بنا بنایا روزگار گدی نشینی کے پھلتے پھولتے کاروبارکو پایہ حقارت سے  ٹھکرانہ کوئی آسان کام نہیں ۔چشم فلک مسلسل دیکھ رہا ہے کہ آج بھی کتنے پڑھے لکھے لوگ نسل در نسل ایسے کاروبار سے خوب متمتع ہورہے ہیں ، موٹے تازے ہو رہے ہیں لیکن حق کی کوئی صدا ان کے پتھر دلوں کو موم نہیں بناتی اور نہ ان کے بہرے کان توحید کی عظمت آشنا ہوتے ہیں نہ ان کی کوئی حس شرک کی عفونت اور بدبو اُنہیں محسو س ہونے دیتی ہے ۔ بہر حال اللہ کا کرم شامل حال ہو تحقیق اور تلاش حق کا جذبہ ہو تو ہدایت کا راستہ مل ہی جاتا ۔ 
براہیمی زندگی کا ایک اور تا بناک رخ ہے کہ حق کو پانے کے لئے انہوں نے جس عقل و دانش کا استعمال کیا۔ اسی حق پر عمل کرنے کیلئے اسی منطق ِعقل کو بالائے طاق رکھا اور یہاں سے ہی اللہ سے محبت کے بے لوث چشمے پھوٹتے نظر آتے ہیں۔ حق پر عمل کرنے کا جب موقع آیا۔ تو یہ منطق نہیں لگائی کہ آگ میں کودنے سے انسان جل بھن جاتا ہے، خوابوں کی تعبیر اور دعائوں کی اجابت بیٹے کو خواب میں ہی ذبح کرنے کے اشارے کیا ملے فوراً ایسا کرنے پر آمادہ ہوئے۔منطق یہ نہیںلگائی کہ بھلا کسی باپ نے اپنے اب تک کیا اپنے بیٹے کو بھی ذبح کیا ہے ؟نہ سبب پوچھا اور نہ علت ____ یوں مسند خلیلی ؑپر متمکن ہوئے اورامام النا س کہلائے۔بتائیے کون سی محبت ہے جو انہوں نے اپنے مولیٰ کی محبت پر قربانی نہ کی باپ کی محبت سے محروم ہوئے ، وطن سے اُنس و تعلق چھوڑ دیا ۔اور اسے خیر باد کہہ کے چل دئیے اپنی جان کی محبت کو قربان کرکے نمبرود میں کو دپڑے و فاشعار بیوی کی محبت کو اسے بے آب و گیاہ ریگستان میں اللہ کی محبت میں ہی چھوڑ کر چل دیئے۔ معصوم بیٹے کو لق و دق صحرا میں اتارا اورپھر واپس ہوئے ۔وہ جواں ہوا تو اسے بھی خواب میں ملے اشارہ کی بنا پر زیر خنجر لانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ غرض کون سی محبت ہے وہ جسے اللہ کی محبت پر قربان کرنے سے وہ رہ گئے ہوں۔ قربانی کے سارے مراحل کامیابی سے طے ہوئے ۔ رب کائنات نے اسے امامت انسانیت کے مقام بلند پر فائز کیا۔ آج بھی ان کے نام کا نقارہ بج رہا ہے۔ ان کی یادیں تازہ ہیں۔ درودوں میں دعائوں میں ممبر و محراب میں، نمازوں میں ، خطابات میں، کوئی عبادت مکمل نہیں جس میں اس امام انسانیت کا ذکر مبارک نہ ہو۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ اسے امامت کا منصب عظیم مل گیا تو وہ اپنی ذریت کو نہیں بھولا ایک دم کہا: ’’مولیٰ !کیا میری نسل کے حوالہ سے بھی یہی وعدہ ہے دوٹوک جواب ملا 
میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں۔‘‘[بقرہ]
 گویا یہ منصب ِ عظیم،پیشوائی اور اُمت کی امامت وراثت میں نہیں ملتی نسب در نسب اور نسل در نسل نہیں چلتی ۔ یہ کوئی لیبل نہیں کہ اوپر سے عیسوی، موسوی اور براہیمی ؑچپکا دی جائے تو سند کامیابی مل جائے گی۔ یہی بات ایک بڑے صاحب فکر نے کہی ہے کہ نہیں کہ یہ صرف اعمال کے ساتھ وابستہ ہے اور اس سے والہانہ تعلق اور اس کے احکام کی بلا چون و چرا تعمیل ہی فائز المرامی کی دلیل ہے ۔ اسی لئے قرآن نے کہا: {تِلْکَ أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ  لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَا کَسَبْتُمْ  وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا کَانُوا یَعْمَلُونَ}[بقرہ]’’وہ کچھ لوگ تھے جو گزر گئے جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے لئے تھا، جو کچھ تم کرو گے وہ تمہارے لئے ہے تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے ۔‘‘بہر حال عید الضحیٰ کا پیغام یہی ہے کہ ہم سب پہلے شرکیہ اعمال و افعال سے متنفر ہوں۔ یاد رکھئے شرک عفونت ہے بد بوہے تلاش ِ حق نہیں کرو گے ۔تعصب کی عینک نہیں نکالو گے تو شرک جو ایک وباء ہے روحانی وبا، وہ نسل در نسل روحانی ہلاکت کا باعث بنتی رہے گی لیکن ادر اک نہیں ہوگا۔ براہیمی ؑشیوہ یہی ہے کہ فہم و دانش اور عقل و خرد سے کام لے کر بتان وہم و گمان سے بیزار ہو کر سماجی رسوم کی دیواروں کو توڑ کر کا مل یکسو ہوکر صرف اللہ کی جانب رخ لیا جائے تو موحد کہلاؤ گے اور روح تر و تازہ رہے گی ۔ بدنی لحاظ سے کتنے کمزور ہوں آپ، اور اگر شرک کی ہلاکت خیزیوں کا ادراک نہیں کیا۔ تو یہ وبائی بیماری ، روحانی وجود کو دھڑام سے گرا دے گی۔ رجوع الی اللہ کے سوا اس کا کوئی علاج نہیں قطعاً نہیں اور کہیں بھی نہیں ۔ یہ جو آج بدنوں کو لگ رہی کرونائی وباء ہے اس کے علاج کی ہمیں فکر تو ہے ۔ ہم احتیاط اور علاج سے کام لیتے ہیں۔ لینا چاہیے یہ روحِ شریعت ہے لیکن یہ بھی دیکھئے ذرا کہ شرک کے اس وبائی مرض کے حوالہ سے ہم کتنے حساس ہیں اس کا علاج صرف توحید آشنائی اور اس پر عمل پیرائی میں مضمر ہے اور کہیں بھی نہیں کسی کے پاس بھی نہیں ۔
فون نمبر۔ 9419080306
 

تازہ ترین