تازہ ترین

قربانی کا اصل مقصد اور ہمارا معاشرہ

تاریخ    21 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر عاشق حسین
قر بان کا لفظ صدقہ اورقربانی دونوں کے لیے آتا ہے ۔ جوچیز بھی اللّٰه کے حضور قربِ اِلٰہی کے مقصد سے پیش کی جائے وہ قربان ہے اورقربانی کہلاتا ہے ۔ قربانی تسلیم ورضا اورصبر وشکر کا وہ امتحان ہے کہ جس کو پورا کیے بغیردنیا کی پیشوائی اورآخرت کی کامیابی نہیں ملتی ہے ۔ اصل میں اللّٰهِ‎  کے سامنےاپنے تمام جذبات ، خواہشات، تمناؤں اورآرزؤں کوقربان کردینا ہی قربانی ہے۔
قربانی اگر چہ ایک مختصر لفظ ہے ،لیکن انسانی زندگی میں اس کی غیرمعمولی اہمیت ہے۔ اس کی ضرورت انسان کو اپنی زندگی کے مختلف مقامات پر اور مختلف انداز میں پڑتی ہے۔ ساتھ ہی ہر قربانی کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصدہوتاہے۔ انسان جواپنی زندگی کے مختلف مسائل میں الجھا ہوتاہے،اسے قدم قدم پر قربانی دینی پڑتی ہے  اور مقصد جتناعظیم ہوتاہے قربانی بھی اتنی ہی بڑی ہوگی۔ مثلاًانسانی زندگی کا مقصد اطاعت الٰہی ہے جوتقرب الٰہی اور کیفیت تقویٰ کے بغیرممکن نہیں اور یہ تقرب الٰہی ،کیفیت تقویٰ کے بغیرحاصل نہیں ہوتی لہذا اطاعت کیلئے قربانی ضروری ہے۔
حلال جانور کو بہ نیتِ تقرب ذبح کرنے کی تارِیخ حضرت آدَم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل وقابیل کی قربانی سے ہی شروع ہوجاتی ہے، یہ سب سے پہلی قربانی تھی، 
حق تعالیٰ جلَّ شانُہ کا اِرشاد ہے: ”وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ م اِذْقَرَّ بَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ‘‘(۱)
:اور آپ اہلِ کتاب کو آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ صحیح طور پر پڑھ کر سنا دیجیے، جب ان میں سے ہرایک نے اللّٰهِ‎ کے لیے کچھ نیاز پیش کی تو ان میں سے ایک کی نیاز مقبول ہوگئی، اور دُوسرے کی قبول نہیں کی گئی۔‘‘
 اِس آیت کے تحت حضرت اِبن عباس رَضی اللّٰهِ‎ عنہ سے رِوایت نقل کی ہے کہ ہابیل نے مینڈھے کی قربانی کی اور قابیل نے کھیت کی پیداوار میں سے کچھ غلہ صدقہ کرکے قربانی پیش کی، اُس زمانے کے دستور کے موافق آسمانی آگ نازل ہوئی اور ہابیل کے مینڈھے کو کھا لیا، قابیل کی قربانی کو چھوڑ دِیا۔
اِس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا عبادت ہونا حضرت آدَم علیہ السلام کے زمانے سے ہے اور اس کی حقیقت تقریباً ہرملت میں رہی؛ البتہ اس کی خاص شان اور پہچان حضرت اِبراہیم و حضرت اِسماعیل علیہما السلام کے واقعہ سے ہوئی، اور اسی کی یادگار کے طور پراُمتِ محمدیہ پر قربانی کو واجب قرار دیا گیا۔
قرآنِ کریم میں تقریباً نصف دَرجن آیاتِ مبارکہ میں قربانی کی حقیقت ، حکمت اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔ سورة حج میں ہے:
وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ لَکُمْ فِیْھَا خَیْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْھَا صَوَآفَّ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُھَا فَکُلُوْا مِنْھَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ط کَذٰلِکَ سَخَّرْنٰھَا لَکُمْ لَعْلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ
’’اور ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اُونٹوں کو عبادتِ اِلٰہی کی نشانی اور یادگار مقرر کیا ہے، ان میں تمہارے لیے اور بھی فائدے ہیں، سو تم اُن کو نحر کرتے وقت قطار میں کھڑا کرکے اُن پر اللّٰهِ‎ کا نام لیا کرو اور پھر جب وہ اپنے پہلو پر گر پڑیں تو اُن کے گوشت میں سے تم خود بھی کھانا چاہو تو کھاوٴ اور فقیر کو بھی کھلاوٴ، خواہ وہ صبر سے بیٹھنے والا ہو یا سوال کرتا پھرتا ہو، جس طرح ہم نے اِن جانوروں کی قربانی کا حال بیان کیا، اِسی طرح اُن کو تمہارا تابع دار بنایا؛ تاکہ تم شکر بجالاوٴ!
اسلام میں تصور قربانی نہایت ہی پاکیزہ، اعلیٰ اور افضل ہے۔ تاجدار کائنات صلی اللّٰهِ‎ علیہ وآلہ وسلم نے سنت ابراہیمی یعنی قربانی کا جو تصور دیا وہ اخلاص اور تقوی پر زور دیتا ہے۔ قربانی اور تقوی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ عید الاضحی کے روز ہر مسلمان اس عظیم الشان قربانی کی یاد تازہ کرتا ہے جو رویائے صادقہ پر منشائے خداوندی سمجھتے ہوئے حضرت ابرہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے پیش کی تھی۔خلوص اور پاکیزہ نیت سے اللّٰهِ‎ کی راہ میں دی گئی قربانی انسان کے دل میں غمگساری، ہمدردی، مخلوق پروری اور دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
قربانی کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور شیطانی قوتوں کو خائب وخاسر بنانا ہے۔ قربانی کی اصل روح انسان میں تقویٰ کو پروان چڑھانا ہے نہ کہ محض جانور قربان کر کے گوشت اور خون اس کی نذر کرنا ہے کیونکہ اللّٰهِ‎ تعالیٰ کو بھی ذبیح جانور کا گوشت اور خون نہیں بلکہ دلوں کا تقویٰ اور اخلاص پہنچتا ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:
لَنْ يَّنَالَ اﷲَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـکِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ.
ہرگز نہ (تو) اﷲ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے
 صاف ظاہر ہکہ عیدالاضحی کا مقصد جذبۂ قربانی کو بیدار کرنا اور اپنی عزیزسے عزیزترچیز کوحکم ربانی کے مطابق رضائے الٰہی کے حصول میں قربان کرنے کا حوصلہ پیداکرنا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی مقصد ِزندگی کے تمام شعبوں میں اپنی خواہشات پر رب کائنات کی مرضیات کو ترجیح دینا ہی قربانی ہے۔ یہ دراصل انسان کی عملی زندگی کا ایک امتحان ہے، جس سے اسکے اندرنکھار اور حسن پیدا ہوتا ہے۔ عربی کا مقولہ ہے کہ جوشخص جس قدر آزمائش سے دوچارہوگا اور اس میں وہ ﷲ تعالیٰ کے احکام کو ترجیح دے گا وہ شخص اسی قدر ﷲ تعالیٰ کا محبوب اور اس کا عزیز تربندہ ہوگا۔ قربانی ﷲ تعالیٰ کے تقرب کا ایک ذریعہ ہے- قرآن میں ارشاد ہے: ’’ہرامت کیلئے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقررکردیاہے تاکہ (اس امت کے) لوگ ان جانوروں پر ﷲ کا نام لیں جواس نے ان کو بخشے ہیں (الحج)۔
انسانی زندگی عقیدت و فدائیت ، عشق ومحبت، خود سپردگی ، عجزو نیاز اور پرستش و عبدیت سے عبارت ہے ۔ حواس خمسہ کے ساتھ انسان کو ان اوصاف کا خاصہ بھی عطا کیا گیا ہے ۔ وہ اپنے ان ہی جذبات کی تسکین اوراپنے محبوب ومقصود کی رضا و خوش نودی حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کے جتن کرتا آیا ہے۔ اس کی خاطر اپنی جان، اپنا مال ، اپنے جذبات اور اپناسب کچھ قربان کرنے کے لیے ہر وقت آمادہ وتیار رہتا ہے ۔ اسی انسانی فطرت کی تسکین اور حقیقت کےاعتراف کے طور پر مسلمانوں کوعید الاضحیٰ (عید قرباں) عطا کی گئی ہے ، جوفطرت کے عین مطابق ہے ۔
ہم ہرسال قربانی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ کچھ لوگ کچھ خصوصی نشانیوں والی بھینسیں، بکرے ،بھیڑیں، لاکھوں کی رقم میں خریدتے ہیں اور پوری نمائش کے ساتھ رسم قربانی ادا کر تے ہیں، لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ قربانی کا پیغام کیاہے، اس کا مقصد کیاہے۔ہم اللّٰه تبارک وتعالیٰ کی کلام قرآن مجید  میں واضح طورپر کہی گئ  بات  کہ اللّٰه کو قربانی کا گوشت اورخون نہیں پہنچتا اس تک توتمہاراتقوی پہنچتاہے, کو پوری طرح بھول جاتے ہیں اور نتیجتاً یہی تقویٰ جو قربانی کا حقیقی پیغام ہے ہم سے غائب ہورہاہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ قربانی محض ایک رسم اورنمود ونمائش کا موقع بن کر رہ گئی ہے۔
قربانی سے قبل ہم اس سچائی کو فراموش کرچکے ہیں کہ خالق کائنات کی خوشنودی کا راستہ اس کی مخلوق کی حقوق کی ادائیگی سے ہو کر جا تا ہے، حقوق العباد کے بغیر حقوق اللّٰه بے سود ہیں، عید الاضحیٰ کے موقع پر اللّٰه کے حکم سے جو قربانی کی جاتی ہے اس میں حضرت ابراہیمؑ کے جذبہ قربانی کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ آپس میں محبت، برداشت، ایثار و قربانی کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ کامیابی کے لیے قربانی ضروری ہے لیکن جانور کی قربانی سے پہلے اپنی خواہشات کی قربانی اور تزکیہ نفس ضروری ہے۔ آج ہم نے جانوروں کی گردنوں پر چھریاں چلانے کی رسم تو اپنالی، لیکن سنت ابراہیمی کو فراموش کرتے ہوئے اپنے نفس کو بے لگام چھوڑ چکے ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم جو بھی عبادت کرتے ہیں اس کا مقصد اللّٰه کی خوشنودی اور اسکی رضا ہے۔ اگر قربانی کرتے ہوئے یہ جذبہ موجود نہیں تو صرف ایک رسم پوری ہوگی باقی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ عید الاضحیٰ کا دن یہ سوچنے کی تحریک دیتا ہے کہ اللّٰه کی خوشنودی کی خاطر بہت سی خواہشات کی قربانی دینا ضروری ہے، یعنی ہمیں صرف مال و زر ہی خرچ نہیں کرنا ہے، بلکہ اپنے اندرقربانی کی اصل روح بھی بیدار کرنی ہے جو کہ سال کے بقیہ دنوں تک ہماری ذات کا حصہ بنی رہے اور ہم سال بھر چھوٹی چھوٹی قربانیاں دیتے رہیں، تا کہ آئندہ آنے والی عید الاضحی پرہم ایک بار پھر اسی نیک نیتی اور صحیح روح کے ساتھ بڑی قربانی کر سکیں۔ 
 اس لئے عید الاضحی کا دن لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرنا چاہیے کہ اللّٰه  کی خاطر بہت سی خواہشات کو قربان کرنا پڑتا ہے ، نہ صرف ہمیں پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے ، بلکہ ہمیں اپنی داخلی قربانی کی حقیقی روح کو بیدار کرنا بھی ہے جو ایک اہم حصہ ہے۔ لہذا ہر ایک کو چاہئے کہ وہ تمام مذہبی تہواروں کو اپنی عین تقاضوں کے مطابق منانے کی کوشش کریں اور اپنے اس مذہب کی نمائندگی اس طرح کریں کہ دوسرے مذاہب کے پیروکار ان تہواروں کو محض تفریح ​​کا ذریعہ نہ سمجھیں۔ اپنی قربانی کے جذبے اور خود سے خلوص کے بارے میں سوچیں ، اپنے عمل کو درست کرنے کی کوشش کریں اور جانوروں کی قربانی کے ساتھ اپنی جھوٹی انا اور خواہشات کو بھی قربان کریں۔ جو مسلمان آج قربانی دے رہے ہیں وہ حضرت ابراہیم (ع) کے عظیم عمل کی یاد تازہ کررہے ہیں۔ یہ انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں رب کائنات کی خوشنودی کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیں۔ در حقیقت، یہ کسی شخص کی عملی زندگی کا امتحان ہے ، جو اس کی اندرونی خوبصورتی کو پیدا کرتا ہے۔
( اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ ڈگری کالج چھاترو )
Contact: 9622225444
 email: joinchemistry@gmail.com
 

تازہ ترین